منگل‬‮   19   ‬‮نومبر‬‮   2019

استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں: عمران خان


اپوزیشن کااحتجاج جمہوری حق ہے،حکومت کو اس سے کوئی خطرہ نہیں،حکومتی ٹیم کی بریفنگ ،پرویزالہٰی کی فضل الرحمان سے ملاقاتوں بارے آگاہ کیا
وزیراعظم کی اعجاز شاہ،بابراعوان کیساتھ مزیدمشاورت کی ہدایت،عمران کی زیرصدارت پارٹی ترجمانوں کابھی اجلاس،سیاسی ومعاشی صورتحال،کرتارپورراہداری پربات چیت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن سے دھرنے کے معاملات پر مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کو وزیراعظم عمران خان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں، استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومتی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے اہم ملاقات کی جس میں انھیں مذاکراتی کوششوں پر بریف کیا گیا۔ جبکہ چودھری پرویز الہٰی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتوں سے متعلق آگاہ کیا۔اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور بابر اعوان کو قانونی اور آئینی مشاورت کے لیے بلایا گیا تھا۔ وزیر داخلہ نے حکومتی حکمت عملی اور انتظامی اقدامات سے آگاہ کیا۔ حکومتی ٹیم نے وزیراعظم کو بریف کیا کہ اپوزیشن کا احتجاج جمہوری حق ہے، حکومت کو اس سے خطرہ نہیں ، خطرہ ہوتا تو دھرنے والوں کو اسلام آباد نہ آنے دیا جاتا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حکومتی کمیٹی کو مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو اعجاز شاہ اور بابر اعوان کے ساتھ مزید مشاورت کی ہدایت کی اس کے علاوہ وزیراعظم کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا بھی اہم اجلاس ہوا جس میں موجودہ ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ پارٹی ترجمانوں نے بھی انھیں اپوزیشن کے دھرنے سے متعلق بریفنگ دی جبکہ کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے متعلق بات چیت کی گئی۔
عمران خان

© Copyright 2019. All right Reserved