02:05 pm
جذباتی  و پیٹریاٹس حکومتیں

جذباتی  و پیٹریاٹس حکومتیں

02:05 pm

اس کالم کو کل کے شائع شدہ کالم کاتسلسل بھی سمجھئے۔ میں نے آج صبح بزرگ ماہر نجوم سے ذکر کیا تو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک تیار ہو رہی ہے جبکہ لاہور میں مقیم وجدانی بزرگ بھی کہہ چکے تھے کہ 6جنوری امریکہ کے لئے کافی سخت ہے۔ لاہور میں مقیم زمرد نقوی کا کہنا تھا کہ جنوری کا آغاز، صدر ٹرمپ، منتخب صدر جوبائیڈن اور وزیراعظم عمران خان کے لئے کافی سخت ثابت ہوگا۔ حیرت اور تعجب ہے کہ عمران خان مچھ المیہ میں 3جنوری سے پھنس گئے۔ انہیں بلیک کرنے والے اپوزیشن کے رہنما نہیں تھے کہ انہوں نے تو سیاست کرنا ہی تھی مگر ان کی سیاست بازی کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا بلکہ بلیک میل وہ کرتے ہیں جو آپ کے دوست بن کر اردگرد ہوتے ہیں۔ بظاہر آپ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ آپ کے ساتھی بھی ہوتے ہیں۔ یا سیاسی اتحادی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس بات کو قبول کرنے سے قاصر ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کوان کے سیاسی دشمنوں اور اپوزیشن قیادت نے بلیک میل کیا۔ جی نہیں ہرگز نہیں بلکہ انہوں نے وہی کیا جو کچھ ان کا سیاسی مفاد تھا۔
وزیراعظم کو ان کے اردگرد کے مخصوص سوچ، فکر، ذاتی تعلقات کا اشتہار دینے والوں اور اتحادیوں نے بلیک میل کیا ہے یوں تقریباً ہفتہ بھر وزیراعظم بلیک میل ہوتے رہے ہیں۔ یہ پیش گوئی زمرد نقوی کی تھی جو پوری ہوچکی ہے۔ کیا وزیراعظم ایسے سیاسی اتحادیوں، مخصوص سوچ کے مشیران کو اب الگ کر سکیں گے؟
صدر ٹرمپ کے لئے، ریبپلکن کے لئے ، امریکہ پارلیمان کے لئے چھ جنوری اور سات جنوری بہت بھاری ثابت ہوچکی ہے صدر ٹرمپ کے ذاتی عشاق ( پیٹریاٹس امریکی) نے پارلیمنٹ کے اندر گھس کر مشترکہ پارلیمانی اجلاس کو تہہ تیغ کر دیا، تشدد کا استعمال ہوا۔ لاٹھیاں اور دیسی ساختہ بمبوں کا استعمال ہوا، چیئرمین ۔۔، نائب صدر، جونینسی اسپیکر کانگرس کے ساتھ اجلاس کی مشترکہ صدارت کر رہے تھے، دونوں کو بھاگنا پڑا۔ امریکہ کی تاریخ میں صرف اٹھارہویں صدی میں ایک ایسا واقع مرقوم ہے۔ مگر اس وقت حملہ آور برطانوی ایمپائر کے لوگ تھے۔ مگراب کی مرتبہ امریکہ کے اپنے عوام نے بھی پارلیمنٹ پہ دھاوا بولا تھا۔ اب 16اور 17جنوری کافی سخت ہے۔ بزرگ ماہر نجوم کا کہنا ہے کہ جو کچھ اب امریکہ میں ہو رہا ہے۔ مداخذے کی تحریک، یا جو کچھ 16-17جنوری کو ہوگا وہ 20جنوری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے لہٰذا منتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری کو اتنا آسان نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ یہ معاملہ شائد انتشار، انارکی بن کر طویل بھی پکڑ سکتا ہے۔ حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب بزرگ ماہر نجوم  نے بتایا کہ اس وقت امریکہ پاکستان کے سیاسی معاملات نجوم میزان میں تو یکساں دکھائی دیتے ہیں جو کچھ امریکہ میں ہوچکا ہے، اس کی ہلکی سی جھلک اگر ہمیں پاکستانی سیاست اور حکومتی انداز حکمرانی میں بطور نقائص نظر آتی ہو تو یہ برداشت کرنا ہوگا۔ کیونکہ دونوں ممالک میں ’’مدبرین‘‘ کی حکومتیں نہیں ہیں۔ بلکہ اشتعال، جذبات کی حکمرانی ہے۔
