پیر‬‮   11   ‬‮نومبر‬‮   2019

تین کالم۔ْْْ۔۔۔۔۔سپریم کورٹ

تین کالم۔ْْْ۔۔۔۔۔سپریم کورٹ

اب صورتحال تبدیل ہو چکی،کہیں ایسا نہ ہو کہ اور حالات پیدا کر دیئے جائیں، قائم مقام چیف جسٹس
کتنی شرم کی بات ہے کسی کو ملک کا کوئی درد نہیں، مشترکہ مفادات کونسل کے پاس قانون سازی کااختیار نہیں،عدالت
اسلام آباد سمیت تمام صوبےدو ماہ کے اندر سرکاری گھروں پرقبضوں کی مکمل تازہ رپورٹ عدالت میںجمع کروائیں،ریمارکس

اسلام آباد(نیوز رپورٹر) سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق وفاقی حکومت کی نظرثانی اپیل پر سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا وفاقی حکومت دیکھ لے کہ حالات اچھے نہیں ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اور حالات پیدا کر دیئے جائیں۔ عدالت نے حکومت کو سوچ و بچار کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ جمعرات کو قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم سات رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ کیس کی سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو سوچنا چاہیے اس معاملے کو کیسے حل کرنا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق معاملہ قومی سلامتی کمیٹی میںزیر بحث ہے۔ حکومت کو غور کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کومعلوم ہےکہ حالات اچھے نہیں ہیں ہم نے فیصلہ دینا تھا دے دیا اب معاملہ حکومت کے سپرد ہے۔ بات ہونی چاہیے اور معاملے کا حل نکلنا چاہیے۔ اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ اس موقع پر گلگت بلتستان بار کونسل کے وائس چیئرمین لطیف شاہ نے کہا ہم نے بھی اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی درخواست کو بعد میں دیکھیں گے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔جبکہ  سپریم کورٹ میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے غیر ملکی سفارت خانوں کو بھیجی گئی جعلی ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نےشدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران نے اداروں کو ذاتی میراث سمجھ لیا ہے کیا مجاز افسران نشے میں دفتروں میں بیٹھتے ہیں؟جمعرات کو قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کتنی شرم کی بات ہے کہ کسی کو اس ملک کا کوئی درد نہیں۔ اسناد کی تصدیق کا معاملہ مالی کے سپرد کر دیاگیا۔ مالی کام کرے گا تو کیا سیکریٹری تفریح کرے گا؟ ملک کو اس نہج پر ایسے رویوں نے ہی پہنچایا ہے  ایک دوسرے کیس میں سپریم کورٹ میں سرکاری گھروں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے سی ڈی اے کے دو سو سے زائد گھروں پر قبضہ کیا ہوا ہے جس میں آئی جی کی رہائشگاہ بھی شامل ہے۔ جمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نےکی۔ عدالت اعظمیٰ نے اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کو دو ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم جاری کر دیا۔ دوران سماعت خیبرپختونخوا حکومت نے عدالت سے اس معاملے پر نئی رپورٹ جمع کروانے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی۔ جبکہ سی ڈی اے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اسلام آباد پولیس نے سی ڈی اے کے دو سو سے زائد گھروں پر قبضہ کیا ہوا ہے جس میں آئی جی کی رہائشگاہ بھی شامل ہے۔ جبکہ عدالت عظمیٰ میں گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کیس کی سماعت کے دورا ن نجی کمپنی کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں مشترکہ مفادات کونسل کوبائی پاس نہیں کر سکتی۔لیوی کے نفاذ پر مشترکہ مفادات کونسل کو نظرانداز کیا گیا۔اس فورم پر تمام صوبوں کو موقف پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جی آئی ڈی سی کے معاملے کو کبھی کونسل کے فورم پر پیش ہی نہیں کیا گیا۔ جمعرات کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کہ بتایا جائے لیوی ٹیکس ہے یا فیس؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے پاس قانون سازی کااختیار نہیں۔ پالیسی پر فیصلہ سازی کے بعد قانون سازی کے لیے کونسل معاملہ کو پارلیمنٹ ہی بھیجتی ہے۔ جی آئی ڈی سی پر کونسل کی کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی۔جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ کسی معاملے پر صوبوں میں ہنگامہ نا ہو اس لیے اتفاق رائے کے لیے مشترکہ مفادات کا فورم رکھا گیا ہے۔ حکومت سیس کو بل بنا کر کونسل کو اس پر غور کا کہہ سکتی ہے۔


سپریم کورٹ


© Copyright 2019. All right Reserved