پیر‬‮   11   ‬‮نومبر‬‮   2019

(قومی اسمبلی) حکومتی اکثریت کابھرپور مظاہرہ کئی آرڈیننس و بل منظور، اپوزیشن کا ہنگامہ

3آرڈیننس کو120دن کی توسیع کی قرار دادیں منظور ،7آرڈیننسز سپلیمنٹری ایجنڈے میں شامل کر کے بلوں کی شکل میں منظور کروالیا
اپوزیشن کا شدید احتجاج ، ڈپٹی سپیکر کے ڈائس کا گھیرائو ،آرڈیننسز و بلوں کی کاپیاں پھاڑ دیں ،ووٹ چور نامنظور ،آرڈیننس فیکٹری بند کرو کے نعرے

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی )قومی اسمبلی میں حکومت کی پھرتیاں ، قائمہ کمیٹیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے اور بغیر کسی بحث کے 11آرڈیننسز کو بلوں کی شکل میں منظور کروا لیا جبکہ3آرڈیننس کو120دن کی توسیع کی قرار دادیں منظور کروا لیں۔7آرڈیننسز کو سپلیمنٹری ایجنڈے میں شامل کر کے انہیں بلوں کی شکل میں منظور کروایا گیا ۔قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس کی روشنی میں مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل اورنیا پاکستان ہائوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل بھی منظور کر لئے گئے ۔ اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو کیا اور آرڈیننسز و بلوں کی کاپیاں پھاڑ دیں ۔اپوزیشن نے حکومت مخالف شدید نعرے بازی بھی کی اور جعلی ڈپٹی سپیکر ،ووٹ چور نامنظور ،آرڈیننس فیکٹری بند کرو کے نعرے لگائے ۔اپوزیشن ارکان مسلسل ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو متوجہ کرتے رہے مگر ڈپٹی سپیکر نے کسی کی نہ سنی اور بلوں کی منظوری کا عمل جاری رکھا۔ ڈپٹی سپیکر نے بل منظور کروانے کے بعد نماز مغرب کی ادائیگی کیلئے اجلاس کی کارروائی 15منٹ کیلئے ملتوی کی۔بعد ازاں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جگہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام کا بل ، میڈیکل اور صحت کے شعبوں سے متعلق معاملات سننے کیلئے الگ سے '' میڈیکل ٹربیونلز'' کے قیام کے بل بھی منظور کر لئے گئے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس کے آغاز میں وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایجنڈے پر موجود وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی ۔ ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے تحریک منظور کر لی ۔ اس کے بعد علی محمد خان نے میڈیکل ٹربیونل آرڈیننس 2019 (نمبر 14بابت2019)ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ۔احتجاج کے دوران پارلیمانی سیکرٹری نوشین حامد نے میڈیکل ٹربیونل آرڈیننس 2019 کی روشن میں خصوصی عدالتی ٹربیونل کے قیام کا بل (طبی ٹربیونل بل2019) منظوری کیلئے پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا ۔اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ بل منطور کرنے کی بجائے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بجھوایا جائے ۔ڈپٹی سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی بھیجنے کی بجائے رائے شماری کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کر لیا جس پر اپوزیشن نے آرڈیننس اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ڈپٹی سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو کیا ۔اپوزیشن نے حکومت مخالف شدید نعرے بازی بھی کی اور جعلی ڈپٹی سپیکر ،ووٹ چور نامنظور ،آرڈیننس فیکٹری نامنظور کے نعرے لگائے ۔طبی ٹربیونل بل2019 کے تحت میڈیکل اور صحت کے شعبوں سے متعلق معاملات سے پیدا ہونے والے تنازعات کو فی الفور اور مناسب طریقے سے سننے کیلئے میڈیکل ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے اور تنازعات کا فیصلہ کیا جا سکے گا ۔طبی ٹربیونلز کے فیصلوں کی اپیل سپریم کورٹ میں کی جا سکے گی ۔پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے پاکستان طبی کمیشن آرڈیننس2019(نمبر 15بابت2019)پیش کیا جس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری نے آرڈیننس کی روشنی میں پاکستان طبی کمیشن بل 2019منظوری کیلئے پیش کیا ۔ اس بل کو بھی ڈپٹی سپیکر نے کمیٹی کو بجھوانے کی بجائے اور بل کی شق وار منظوری کی بجائے تمام شقوں کو یکجا کر کے رائے شماری کے بعد منظور کر لیا ۔بل کے تحت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تحلیل کے بعد اس کی جگہ پاکستان طبی کمیشن قائم کیا جائے گا ۔بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے اپنا احتجاج جاری رکھا مگر ڈپٹی سپیکر نے کسی کی نہ سنی اور بلوں کی منظوری کا عمل جاری رکھا ۔ بعدازاں پارلیمانی سیکرٹری ملائکہ بخاری نے مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل 2019اوروزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے نیا پاکستان ہائوسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل2019پیش کیا ۔ ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد دونوں بلوں کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایجنڈے میں شامل نہ ہونے کے باوجود گزشتہ دنوں صدر مملکت کی جانب سے جاری کئے گئے 8آرڈیننس میں سے 7آرڈیننس ایوان میں پیش کر دیے اور ساتھ ہی ان آرڈیننس کے بل بھی منظوری کیلئے ایوان میں پیش کر کئے جس پر ایک بار پھر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ کم ازکم ہمیں پڑھنے کیلئے بل دیے جائیں تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ کون سے بل منظور کئے جا رہے ہیں اور ان میں کیا ہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کا مطالبہ سننے کی بجائے بلوں کی منظوری کا سلسلہ جاری رکھا ۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے بے نامی ٹرانزکشنز ممانعت ایکٹ2018میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے نیب ترمیمی بل 2019پیش جس کو ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے منطور کر لیا ۔ بل کے تحت 50ملین روپے سے زائد کی کرپشن کے الزام میں گرفتار ملزم کو جیل میں درجہ(ج)یا اس کے مساوی سہولیات کا حقدار ہوگا ۔ اعظم خان سواتی نے قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی کے قیام کا بل 2019پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منطو رکر لیا ۔ بل کے تحت جیلوں میں قید غریب قیدیوں جو سزا مکمل کرنے کے باوجود جرمانہ ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوں کی مدد کی جائے گی جبکہ پسماندہ خواتین اور بچوں کو خاص طور ہر جنسی جرائم کے معاملات میں قانونی معاونت فراہم کی جائیگی ۔ وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے جائیداد میں خواتین کے مملکیتی حقوق کو محکم اور محفوظ بنانے کا بل 2019پیش کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے کمیٹی کو بجھوانے کی بجائے اور بل کی شق وار منظوری کی بجائے تمام شقوں کو یکجا کر کے رائے شماری کے بعد منظور کر لیا ۔اعظم خان سواتی تیز تر وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء کا بل کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔قومی اسمبلی میں فیڈرل گورنمنٹ ہائوسنگ اتھارٹی ،قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس اور تعزیرات پاکستان ترمیمی آرڈیننس کو مزید 120دن کی توسیع کی قراردادیں منظو رکر لی گئیں ،حکومت نے دستور ترمیمی بل 2019،دارالحکومت اسلام آباد کے علاقائی حدود کے بزرگ شہریوں کا بل 2019،تحفظ قومی شاہرات ترمیمی بل 2019اورانسداد دہشت گردی ایکٹ1997میں مزید ترمیم کرنے کا بل انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2019پیش کردیا ۔بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے نماز مغرب کی ادائیگی کیلئے ایوان کی کارروائی پندرہ منٹ کیلئے ملتوی کردی مگر دوبارہ اجلاس شروع نہ ہوسکااور ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج جمعہ کی صبح 11بجے تک ملتوی کردیا۔
قومی اسمبلی

© Copyright 2019. All right Reserved