03:01 pm
سانحہ کوئٹہ، وزیراعظم حاضر، وزیراعلیٰ غائب

سانحہ کوئٹہ، وزیراعظم حاضر، وزیراعلیٰ غائب

03:01 pm

٭کوئٹہ سانحہ، وزیراعظم کے جانے کا اعلان، وزیراعلیٰ چار روز سے دبئی میںO سپریم کورٹ، کرک: مندر گرانے والے مولوی سے اخراجات وصول کرنے کا حکمO بنوں، اپوزیشن کا جلسہ، سخت سردی، بارش کی پیش گوئیO کرونا۔59 ہلاک، 1947نئے مریض،2219 کی حالت تشویش ناکO چینی 90 سے100 روپے کلوO کرکٹ، نیوزی لینڈ میںذلت آمیز شکستوں کے بعد 54 رکنی لشکر کی واپسی، کروڑوں کے اخراجات O پنجاب، وزراء و ارکان اسمبلی سے 460 ایکڑ سے زیادہ (5500 کنال) سرکاری اراضی واگزارO ٹرمپ، امریکی کانگریس (سینٹ+ ایوان نمائندگان)  میں ووٹوں کی حتمی گنتی! ٹرمپ کامیابی کا منتظرO کور کمانڈرز کی اہم کانفرنس، اہم فیصلےO لاہور، کچرے کے ڈھیر بارش سے حالت مزید خرابO مولانا فضل الرحمان کے چار قریبی ساتھیوں کے خلاف ریفرنس دائر، غیر قانونی اثاثے بھرتیاں۔
٭بالآخروزیراعظم کو کوئٹہ جانا پڑا۔ کوئٹہ کے نواح میں 3 جنوری کو کوئلہ کی کان کے 11 محنت کشوں کو دہشت گردوں نے وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا تھا۔ وزیراعظم کو فوری اطلاع مل گئی مگر انہوں نے فوری طور پر وہاں آنے کی بجائے وزیر داخلہ کو بھیج دیا۔ اس بات کی بار بار تشہیر کی گئی کہ وزیرداخلہ کو وزیراعظم کے خصوصی طیارے سے بھیجا گیا ہے۔ کوئٹہ میں مظاہرین نے 11 لاشیںسڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا اور ٹریفک بند کر دی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وزیراعظم خود آئیں۔ اس کے بعد لاشیں دفن کی جائیں گی۔ یہ دھرنا چار روز جاری رہا۔ ہر قسم کی بات چیت کی ناکامی کے بعد بالآخر وزیراعظم نے کوئٹہ جانے کا فیصلہ کیا۔ انہیں چار روز تک اس سنگین المیہ پر توجہ دینے کی فرصت نہ مل سکی۔ (روزانہ تقریریں بہت ضروری تھیں) چلیں، وزیراعظم کا تو پھر بھی کوئٹہ جانے کا اعلان ہو گیا، کالم کی اشاعت تک خبر آ چکی ہو گی۔ مگر وزیراعلیٰ بلوچستان سردار جام کمال!! چھ روز سے دبئی کی نئے سال کی تقریبات وغیرہ میں مصروف! 3 جنوری کو انہیں اس سانحہ کی اطلاع مل گئی مگر انہیں واپس آ کر صورت حال سنبھالنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ کالم کی تحریر کے وقت خبر آئی ہے کہ موصوف بالآخر، بادل نخواستہ، صوبہ میں واپس آ رہے ہیں۔ اتنے روز نہ آنے کا عذر یہ پیش کیا ہے کہ آنے سے پہلے کرونا کا ٹیسٹ ضروری تھا اس میں دیر لگ گئی! کیا عُذر ہے! بدھ کے اخبارات میں نمایاں خبر چھپی ہے کہ 23 ممالک کے افراد کو پاکستان آتے وقت کرونا ٹیسٹ کی ضرورت نہیں۔ ان میں سعودی عرب، قطر، عرب امارات شامل ہیں۔ ویسے بھی کرونا ٹیسٹ کی ضرورت بلوچستان واپس پہنچنے پر ہو سکتی تھی۔ مگر! میں انتہا پسند نہیں مگر یہ بات کہ وزیراعلیٰ سردار جام کمال کے والد جام محمد یوسف اور جام غلام قادر بھی بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ یوں وزارت اعلیٰ اس خاندان کی وراثت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس خاندان کا تعلق کراچی سے چند کلو میٹر دور لس بیلہ اور حَب کے علاقے سے ہے۔ کوئٹہ یہاں سے تقریباً 1100 کلو میٹر دور ہے اس لئے لس بیلہ کے لوگ کراچی سے زیادہ وابستہ رہتے ہیں۔ یہی عالم فیملی کا ہے یہ لوگ کوئٹہ صرف حکمرانی کے لئے آتے ہیں اور زیادہ وقت کراچی میں گزارتے ہیں۔ زیادہ کیا لکھوں؟ صرف یہ کہ کسی سردار کے ساتھ کوئی سانحہ پیش آتا تو وزیراعلیٰ فوراً کوئٹہ پہنچ جاتے، کوئٹہ اور دبئی کے درمیان صرف ایک گھنٹے کا فضائی سفر ہے!!
