05:40 pm
سی پیک کی کامیابی کے لئےملک میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے

سی پیک کی کامیابی کے لئےملک میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے

05:40 pm


 اسلام آباد ( محسن بلال خان سے )  آئی ایس ایس آئی ،، کے چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا ہےکہ پاکستان  میں سیاسی  عدم استحکام ، بدامنی ،افرتفری اور بے یقینی کی فضا سی پیک کےلیے کسی  بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے جے سی سی اجلاس کے بعد چین کے صدر  نے پاکستان کا اہم دورہ بھی کرنا ہے 
اس سے پہلے ملک میں سازگار ماحول اور استحکام کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو آپس کی تفریق اور تقسیم سے بالاتر ہو کر وسعت قلبی اور حکمت و دانش سے کام لینا ہوگا ایسے حالات پیدا کر نے سے گریز کیا جائے جو بیرونی سرمایہ کاری کے راستے بند کر کے پاکستان کو معاشی اور اقتصادی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیں سی پیک کو نا کام بنانے کے لیے امریکہ سمیت کئی قوتیں بیک وقت اندرونی اور بیرونی طور پر پوری طرح متحرک ہیں جنکے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں سفارتی محاذ پر قدم پھونک پھونک کے اٹھانا ہونگے سی پیک مخالفین عزائم کو ناکام بنانے کے لیے چین اور پاکستان کو مشترکہ حکمت عملی سے آگے بڑھنا ہوگا ان خیالا ت کا اظہار انھوں نے ،،آئی ایس آیس آئی ،، میں اوصاف کو دیئے گے اپنے خصوصی انٹرویو میں کیا انکا کہنا تھا کہ اس وقت چین اور امریکہ کے مابین ،،کولڈوار ،، کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور چین کا ابھرنا امریکہ اور اسکے نظام کے خلاف ہے، جوبائیڈن اور ٹرمپ دونوں چین کو اپنے زیر اثر کرنا چا ہتے ہیں جبکہ چین اکنامک گلوبل پاور بن کر امریکہ کی عالمی بالادستی کو رول بیک کر نے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہا ہے ، سی پیک اکنامک گیٹ وے آف پاکستان،، بنے گا جوخطے میں ایک گیم چینجر کا کلیدی کردار کا باعث بھی بنے گا جس سے پاکستان معاشی ،اقتصادی اورتجارتی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوکر اپنے عوام کی تقدیر بدل سکے گا ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا کہ چین کے حوالے سے ریسرچ ورک کو وسعت دینے پیپلز ٹوپیپلز رابطوں کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے ہی انسیٹیٹوٹ آف اسٹریجک سٹڈی میں چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر قائم کیا گیا ہے ماضی میں آئی ایس ایس آئی میں صرف ایک چائنا ڈیسک قائم تھا جس کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت تھی تاکہ پاکستان اور چین کے حوالے سے دونوں ملکوں کی نوجوان نسل کو ریسرچ کے ذریعے آگاہی دی جاسکے جس کے لیےچائنا پاکستان سٹڈی سینٹر قائم کر کے وزارت خارجہ نے وہ کام کر دکھایا ہے جو خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں ملک اور قوم دونوں کی بنیادی ضرورت تھا انھوں نے کہا کہ چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر جو دور حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے اور قومی و عالمی سطع کے ریسرچ ماہرین اس سینٹر کے ساتھ وابستہ ہیں اور انکی دن رات کی محنت رنگ لارہی ہے اور دونوں ملک اور اسکے عوام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور چین کے حوالے سے پاکستان کی نوجوان نسل اور عوام کو برائے راست آگاہی دینے کے لیے اس سینٹر کی کارکردگی بڑی متاثر کن رہی ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس کا قیام بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے جس کاکریڈ ٹ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور انکی پوری ٹیم کو جاتا ہے ،، آئی ایس ایس آئی ،، کے چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا سی پیک منصوبہ اپنے پانچ ستون پر مشتمل ہے جسکا مستقبل پاکستان کی معاشی ، اقتصادی اور تجارتی پالیسوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور سی پیک منصوبہ ہی پاکستان اور اسکے عوام کی حقیقی معنوں میں تقدیر بدلے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کو پہلی حکومتوں نے معاملات کو بہتر طریقے سے طے نہیں کرسکیں جس کو بدنیتی نہیں کہا جاسکتا میرے خٰیال میں وہ اپنےا ٓپکو بہتر طور پر سیل کر نے میں کامیاب نہیں ہوسکیں کیوں سماجی مسائل بڑے اہم ہوتے ہیں چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر کے سربراہ نے کہا کہ منصوبوں میں بلیو اکنامی ،زراعت اور شوشل اکنامک کو زیادہ فوکس کیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے بزنس ماڈل میں زمین اور آسمان کا فرق ہے اور سیاست ہر قومی منصوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور رہتی کسر سول بیورو کریسی نکال دیتی ہے جس کہ وجہ سے عومی اور قومی منصوبے فائلوں کی نذر بن کر رہ جاتے ہیں ہمارے ہاں بھی قومی منصوبوں کے لیے ون ونڈو آپریشن سینٹر ہونے چاہیں اور ایک ہی چھت کے نیچے قومی