09:29 pm
بھٹو دور میں سیٹھ عابد کو پکڑنے کی سرتوڑ کوششیں ناکام ہوئی تھیں

بھٹو دور میں سیٹھ عابد کو پکڑنے کی سرتوڑ کوششیں ناکام ہوئی تھیں

09:29 pm

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پھر ذوالفقار بھٹو کی حکومت آئی۔ بھٹو نے سیٹھ عابد کی غیر قانونی اور مجرمانہ حیثیت کو ناپسند کرتے ہوئے انھیں پکڑنے کی ٹھان لی۔ جس کے لئے پہلے لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ پر 1974میں ایک بہت بڑا پولیس  آپریشن کیا گیا۔اور اس دوران اس گھر سے سوا کروڑ روپے کی کرنسی، 40لاکھ روپے کے زیور، 20لاکھ روپے کی سوئس گھڑیاں،تین گاڑیاں ،

چیئرمین حزب وحدت اسلامی افغانستان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات
جبکہ درجن بھر گھوڑے اپنی تحویل میں لے لیے گئے۔لیکن سیٹھ عابد پولیس کے ہاتھ نہ آئے۔ بھٹو نے ان پر انٹرنیشنل سمگلنگ کا کیس کرتے ہوئے ان کےلئے خصوصی ٹریبونل قائم کیا۔تاہم سیٹھ عابد ٹریبونل کے سامنے پیش نہیں ہوئے،جس کےبعد سیٹھ عابد کی گرفتاری کےلئے پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کیاگیا۔ اس آپریشن کےلئے فوج، پولیس ، رینجرز اور نیول گارڈز کی چھاپہ مار ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں۔لیکن کراچی میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارکر بھی غیر ملکی کرنسی اور سونےکی اینٹیں ہی پکڑی گئیں،سیٹھ عابد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یہاں تک کہ کوسٹل گارڈزنے اطلاع دی کہ سیٹھ عابد کورنگی میں اپنی گرل فرینڈ سے ملنے آرہے ہیں۔لیکن گرل فرینڈ کی رہائشگاہ پر چھاپے سے پہلے ہی وہ وہاں سے فرار ہوچکے تھے۔

تازہ ترین خبریں