٭نیوزی لینڈ میں پاکستان کے کرکٹ لشکر کی انتہائی ذلت آمیز شکستیں! 34 کھلاڑی، 22 لشکری افسر، مالشئے، سردبانے والے، چائے لانے والے! باپ کا مال، انتہائی بے دردی کے ساتھ لٹایا گیا۔ 1954ء میں پاکستان کی صرف 17 رکنی ٹیم انگلینڈ گئی تھی۔ 15 کھلاڑی، ایک منیجر، ایک ڈاکٹر اور بس! کوئی کوچ، کوئی خانساماں، کوئی مالشیا، کچھ نہیں۔ ٹیم کا کپتان اور منیجر دونوں مل کر ٹیم منتخب کرلیتے تھے۔ اس ٹیم نے پہلے ہی دورہ میں اوول کے میدان میں انگلستان (اس وقت ایم سی سی) کو شکست دے کر دھاک بٹھا دی! اور اب! 34 کھلاڑی، 20 لاکھ 32 لاکھ والے چار اور 22 افسر!! خدا پناہ! فائیو سٹار ہوٹلوں میں کئی ہفتے قیام، کھلاڑی نازک مزاج اتنے کہ ذرا سی پریکٹس میں کسی کا انگوٹھا ٹوٹ گیا، کسی کی کمر جواب دے گئی۔ کوئی ہدایات کی عدم تعمیل پر کرونا کی زد میں! ایک منظور نظر اوپننگ کھلاڑی، مسلسل چار بار صفر پر آئوٹ! ان لوگوں نے ہارنے کا سلیقہ بھی نہ سیکھا۔ ہارنا ہی ہے تو کھیل کر ہارو! 32 لاکھ اور 20 لاکھ روپے والے کوچوں کو کوئی شرم نہ حیا! کرکٹ بورڈ میں درجنوں ڈائریکٹر، سینئر و عام جنرل منیجروں کی فوج! اربوں روپے سالانہ اجاڑ کر شرم ناک نتائج!! میں نے حفیظ کاردار، فضل محمود، امتیاز احمد اور میاں داد و محمد حنیف جیسے عظیم کھلاڑیوں کا زمانہ دیکھا ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ کھلاڑی اور معاوضہ صرف 25 روپے روزانہ!! ٹھیک ہے اب مہنگائی ہے مگر بیس بیس لاکھ کے تین اور 32 لاکھ روپے ماہوار کا ہیڈ کوچ مصباح الحق!! سب رات کے اندھیرے میں گھروں کو جائیں گے۔
٭راجہ پرویز اشرف صاحب نے فرمایا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو ووٹ کا حق دیا تھا۔ محترم راجا صاحب!! بھٹو نے چھ سال وزیراعظم کے طور پر حکومت چلائی، چھ برس مارشل لا اور ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ایمرجنسی لگائے رکھی، انسانی حقوق معطل رہے، چھ سال بلدیاتی انتخابات نہ ہونے دیئے!! کس نے کس کو ووٹ دیا تھا؟
٭پنجاب میں اینٹی کرپشن پولیس نے حکومت اور اپوزیشن کے موجودہ اور سابق ارکان کا 5500 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ چھڑا لیا!! بے شمار قبضے ابھی باقی ہیں! استغفراللہ، اسمبلی کا حلف اٹھاتے ہی لوٹ مار شروع!
٭عزیز محترم شبلی فراز صاحب وفاقی وزیراطلاعات!! میں آپ کی اس لحاظ سے بہت قدر کرتا ہوں کہ آپ بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اور یہ کہ آپ کے والد جناب احمد فراز زبردست شاعر تھے۔ ان کے ساتھ میرے گہرے مراسم رہے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ آپ کا کبھی شاعری وغیرہ کی طرف آنا جانا رہا ہے یا نہیں؟ آپ کی توجہ مرحوم کی ایک مشہور نظم کی طرف دلا رہا ہوں۔ شائد آپ کی نظر سے گزری ہو! 16 اشعار کی اس نظم کے چند اشعار پڑھئے، سوچنے سمجھنے کی کیسی دعوت دیتے ہیں:۔
’’میری بستیاں تھیں دھواں دھواں‘‘
وہ عجیب صبح بہار تھی کہ سحر سے نوحہ گری رہی
میری بستیاں تھیں دھواں دھواں، میرے گھر میں آگ بھری رہی
میرے راستے تھے لہو، لہو، میرا قریہ قریہ فگار تھا
کہ کفِ ہوا پہ زمین تھی، وہ فلک کے مُشتِ غبار تھا
کئی آبشار سے جِسم تھے، کہ جو قطرہ قطرہ پگھل گئے
کئی خوش جمال طلِسم تھے جنہیں گرد باد نگل گئے
کہیں نغمگی میں وہ بَین تھے کہ سماعتوں نے سُنے نہیں
کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے کہ انیس نے بھی کہے نہیں
یہ جو سنگ ریزوںکے ڈھیر میں یہاں موتیوں کی دکان تھی
یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں یہاں موتیوں کی دکان تھی
یہ جو سائباں دھوئیں کے ہیں یہاں بادلوں کی اُڑان تھی
یہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر یہاں قُمقوں سے جوان تھے
جہاں چیونٹیاں ہُوئیں خیمہ زن، یہاں جگنوئوں کے مکان تھے
سو، لہو کے جان انڈیل کر میرے جانفروش چلے گئے
وہ سکوت تھا سرِ مَے کدہ کہ وہ خُمِ بدوش چلے گئے
یہاں روز حشر بپا ہوئے، پہ کوئی بھی روز جزا نہیں
یہاں زندگی بھی عذاب ہے، یہاں موت میں بھی شفا نہیں
مری عدل گاہوں کی مَصلحت، میرے قاتلوں کی وکیل ہے
مری خانقاہوں کی منزلت، میری بزدلی کی دلیل ہے
میرے پاسباں مرے نقب زن، میرا مُلک یتیم ہے
میرا دیس میر سپاہ کا، مرا شہر مالِ غنیم ہے!
 

