پیر‬‮   11   ‬‮نومبر‬‮   2019

(لاہور ہائیکورٹ)ڈاکٹرز کی ہڑتال پر پابندی سیکرٹری صحت قصور وار قرار (قانون پر مشاورت کا حکم )

قانون ختم نہیں ہوسکتا، ڈیوٹی اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ، ڈاکٹرز کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا، عدالت کے ریمارکس
ایم ٹی آئی ایکٹ پر سب کو اعتماد میں لیا؟ سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار،قانون مشاورت سے بنا کر مسودہ جمع کروانے کا حکم
لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں نئے مجوزہ قانون ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں ڈاکٹرز کی ہڑتال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم ڈی سی)، کالج آف فزیشن اور ینگ ڈاکٹرز کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ڈاکٹرز کے وکیل نے کہا کہ او پی ڈی میں ہڑتال نہیں ہے، ہڑتال کرنے والے ینگ ڈاکٹرز نہیں بلکہ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ہیں جو ہڑتال کرسکتے ہیں لیکن پروفیشنل ڈاکٹر ہڑتال نہیں کرسکتے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا، ڈیوٹی اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ہے، پی ایم ڈی سی اور پنجاب حکومت ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن لیں، یہ ہیلتھ سیکرٹری کا قصور ہے کہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہے۔ عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا کہا جب آپ ایم ٹی آئی ایکٹ لیکر آئے تو سب کو اعتماد میں لیا گیا؟۔ اس پر عدالت میں موجود وکلاء نے نہیں کی آواز لگائی۔ عدالت نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ اپنے بڑوں سے پوچھیں کہ قانون سے متعلق کیا کرنا ہے۔ ڈاکٹرز کے وکیل نے کہا کہ ہمیں کچھ وقت دیا جائے ہم ابھی طے کرلیتے ہیں۔ سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ ہم نے ایک کمیٹی بنائی، ہم نے نرسز اور ڈاکٹرز سب کو کمیٹی میں شامل کیا اور سنا، ہماری کل رات بھی میٹنگ ہوئی اب یہ کہتے ہیں کہ یہ قانون ہی ختم کریں۔عدالت نے کہا کہ قانون تو اب ختم نہیں ہوسکتا، عدالت حکومت کیساتھ کھڑی ہے، ڈاکٹرز ہڑتال ختم کریں اور ڈیوٹی پر جائیں، اس وقت ڈینگی، سموگ اور دیگر مسائل چل رہے ہیں لیکن ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، مجھے ینگ ڈاکٹرز لکھ کر دیں کہ ہڑتال نہیں کرینگے اور آج 12 بجے ہڑتال ختم ہوگی، عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ پروفیشنل ہڑتال نہیں کرسکتے، آئین کے تحت ان کی ہڑتال جائز نہیں، بارہ بجے تکہڑتال ختم نہ کی تو اچھا نہیں ہوگا۔ عدالت نے حکم دیا کہ جب تک مکمل قانون سازی نہیں ہوتی ہڑتال بلا جواز ہے، ڈاکٹرز کی ہڑتال اس وقت قبل از وقت ہے، ینگ ڈاکٹرز کے نمائندوں نے یقین دہانی کرادی ہے کہ ہڑتال ختم کررہے ہیں، پورے صوبے میں بارہ بجے تمام ڈاکٹرز ڈیوٹی پرہونے چاہئیں، ہڑتال کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی میں جیل جائیں گے۔ عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو نئے قانون سازی میں تمام فریقوں کو شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نیا قانونی مسودہ مشاورت سے بنایا جائے اور 23 نومبر کو عدالت میں نیا مسودہ اور رپورٹ جمع کرائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو دسمبر تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائیکورٹ

© Copyright 2019. All right Reserved