منصوبوں کے این او سی کا اجرا ہونا چاہیے تاکہ قومی ترقی اور عوامی خوشحالی کی رفتار تیز ہوسکے جس کے لیے ایک پاور فل کوارڈینشن اتھارٹی ہونی چاہیےتھی مگر 18 ترمیم بعد وفاق اور صوبائی محکموں کی تفریق اور تقسیم نے کئی مسائل پیدا کر دیئے ہیں کوئی ادارہ بھی اپنی اپنی ذمہ داری لینے سے عاری ہے جس کے باعث سی پیک کے منصوبوں پر کام گوسکو ہونے کا ٹاثر ملتا ہے اس تاثر کوختم کر نے کے لیے ہمیں اپنے وفاقی اور صوبائی اداروں کا قبلہ بھی درست کراناہوگا اور انکو ایک دوسرے کے ماتحت بھی کرنا ہوگا ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہ ملک میں سازگار ماحول اور استحکام کے لیے حکومت کو وسعت قلبی اور حکمت و دانش سے کام لینا ہوگا ایسے حالات پیدا کر نے سے گریز کیا جائے جو بیرونی سرمایہ کاری کے راستے بند کر کے پاکستان کو معاشی اور اقتصادی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیں ایک اور سوال پر انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ اور کشمیر پالیسی کی بدولت آج بھارت خطے میں ،، تنہائی،، سے دوچار ہوکر رہ گیا ہے پاکستان کی عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مستحکم سفارت کاری نے بھارت کے عزائم کو ،، رول بیک ،، کر کے اسکا اصل چہرہ اور کردار اقوام عالم میں بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے مسلہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے بغیر پاکستان اور انڈیا کے مابین ،،تعلقات کی کشیدگی،، برقرار رہے گئی پاکستان نے خطے میں قیام امن کے حوالے سے اپنے تمام آپشن کھلے رکھے ہوئے ہیں وزیر اعظم عمرن خان کے ویژن کے مطابق ہماری خارجہ پالیسی درست سمت گامزن ہے جس کی بدولت ملکی تاریخ میں پہلی بار مسلہ کشمیر حقیقی بنیادوں پر قومی اور عالمی سطع پر اجاگر ہوا ہے جس کا کریڈٹ وزیر اعظم ،عسکری قیادت اور وزیر خارجہ اور انکی پوری ٹیم کو جاتا ہے کشمیر پاکستان کہ شہ رگ اور ہمارا وقومی ایجنڈا ہے جس پر کسی قسم کے سمجھوتے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بھارت نےموجودہ حالات کے تناظر میں کسی مہم جوئی کا مظاہرہ کیا تو اس بار اسکو 27 فروری سے سخت دندان شکن جواب ملے گا عبداللہ عبداللہ اور حکمت یار کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں دونوں شخصیات کا دورہ پاکستان خطے میں قیام امن کے راستوں کو وسعت دینا ہے اور اس وقت افغانستان میں قیام امن لازم و ملزوم بن چکا ہے اور امریکہ وہاں سے نکلنا چاہتا ہے اور میرے خیال میں امریکہ وہاں سے صرف دکھاوے کے لیے نکلے گا کیوں مجھے افغانستان مٰن امن کئی دور دکھائی دے رہا ہے افغان لیڈر شپ کو انگیج کرنا ایک خوش آئند امر ہے بدقسمتی سےا س وقت افغانستان کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ایجنڈے الگ الگ ہیں اور وہ آپس کی تفریق اور تقسیم سے دوچار ہیں ان حالات میں انکے لیے پاور شیرنگ فارمولا کیسا ہوگا س حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ڈاکٹر طلعت شبیر کا کہنا تھا کہ بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر نے کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتاافغان لیڈر شپ کو اس حوالے سے اپنی غیر جانبداری کا کردار ادا کرنا چاہیے انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان ،امریکہ ،بھارت اور تمام افغان گروپس کو ماضی سے دفن کر کے ون پوائینٹ ایجنڈے پر متفق ہونا پڑے گا اس لیے کہ جب قومیں ماضی سے الجھ جاتی ہین تو پھر آگے بڑھنا مشکل ہوجاتا ہے انھوں نے اپنے شاعرانہ انداز میں کہا کہ ماضی تو یاد رکھنے کے لیے ہوتا ہے الجھنے کے لیے نہیں اس لیے ماضی کو سایئڈ لائن کر یں گے تو آگے بڑھنے کا راستہ دکھائی دے سکتا ہے کشمیر کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ہندوستان نے انتہائی مکاری سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے جوڑ دیا تاکہ مظلوم کشمیریوں کو دہشت گرد بتایا جائے ہم نے اس جھوٹے بیانیہ کو رد کیا اور حقائق دنیا کے سامنے رکھے، اب دنیا بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو سننا پسند نہیں کرتی، نئے چیلنجز کا سامنا ہے،آج بیانیہ کی حیثیت کلیدی ہے ہم نے آج کی صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے اور آئندہ کے منظرنامے کا سوچنا ہے اس لیے ہماری ذمہ داریاں مختلف ہیں ، موثر بیانیے کی تشہیر کیلئے میڈیا کے ساتھ مضبوط ربط ناگزیر ہے ،یہاں احتیاط کے ساتھ ساتھ ہمیں جدید خطوط پر خود کو استوار کرنا ہو گا انھوں نے کہا کہ ہم نہ صرف دہشت گردی کا نشانہ بنے بلکہ ہم نے اس عفریت کو شکست دی ہے اور فارن پالیسی کو پہلی دفاعی لائن کہا جاتا ہے چنانچہ موثر انداز میں بیانیے کی تشہیر کیلئے ہمارا اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ہماری حکومت نے سیکورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا،سیکورٹی کے لحاظ سے آج ہم بہت بہتر صورت حال میں ہیں،لیکن آج ہمارا چیلنج معیشت کی بہتری ہے، مستحکم خارجہ پالیسی کیلئے ہماری معیشت کا مستحکم ہونا ناگزیر ہے

