بدھ‬‮   23   اکتوبر‬‮   2019

قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں میں مانیٹرنگ نظام تاخیر کا شکار

سولہ سکیل میں60ڈیٹا کلیکٹرز بھرتی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی
پشاور(بیورورپورٹ)خیبرپختونخواکے قبائلی اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں مانیٹرنگ کا نظام تاخیر سے دوچار ہوگیا محکمہ صحت کے انڈی پنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کیلئے اپریل میں ڈیٹا کلکٹر کی60اسامیوں پر کئی ماہ بعد بھی کسی قسم کی پیش رفت نہ ہوسکی ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے اپریل میں آئی ایم یو کو قبائلی اضلاع تک توسیع کیلئے232ملین روپے کا پی سی ون منظور کیا جس کی روشنی میں قبائلی علاقہ جات کیلئے سولہ سکیل میں60ڈیٹا کلکٹرز بھرتی کرنیکی منصوبہ بندی تھی لیکن ابھی تک اس معاملے پر آئی ایم یو انتظامیہ کی جانب سے بھرتی کا اشتہار نہیں دیا گیا ہے جس کیو جہ سے قبائل میں آئی ایم یو کی توسیع محض ایک خواب بن گیا ہے ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں تاخیر سے محکمہ صحت کا نقصان ہورہا ہے لیکن آئی ایم یو کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہیں ہورہی اس حوالے سے آئی ایم یو کے ذرائع نے رابطے پر بتایاکہ قبائلی اضلاع میں بھرتی پر پابندی عائد تھی جس کی وجہ سے بھرتیوں کیلئے اشتہار نہیں دیا گیا تھا جبکہ جو پی سی ون اپریل میں منظور کیا گیا تھا اس پی سی ون پر بھی نظر ثانی کی درخواست کی گئی ہے
تاخیر

© Copyright 2019. All right Reserved