تازہ ترین خبریں

کورونا کیسز میں کمی ۔۔ ایس او پیز تبدیل۔۔ 15 مارچ سے شادی ہالز میں انڈور فنکشنز کرنے کی اجازت، نوٹیفیکشن جاری

کورونا کیسز میں کمی ۔۔ ایس او پیز تبدیل۔۔ 15 مارچ سے شادی ہالز میں انڈور فنکشنز کرنے کی اجازت، نوٹیفیکشن جاری

سینیٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔ ارکان کی پریشانیوں میں اضافہ ۔۔۔  پولنگ ڈے پر ارکان کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد

سینیٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔ ارکان کی پریشانیوں میں اضافہ ۔۔۔ پولنگ ڈے پر ارکان کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد

 چائےکی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار

چائےکی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار

 دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے: رحمان ملک

دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے: رحمان ملک

 میر امشن ہے کہ میں پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بناؤں۔اعظم خان سواتی

میر امشن ہے کہ میں پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بناؤں۔اعظم خان سواتی

شریف خاندان کا جاتی امرا کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا

شریف خاندان کا جاتی امرا کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا

بٹگرام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، ظاہر شاہ نامی شخص جاں بحق

بٹگرام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، ظاہر شاہ نامی شخص جاں بحق

پاکستان میں کتنی رشوت دی جاتی ہے ؟؟ گیلپ پاکستان کی نئی رپورٹ سامنے آگئی

پاکستان میں کتنی رشوت دی جاتی ہے ؟؟ گیلپ پاکستان کی نئی رپورٹ سامنے آگئی

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک کی بڑی رقم چوری،پولیس نے ریلوے ملازم سمیت ملزمان کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک کی بڑی رقم چوری،پولیس نے ریلوے ملازم سمیت ملزمان کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا

 اقوام متحدہ کو ٹیکس اصلاحات، منی لانڈرنگ سے متعلق اقدامات کرنے ہوں گے ۔ عمران خان

اقوام متحدہ کو ٹیکس اصلاحات، منی لانڈرنگ سے متعلق اقدامات کرنے ہوں گے ۔ عمران خان

کورونا وائرس ۔۔۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری ۔۔ ڈبلیو ایچ اونے پاکستان کو ایمبولینس، گاڑیوں، موٹر سائیکلز، تشخیصی آلات کا تحفہ دے دیا۔

کورونا وائرس ۔۔۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری ۔۔ ڈبلیو ایچ اونے پاکستان کو ایمبولینس، گاڑیوں، موٹر سائیکلز، تشخیصی آلات کا تحفہ دے دیا۔

 میراج طیاروں کو پاک فضائیہ کا حصہ بنے 50 سال مکمل ہوگئے۔ گولڈن جوبلی تقریب کا انعقاد

میراج طیاروں کو پاک فضائیہ کا حصہ بنے 50 سال مکمل ہوگئے۔ گولڈن جوبلی تقریب کا انعقاد

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔۔ اسلام آباد سے 5 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔۔ اسلام آباد سے 5 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے

 سرکاری سرپرستی میں دھاندلی ثابت ہوگئی وزیراعظم استعفے دیں ۔ نیئر بخاری

سرکاری سرپرستی میں دھاندلی ثابت ہوگئی وزیراعظم استعفے دیں ۔ نیئر بخاری