12:26 pm
سانحہ مچھ : شہدا کوآہوں وسسکیوں میں سپرد خاک کردیاگیا

سانحہ مچھ : شہدا کوآہوں وسسکیوں میں سپرد خاک کردیاگیا

12:26 pm


کوئٹہ(روزنامہ اوصاف)بلوچستان کے علاقے مچھ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے کان کنوں کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آہوں و سسکیوں میںسپردخاک کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق شہدا کے نماز جنازہ میںوفاقی وزیر زلفی بخاری،علی زیدی، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال ، وزیر داخلہ بلوچستان میرضیا اللہ لانگو ،صوبائی وزرا ،سیاسی و سماجی رہنمائوں کی بڑی تعداد سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ،جاں بحق ہونیوالے افراد کو آہو ں و سسکیو ں میں ہزارہ ٹائون قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا

وزیراعظم کوئٹہ روانہ، شیخ رشید بھی ہمراہ
۔تدفین کے موقع پر رقعت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ،شہدا کے لواحقین دھاڑیں مار مار کر روتے رہے جبکہ وفاقی و صوبائی وزرائے حکومت اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سمیت سیاسی و سماجی رہنما لواحقین کو دلاسے دیتے رہے ۔شہدا کی تدفین کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے،جنازہ گاہ اور قبرستان کے باہر سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے ۔واضح رہے کہ 4جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ میںکوئلے کی کان میں کام کرنیوالے 10مزدوروں کو مسلح افراد نے قتل کرکے لاشیں پہاڑی علاقوں میں پھینک دی تھیں۔جس کے بعد جاں بحق ہونیوالے مزدوروں کے لواحقین اور ہزارہ برادری کے سینکڑوں افراد نے میتیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دیدیا اور ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک وزیراعظم عمران خان دھرنے میں نہیں آتے اور ہمیں انصاف نہیں دلاتے تب تک ہم اپنے پیاروں کی میتیں نہیں دفنائیں گے ،دھرنے میں اپوزیشن قیادت مریم نواز،بلاول بھٹو زرداری سمیت کئی رہنمائوں نے بھی شرکت کی اور لواحقین سے اظہارتعزیت کیا ۔معاملے کو حل کرنے کیلئے وفاقی وزرا اور بلوچستان حکومت کے اعلیٰ حکا م لواحقین سے مذاکرات کرتے رہے جو چھ روز کامیاب ہوئے۔وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے دھرنا دینے والی ہزارہ کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم عمران خان ان سے ملنے کیلئے ہفتے کو آئیں گے ،جس کے بعد لواحقین نے 9جنوری کو میتیں دفنانے کیلئے رضا مندی ظاہر کی اور ہفتے کی دوپہر میتوں کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد خاک کردیا گیا ۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہاکہ علمائے کرام نے ملک میں انتشارکی فضا کا خاتمہ کیا ، حکومت شہدا کمیٹی کے ساتھ ہونیوالے معاہدے کے نکات پر عمل کرے گی اور لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ علما کرام اور ان تمام سیاسی و سماجی رہنمائوں کا شکریہ اداکرتے ہیںجنہوںنے مذاکرات میں حصہ لیا اور جن کی وجہ سے سانحہ مچھ کے متاثرین نے اپنے شہدا کی تدفین کی۔انہوںنے کہاکہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری سیاسی تجربہ نہ ہونے کے باعث غلط فیصلے کررہے ہیں ،ان کو دھرنے میں جاکر سیاست نہیں چمکانی چاہیے تھی ۔شیخ رشیدنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے درست فیصلہ کیا اور لواحقین سے اظہارتعزیت کیلئے جارہے ہیں۔قبل ازیں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ جو مطالبات ہمارے سامنے رکھے گئے وہ مشکل تھے، تاہم جن افسران کو ہٹانا تھا ان کا فیصلہ ہوچکا، شہدا ایکشن کمیٹی سے ہمارا تحریری معاہدہ ہوچکا، کبھی کسی حکومت نے ماضی میں تحریری معاہدہ نہیں کیا تھا، ہم ملکر کام کرینگے تو مسائل حل ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا جے آئی ٹی کا اعلان ہو گیا ہے، ایک اعلیٰ سطح کا کمیشن بنے گا۔ وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ اس کی سربراہی کریں گے، پولیس افسر سمیت دو اعلیٰ افسر اس کے ممبر ہونگے اور شہدا کمیٹی سے بھی 2 ممبران لئے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے سکیورٹی ادارے مل کر حکمت عملی بنائیں گے ، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مانیٹرنگ ضروری ہے، سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا، اسی طرح نادرا، پاسپورٹ آفس، امیگریشن کے حکام پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے۔علی زیدی نے کہا کہ شہدا کے ورثا کو بلوچستان حکومت ملازمت دے گی، شہدا کے لواحقین میں سے طالب علموں کو سکالرشپس دی جائیں گی، شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، قوم کو ان دہشتگردوں سے بچانا ہے، بلوچستان کی زمین اور سمندر میں اتنی طاقت ہے کہ ہمارے معاشی مسائل ختم کرسکتا ہے لیکن بلوچستان کے لوگ بیڈ گورننس کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ، اب سب ٹھیک کرینگے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا کہنا تھا کہ جیسے ہی شہدا کی تدفین ہوتی ہے وزیراعظم عمران خان کوئٹہ آئیں گے جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کوئٹہ آئیں گے اور دونوں الگ الگ لواحقین سے ملکر تعزیت کریں گے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے تدفین پر رضا مندی ظاہر کرنے پر شہدا کے لواحقین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لواحقین نے انصاف کے لیے احتجاج کیا، آپ نے ہماری بات مان کر ہمیں اور بلوچستان کو عزت دی جس پر سب کا مشکور ہوں۔ یہ نہیں کہہ سکتا بلوچستان کے سارے مسائل حل کر دئیے اور سب ٹھیک ہے لیکن جن چیزوں پر آگے بڑھے وہاں چیزیں بہتر ہوئی ہیں، ہم چیزوں کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔جام کمال کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے بڑھانا ہے تو بہتر فیصلے کرنے ہوں گے، غفلت ہو جاتی ہے لیکن ہم نے یہاں امن لانا ہے روز گار لانا ہے، شہری بن کر گھومنا ہے، بلا خوف گھومنا ہے، نوجوانوں کے لیے محفوظ بلوچستان دینا ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے، اسے پورا کرنا ہے، میں اعلان کرتا ہوں کہ چیف آف آرمی سٹاف بھی آئیں گے۔

تازہ ترین خبریں