تازہ ترین خبریں

کورونا کیسز میں کمی ۔۔ ایس او پیز تبدیل۔۔ 15 مارچ سے شادی ہالز میں انڈور فنکشنز کرنے کی اجازت، نوٹیفیکشن جاری

کورونا کیسز میں کمی ۔۔ ایس او پیز تبدیل۔۔ 15 مارچ سے شادی ہالز میں انڈور فنکشنز کرنے کی اجازت، نوٹیفیکشن جاری

سینیٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔ ارکان کی پریشانیوں میں اضافہ ۔۔۔  پولنگ ڈے پر ارکان کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد

سینیٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔ ارکان کی پریشانیوں میں اضافہ ۔۔۔ پولنگ ڈے پر ارکان کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد

 چائےکی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار

چائےکی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار

 دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے: رحمان ملک

دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے: رحمان ملک

 میر امشن ہے کہ میں پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بناؤں۔اعظم خان سواتی

میر امشن ہے کہ میں پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بناؤں۔اعظم خان سواتی

شریف خاندان کا جاتی امرا کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا

شریف خاندان کا جاتی امرا کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا

بٹگرام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، ظاہر شاہ نامی شخص جاں بحق

بٹگرام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، ظاہر شاہ نامی شخص جاں بحق

پاکستان میں کتنی رشوت دی جاتی ہے ؟؟ گیلپ پاکستان کی نئی رپورٹ سامنے آگئی

پاکستان میں کتنی رشوت دی جاتی ہے ؟؟ گیلپ پاکستان کی نئی رپورٹ سامنے آگئی

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک کی بڑی رقم چوری،پولیس نے ریلوے ملازم سمیت ملزمان کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک کی بڑی رقم چوری،پولیس نے ریلوے ملازم سمیت ملزمان کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا

 اقوام متحدہ کو ٹیکس اصلاحات، منی لانڈرنگ سے متعلق اقدامات کرنے ہوں گے ۔ عمران خان

اقوام متحدہ کو ٹیکس اصلاحات، منی لانڈرنگ سے متعلق اقدامات کرنے ہوں گے ۔ عمران خان

کورونا وائرس ۔۔۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری ۔۔ ڈبلیو ایچ اونے پاکستان کو ایمبولینس، گاڑیوں، موٹر سائیکلز، تشخیصی آلات کا تحفہ دے دیا۔

کورونا وائرس ۔۔۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری ۔۔ ڈبلیو ایچ اونے پاکستان کو ایمبولینس، گاڑیوں، موٹر سائیکلز، تشخیصی آلات کا تحفہ دے دیا۔

 میراج طیاروں کو پاک فضائیہ کا حصہ بنے 50 سال مکمل ہوگئے۔ گولڈن جوبلی تقریب کا انعقاد

میراج طیاروں کو پاک فضائیہ کا حصہ بنے 50 سال مکمل ہوگئے۔ گولڈن جوبلی تقریب کا انعقاد

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔۔ اسلام آباد سے 5 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔۔ اسلام آباد سے 5 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے

 سرکاری سرپرستی میں دھاندلی ثابت ہوگئی وزیراعظم استعفے دیں ۔ نیئر بخاری

سرکاری سرپرستی میں دھاندلی ثابت ہوگئی وزیراعظم استعفے دیں ۔ نیئر بخاری