پچھلے کالم میں لکھ چکاہوں کہ 6جنوری سے اگلے45دن نجوم میزان میں مارشل لاء لگنے کے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ہمارے آرمی چیف، جنرلز، کورکمانڈر ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ ویسے بھی مارشل لاء لگا کر ملک کو چلائیں گے کیسے؟ معاشی مسائل کہاں سے حل کریں گے؟ جبکہ سر پر انڈیا کی تخریب کاری، سرحدوں پر بھارتی سخت دبائو، اور متوقع جھڑپوں کے بعد جنگ کے معاملات بھی نمودار ہوسکتے ہیں کل کے دوست عرب ہم سے ناراض ہیں۔ عمران خان کی ذات کے لئے آنے والے دنوں کو اگر سخت سمجھا جائے۔ تو درست ہوگا، اگر عمران خان کے پاس اپنی عددی اکثریت ہوتی تو اب کے ’’وار کابینہ‘‘ موجود ہوتی شائد ابھی اسے آئینی بحرانوں سے بھی نمٹنا ہوگا۔ 
سپریم کورٹ میں خفیہ ووٹ کے حوالے سے صدارتی ریفرنس کے اختتام پر معاملات واضح ہونگے۔ جبکہ  حامد خان ایڈووکیٹ، عمران خان کے آئینی کزن، حکومت کی خواہش کے ناتمام ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں بلکہ اس ریفرنس کوشش کو غلط کہہ رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں ایک واقعہ سپریم  کورٹ پر حملہ کا بھی تاریخ میں رقم ہے۔ جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ برادر ججز کا سینارٹی کی بنیاد پر اختلاف ہوا۔ اختلاف کرنے والے برادر ججوں کو وزیراعظم نواز شریف کی حمایت حاصل تھی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب  شہبازشریف تھے، انہوں نے لاہور سے بسوں میں بھر کر مسلم لیگی پیٹریائس کو سپریم کورٹ کو فتح کرنے بھیجا تھا۔ یہ معرکہ پوری قوت سے سر کرلیا گیا تھا۔ اور فاتحین پیٹریائس کو پنجاب ہائوس اسلام آباد میں قیمے والے نانوں کا ظہرانہ دیا گیا تھا۔ کیسی دلچسپ مماثلت ہے کہ صدر ٹرمپ کاروباری آدمی ہے۔ وہ غیر سیاسی خاندان کا کردار ہے۔ اپنی دولت کے زور پر وہ ریپبلیکن نامزدگی چھیننے میں کامیاب رہا بلکہ سچ مچ کا صدر بھی بن گیا۔ میاں نواز شریف کاروباری میاں محمد شریف کے ہونہار بیٹے ہیں۔ میاں شریف کے تعلقات نے انہیں جنرلز کے ساتھ منصب دلوایا۔ انہوں نے اپنی دولت کی بنیاد پر ترقی پائی۔ دولت کی بنیاد پر ہی ہر مخالفت کو فتح کیا۔ ججوں میں لابیاں، بیورو کریسی میں ذاتی لابیاں اور خدا کی شان دیکھیں جس صدر غلام اسحاق نے وزیراعظم بنوایا تھا۔ جنرل حمید گل کے ذریعے، اسی طرح اس کی حکومت ختم کی۔ پھر جنرل وحید نے ختم کی، جنرل مشرف نے ختم کی، تیسری مرتبہ کی وزارت عظمیٰ کو عدالت نے ختم کر دیا۔ وہ سرکوں پر عوامی دبائو بڑھاتے ہوئے پوچھتے رہے کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ اب صدر ٹرمپ شور مچا رہے ہیں۔ کہ مجھے کیوں نکالا؟
اسٹیبلشمنٹ نے شریف خاندان کی اقتدار کہانی کو بھٹو کا راستہ روکنے کے لئے ایجاد کیا تھا مگر آخری باب یہ کہ خود اسٹیبلشمنٹ اور ریاست دولت مند شریف اقتدار سے ’’ نکو نک رج‘‘  گئی تھی۔ میں عمران خان سے التجاج کرتا ہوں کہ وہ جذبات، اشتعالی تقریرین کرنے کی عادت سے نجائیں پائیں بلکہ مدبر بنیں، بہت کم بولیں، جو بولیں تول کر بولیں۔ اگر عمران خان صرف چھ ماہ میری التجاء پر عمل کرلیں گے تو طویل مدت تک انشاء اللہ حکمران رہیں گے۔ مگر ایسی طویلی حکمرانی ’’مدبر‘‘ کے لئے تو موجود ہوگی مگر اشتعالی، غصے بہت زیادہ بولنے، ہر وقت تقریریں کرنے والے کے لئے شائد بہت سی اپنے ہاتھوں سے پیدا کردہ مشکلات پیدا ہوتی رہیں گی، ریاست و عوام کو ’’مدبرین‘‘ کی وزارت عظمیٰ اور کابینہ درکار ہے۔ ’’پیٹریاٹس‘‘ کی نہیں، اشتعال، غصے،جذباتیت کی نہیں۔ ہرگز نہیں۔

