پیر‬‮   11   ‬‮نومبر‬‮   2019

اپوزیشن کا صدر کے مواخذے، ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد تحریک لانیکا فیصلہ

صدر کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آ ئینی تقاضے کو پورا کئے بغیر کیسے جاری کیا گیا؟،خرم دستگیر ،محمد زبیر
آج سیاہ ترین دن ہے  جس انداز سے پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا گیا  اس کی مثال نہیں ملتی،راجہ پرویز اشرف، خواجہ آصف، اسعد محمود

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) اپوزیشن کا صدر کے مواخذے، ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد تحریک لانیکا فیصلہ، مسلم لیگ ن نے صدر مملکت کے مواخذے کے لئے ساری اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آئینی تقاضے کو پوراکیئے بغیر کیسے جاری کیا گیا؟،عمران خان 30 ہزار ارب کی بات کرتے رہتے ہیں، کمیشن کی رپورٹ آگئی ہے ، کوئی پیسہ خود برد نہیں ہوا ، 71 سالوں میں اگر تیس ہزار قرضہ لیا گیا تو  اس حکومت نے دس ہزار ارب روپیقرضہ لیا ہے ،اس کی بھی انکوائری ہونی چاہیئے، اس کا جواب دیں یہ کہاں خرچ ہوا، موجودہ حکومت کے پہلے سال ہی  ٹیکس کم جمع ہوا ہے، افراد زر موجودہ حکومت کی پالیسی کی وجہ سے بڑھا ہے،ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنمائوں انجنئیر خرم دستگیر ،محمد زبیر اور عائشہ غوث پاشا نے کیا،انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی نالائقی کی وجہ سیملک کو گھمبیر  معاشی بحران میں مبتلا کر دیا ہے ،پاکستانیوں کو مہنگائی، بیروزگاری کی سولی پر لٹکا دیا ، اس غریب دشمنی کے خلاف لاکھوں پاکستانی خیمہ زن ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں ، ایوان کو پانچ ہفتے سے تالا لگا تھا ، انہوں نے کہا کہ عمران خان 30 ہزار ارب کی بات کرتے رہتے ہیں، کمیشن کی رپورٹ آگئی ہے ، کوئی پیسہ خرد برد نہیں ہوا ، 71 سالوں میں اگر تیس ہزار قرضہ لیا گیا تو  اس حکومت نے دس ہزار تین سو 35 ارب قرضہ لیا ہے اس کی بھی انکوائری ہونی چاہیئے ، ان کو جواب دینا پڑے گا ، ہمارا مطالبہ ہے اس کا جواب دیں یہ کہاں خرچ ہوا ،پاکستان کے عوام مہنگائی کے عذاب سے دوچار ہیں ، مہنگائی ڈبل ہو چکی ہے ، اشیائے خوردونوش کی مہنگائی 13.7 فیصد ہے ، لوگ بھوکے سو رہے ہیں،انجنیئر خرم دستگیر نے کہا کہ آٹے کا دس کلو کا تھیلا آج 453 روپے کا ہے ،پیاز آج 76 روپے کلو ہے ،گیس آج 246 روپے فی یونٹ ہے ،کیا کسی بھی ادارے کا خسارا کم ہوا ہے؟ ، دریں اثناء اپوزیشن رہنمائوں نے قومی اسمبلی میں بغیر بحث کے بل اور آرڈیننس منظور کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس قانون سازی کو چیلنج کرنے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کردیا،اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ فسطائی رویوں کو ایوان کے فلور پر ناچتا ہوا دیکھا ہے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنمائوں خواجہ محمد آصف ، راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر اور مولانا اسد محمود نے کیا۔سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ موجودہ حکومت کا رویہ شروع سے غیر جمہوری ہے ،آج سیاہ ترین دن ہے  جس انداز سے پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا گیا ،اس کی مثال نہیں ملتی،پارلیمان قانون سازی کی جگہ ہے ،وزیراعظم کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیئے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں، حکومتی رویئے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ،ہم نے ڈپٹی سپیکر کو کہا ہماری بات تو سن لیں،آرڈیننس پڑھنے والے وزراء کوسوچنا چاہیئے وہ کیا کر رہے تھے، پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ آج جو ہوا شاید ہی اس طرح قانوں سازی ہوئی، 14 بل اور دو آرڈیننس بغیر کسی بحث کے منظور کیئے گئے، آرڈیننس کو کھڑے کھڑے بلوں میں تبدیل کر کے منظور کر لیا گیا یہ کوئی قانون سازی نہیں ،پارلیمنٹ کے بغیر قانون سازی نہیں ہو سکتی ، یہاں تو کاپیاں تک نہیں دیں گئیں اور قانون بن گیا ، یہ تمام قانون سازی چیلنج ہو گی ،ہم سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو بھی چیلنج کریں گے ،نوید قمر نے کہا کہ حکومتی ارکان کو بھی نہیں پتہ کہ کیا منظور ہوا، جو پارلیمنٹ کو لپیٹنا چاہتے ہیں،ان کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں؟ ، سنگل مل رہا ہے یہاں کوئی پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔
اپوزیشن

© Copyright 2019. All right Reserved