05:15 pm
مردہ خاتون کو مشینوں کے سہارے زندہ رکھا گیا ۔۔۔ 123 دن بعد  کیا ہوا؟ایسی کہانی جسے پڑھ کرآپ بھی کہیں گے کہ انسانیت آج بھی زندہ ہے

مردہ خاتون کو مشینوں کے سہارے زندہ رکھا گیا ۔۔۔ 123 دن بعد  کیا ہوا؟ایسی کہانی جسے پڑھ کرآپ بھی کہیں گے کہ انسانیت آج بھی زندہ ہے

05:15 pm

کبھی کبھار ایسے دکھ بھرے اور اشکبار کردینے والے واقعات سننے کو ملتے ہیں جس کو پڑھ کر دل خون کے آنسو رونے لگاتا ہے۔ ایسا ہی ایک کہانی سوشل میڈیا پر چند دنوں سے وائرل ہورہی ہے جسے پڑھ محسوس ہوگا کہ آج بھی انسانیت زندہ ہے۔یہ واقعہ ٢٠١٧ کا ہے جب ایک دماغی طور پر مُردہ برازیلی خاتون کو مشینوں کے سہارے ایک سو تئیس دن تک زندہ رکھا گیا تا کہ اس کے پیٹ میں موجود جڑواں بچے اس دنیا میں آ سکیں۔ حمل کے دوران اکیس سالہ خاتون سٹروک ( دماغ تک خون

کئی سال سے اس رشتے کو نبھا رہی تھی لیکن اب میری بس ہوگئی۔۔۔شادی کے کئی سال بعد طلاق لینے والے ستارے
کی رسائی کم یا بند ہو جانا) کے باعث دماغی طور پر مرُدہ گئی لیکن اس کے پیٹ میں موجود دو سے اڑھائی کے دو ننھے ننھے وجود کا دل دھڑکتا رہا۔ بچوں میں زندگی کی رمق پا کر ہسپتال کے ڈاکٹرز نے تاریخی فیصلہ کیا کہ اس خاتون کو مشینی آلات کے سہارے زندہ رکھا جائے۔ایک سو تئیس دن کے بعد یہ دونوں بچے ست ماہے ( سات ماہ کے بعد پیدائش) پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی بھی خطرے میں تھی لیکن یہ بچے بھی اپنی ماں کی مانند فائٹر نکلے اور جی گئے۔
ان کے پیدائش کے بعد ان کی ماں کا وینٹی لیٹر بند کر دیا گیا اور اس کے اعضاء دو مریضوں کو ڈونیٹ کر دیے گئے۔یہ میڈیکل کی تاریخ کا سب سے تہلکہ واقعہ تھا کہ کوئی بھی حاملہ خاتون ایک تئیس دن دماغی طور پر مُردہ رہ کر بچے پیدا کر جائے۔ اس میں بہت بڑا ہاتھ دوائیوں کی مسلسل سپلائی کا تھا جس نے مشینوں کے ذریعے ہی اس خاتون کو زندہ رکھا۔ ہر قسم کی میڈیکل ایمرجنسی کے لیے یہ خاتون پورے ہسپتال کی پہلی ترجیح تھی۔بے شک ایسے ہی ڈاکٹرز محسن انسانیت ہیں۔

تازہ ترین خبریں