 

تازہ ترین خبریں

 خیبرپختونخوا میں 73فیصد سروے مکمل کرلیا ، طلبہ کو جلدسکالرشپ دینگے،ثانیہ نشتر

خیبرپختونخوا میں 73فیصد سروے مکمل کرلیا ، طلبہ کو جلدسکالرشپ دینگے،ثانیہ نشتر

سندھ ایپکس کمیٹی کا5ماہ بعد اجلاس ،نیشنل ایکشن پلان پر غور

سندھ ایپکس کمیٹی کا5ماہ بعد اجلاس ،نیشنل ایکشن پلان پر غور

عمران خان ہی 2023تک وزیراعظم ر ہیںگے،گورنرپنجاب

عمران خان ہی 2023تک وزیراعظم ر ہیںگے،گورنرپنجاب

پی ڈی ایم کی وجہ سے لعنت بھیجنے والوں کو آج پارلیمنٹ یادآیا،رانا ثنا اللہ

پی ڈی ایم کی وجہ سے لعنت بھیجنے والوں کو آج پارلیمنٹ یادآیا،رانا ثنا اللہ

مریم نوازآج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گی

مریم نوازآج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گی

استعفے یاعدم اعتماد،ہمارا مقصدنااہل حکومت کو گھربھیجنا ہے،قمرزمان کائرہ

استعفے یاعدم اعتماد،ہمارا مقصدنااہل حکومت کو گھربھیجنا ہے،قمرزمان کائرہ

بلاول کابیان ایک رائے،اسے اختلافات نہیں کہا جاسکتا،عظمیٰ بخاری

بلاول کابیان ایک رائے،اسے اختلافات نہیں کہا جاسکتا،عظمیٰ بخاری

ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا ؟محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی

ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا ؟محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی

زرداری نے پی ڈی ایم کو استعمال کرلیا،پیپلزپارٹی اتحاد سے جلد الگ ہوجائیگی،فواد

زرداری نے پی ڈی ایم کو استعمال کرلیا،پیپلزپارٹی اتحاد سے جلد الگ ہوجائیگی،فواد

میر پور میں شادی کی تقریب غم میں تبدیل ، کرنٹ لگنے سے 3 افراد جاں بحق

میر پور میں شادی کی تقریب غم میں تبدیل ، کرنٹ لگنے سے 3 افراد جاں بحق

28جنوری کی شب چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

28جنوری کی شب چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

مظفر گڑھ میں خواجہ سرائوں نے پریس کلب کھول لیا

مظفر گڑھ میں خواجہ سرائوں نے پریس کلب کھول لیا

چنیوٹ میں خون سفید ہوگیا ۔۔۔ سفاک شوہر نے بیوی اور 7 ماہ کی بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیا

چنیوٹ میں خون سفید ہوگیا ۔۔۔ سفاک شوہر نے بیوی اور 7 ماہ کی بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیا

خواجہ سرا کو مرد پولیس اہلکار گرفتار نہیں کر سکے گا

خواجہ سرا کو مرد پولیس اہلکار گرفتار نہیں کر سکے گا