اتوار‬‮   17   ‬‮نومبر‬‮   2019

سینیٹ اجلاس ، اپوزیشن کا قائد ایوان کی تقریر کے دوران شدید احتجاج ، واک آ وٹ


اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمان کو اپنا لیڈر مان لیا ہے،ان کو چاہیئے وہ اب ذوالفقار اور بے نظیر بھٹو کا نام نہ لیں،سینیٹر شبلی فراز
وزیراعظم پر ہمیں اعتبار نہیں، حکومت نالائق ہے،کوئی قوم مرغی انڈے سے ترقی نہیں کرتی ، اپوزیشن ، کورم کی نشاندہی کر دی ، اجلاس ملتوی

اسلام آباد( نیوز ایجنسی ) سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز کی تقریر کے دوران شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آٹ کر دیا، اپوزیشن رہنماوں نے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے،شبلی فراز اور سینیٹر پرویز رشید کے درمیان سخت تلخ کلامی بھی ہوئی،سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمان کو اپنا لیڈر مان لیا ہے،ان کو چاہیئے وہ اب ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا نام نہ لیں،،شبلی فراز کے الفاظ پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا ،تاہم انہوں نے معذرت سے انکار کر دیا جس پر اپوزیشن نے واک آٹ کرتے ہوئے کورم کی نشاندہی کر دی ، جس پر اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک پر بحث کے دوران سینیٹر شبلی فراز تقریر کرنے کے لیئے اٹھے تو مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر پرویز رشید نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بحث کو سمیٹ رہے ہیں اگر کوئی ضروری بات ہے تو وہ کریں ، سیاسی انتقام ختم نہیں کر سکتے تو ہماری گفتگو کو ختم نہ کریں ،پارلیمانی روایات کو ختم نہ کریں، پوری بحث سن لیں،سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آپ اپنی زبان کو ملحوظ خاطر رکھیں، یہ حقائق سننا نہیں چاہتے، اگر آپ کو کوئی ڈر اور خوف نہیں تو صبر اور آرام کریں جس سیاسی لیڈر کو پکڑا جاتا ہے وہ جمہوریت کے پیچھے چھپتا ہے، سیاست کرنا سب کا حق ہے اس لیئے نہیں کہ آپ اداروں کو تباہ کریں ، آج ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں معیشت کو تباہ حال کر دیا گیا ،ادارے کھوکھلے ہو گئے ہیں ،جب بھی سیاسی لیڈر گرفتار ہوتا ہے تو نعرہ لگتا ہے یہ سیاسی انتقام ہے ، نیب کے قوانین ہم نے تو نہیں بنائے، یہ اگر کالا قانون ہے تو آپ نے دس سال کیا کیا؟ آپ ایک دوسرے کا راستہ دے رہے تھے،آخر اس لوٹ مار کو کہیں تو روکنا ہے ،ہم ان دونوں سے تنگ آگئے تھے ، سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ملک مزید کرپشن کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، یہ اگر سیاسی انتقام ہے تو معاملہ انسانی حقوق کمیٹی میں اٹھائیں، ایک کیس بھی ہم نے نہیں بنایا،یہاں سیاست کے پیچھے چھپا جاتا ہے ،آئیں مل کر بیٹھیں ملک کو آگے لے کر جائیں ، احتساب ہر ایک کا ہونا چاہیئے،ہمارا احتساب پانچ سال کے بعد کریں ، ہمارا ان سے زیادہ کڑا احتساب ہونا چاہیئے، ایسی چیزوں کو نہ شروع کریں جس سے انتشار ہو ،شبلی فراز نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو لیڈر مان لیا ہے،ان کو چاہیئے وہ اب ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا نام نہ لیں،شبلی فراز کے الفاظ پر پیپلز پارٹی اور اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا ،سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ سینیٹر شبلی فراز نے تقریر کر کے ماحول کو پراگندہ کر دیا اور وہ جذبات میں آگئے یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے،اگر ایک شخص صبح سے شام تک اپنے مقصد کے لیئے ریاست مدینہ کا نام لے تو کیا یہ مذہبی کارڈ نہیں؟ ،سینیٹر شبلی فراز اپوزیشن سے معذرت کریں ورنہ ہم واک آٹ کریں گے ، سینیٹر شبلی فراز نے معذرت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے مولانا فیض محمد نے ہمارے لیڈر پر الزام لگایا ہے اس سے زیادہ سنجیدہ بات کیا ہو سکتی ہے میں نے کوئی غلط بات نہیں اپوزیشن رہنمائوں نے کہا ہے کہ حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے نظام کو بلڈوزکیا ہے ،موجودہ حکومت نے 11 ہزار ارب کے قرضے لے کر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، وزیراعظم اور حکومت نالائق ہے،کوئی قوم مرغی انڈے سے ترقی نہیں کرتی ،اس وقت ملک ایک دلدل میں پھنس گیا ہے،یہاں آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں،پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی جارہی ،بغیر ثبوت کے شاہد خاقان عباسی اور رانا ثنااللہ کو جیل میں ڈالنا کہاں کا انصاف یے ،اپنے وزیر دفاع کو بھی جیل میں ڈالو ان پر بھی الزامات ہیں، موجودہ حکومت جس طرح سیاسی انتقام کر رہی ہے، آمریتوں میں بھی اس طرح نہیں تھا،وزیراعظم پر ہمیں اعتبار نہیں ہے،ان خیالات کا اظہار جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں اراکین کو بنیادی حقوق دینے سے انکار، مبینہ سیاسی انتقام، اور سابق رکن پارلیمنٹ کی شہریت کی تنسیخ سے متعلق تحریک پر بحث کے دوران سینیٹر سراج الحق، میرکبیر،سسی پلیجو،طاہر بزنجو اور مولانا فیض محمد نے کیا۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے ، غریب کے لیئے ایک نظام اور وی آئی پی کے لیئے دوسرا نظام ہے ،اس نظام کی وجہ سے عدالتوں میں انصاف نہیں ہے ، لوگ اتنا سانپاور بچھو سے نہیں ڈرتے جتناعدالتوں میں جانے سے ڈرتے ہیں ، انصاف بھی اسی طرح مفلوج ہے وزرا نے بیماروں پر بھی طنز کیا ، کیا حکومت نہیں چاہتی کہ افہام وتفہیم کی فضا ہو،نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ بغیر ثبوت کے شاہد خاقان عباسی اور رانا ثنااللہ کو جیل میں ڈالنا کہاں کا انصاف یے ،اپنے وزیر دفاع کو بھی جیل میں ڈالو ان پر بھی الزامات ہیں،پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہورہی ہے،سیاسی انتقام ہو رہا ہے ،یہاں آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں،پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی جارہی ، آصف علی زرداری بیمار ہیں لیکن میڈیکل بورڈ بنانے نہیں دیا جا رہا، آصف علی زرداری کو رہا کر دینا چاہیئے،ٹیکس کلیکشن کے حوالے سے صوبہ سندھ سب سے آگے جا رہا ہے ،صوبوں کو سانس لینے کا موقع تو دیں،چشمہ لنک کینال پر کوئی پاور پراجیکٹ نہیں بننے دیں گے ،پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے، نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ موجودہ حکومت جس طرح سیاسی انتقام کر رہی ہے، آمریتوں میں بھی اس طرح نہیں تھا، اپوزیشن کے بندے کو بیماری ثابت کرنے کے لیئے مرنا پڑتا ہے ، کوئی بیمار ہو تو مذاق اڑایا جاتا ہے، امریکہ میں جا کر کہا جاتا ہے کہ میں نواز شریف کے کمرے سے اے سی نکالوں گا، کمال کی ان کی سوچ ہے ،ہم نے پہلے دن سے کہا الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، آج لاکھوں لوگ احتجاج کر رہے ہیں، ان لاکھوں لوگوں نے ایک شیشہ نہیں توڑا ،جے یو آئی ف کے رہنما مولانا فیض محمد نے کہا وزیر اعظم پر ہمیں اعتبار نہیں ہے، ہماری زمینوں پر قبضہ ہو رہا ہے،ہمارے بلوچستان کے لوگ غائب ہیں،14 ملین مارچ پورے ملک میں ہوئے 15 واں آزادی مارچ ہے، ہمارا مارچ امن سے ہو گا ،اس موقع پر اپوزیشن نے ایوان سے والے آئوٹ کر دیا اور شیم شیم کے نعرے لگائے ، جبکہ سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کورم کی نشاندہی کر دی کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔

سینیٹ اجلاس


© Copyright 2019. All right Reserved