بدھ‬‮   23   اکتوبر‬‮   2019

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان

پنے وسائل سے پیدا کردہ 72 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں پہلے ہی شامل کر چکے ہیں، صوبے کو 1.9 ارب روپے سالانہ آمدن ہوگی
صوبے کے صنعت کاروں کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا ، 280 چھوٹے پن بجلی گھر بھی مکمل کئے جاچکے ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
پشاور(بیورورپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں صنعت اور سرمایہ کاری کا تیز ترفروغ صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے ، حکومت کے اپنے وسائل سے پیدا کردہ 72 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں پہلے سے شامل کر چکے ہیں جس سے صوبے کو 1.9 ارب روپے سالانہ آمدنی آئے گی، اب صنعت کاروں کو ویلنگ ماڈل کے ذریعے سستی بجلی فراہم کرنے جارہے ہیں جو بلاشبہ صوبائی حکومت کا انقلابی قدم ہے جس سے سالانہ 305 ملین روپے آمدنی آئے گی ، ہم عوام کی فلاح کیلئے کام کر رہے ہیں مگر کچھ لوگ فساد کے درپے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کے ہاتھوں میں بندوق کی جگہ قلم دینا چاہتے ہیں، ہم ترقی اور اصلاحات کے عمل کو فساد کی نذر نہیں ہونے دینگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں محکمہ توانائی و برقیات حکومت خیبرپختونخوا اور صنعت کاروں کے درمیان سستی بجلی کی خریدوفروخت کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان، چیف سیکرٹری سلیم خان، سیکرٹری توانائی، کورئین سفیر ، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں نے تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب میں صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے تعمیر کردہ پیہور پن بجلی گھر سے پیدا ہونے والی 18 میگا واٹ بجلی ویلنگ ماڈل کے ذریعے مختلف صنعتی شعبوں کو سستے داموں فروخت کرنے کیلئے معاہدوں پر دستخط کئے گئے ۔ معاہدے کی رو سے صوبائی حکومت صنعت کاروں کو 7.50 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرے گی جووفاقی حکومت کے ریٹ کے مقابلے میں بہت سستا ہے۔ وزیراعلیٰ نے معاہدے کو صنعت کے فروغ کیلئے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے صنعت کاروں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا جو آج صوبائی حکومت نے پورا کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اس کاوش کے نتیجے میں نہ صرف صنعتوں کو سستی اور بلاتعطل بجلی فراہم ہوگی بلکہ صوبے کی آمدن 162 ملین روپے سالانہ سے بڑھ کر 305 ملین روپے ہو جائے گی اس کے علاوہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس خطے کو صنعتی و تجارتی مرکز بنانا چاہتے ہیں اسی مقصد کیلئے طورخم بارڈر کو 24 گھنٹوں کیلئے کھولا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2020 ء تک تقریباً 216 میگاواٹ مزید بجلی میسر ہوگی جو اسی طریقہ کار کے تحت صنعتوں کو سستے داموں فراہم کی جائے گی۔محمود خا ن نے حکومت کے میگا منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ رشکئی اکنامک زون پر بھی عملی کام کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا، 280 چھوٹے پن بجلی گھر مکمل کئے جاچکے ہیں جو آئندہ ماہ متعلقہ کمیونٹیز کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعداد ایک ہزار تک لے جانے کی منصوبہ بندی رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے معدنی وسائل میں استعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں تیل کی پیداوار کا 52 فیصد فراہم کرتا ہے۔اسی طرح 11 فیصد گیس اور چالیس فیصد ایل پی جی بھی یہ صوبہ پیدا کر رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت صوبے کو تیزتر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے قابل عمل منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے تاہم کچھ عناصر فساد کرنا چاہتے ہیں اور تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔محمود خان نے واضح کیا کہ وہ ترقی اور بہتری کے عمل کو کسی کی ذاتی چاہت اور خواہش کے نذر نہیں ہونے دینگے۔دریں اثناوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں سیاحت کو بطور صنعت ترقی دینے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مذہبی سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں کورئین حکومت کی دلچسپی اور تعاون کو سراہا اور کہا کہ یہ صوبہ سیاحت اور صنعت کے حوالے سے موزوں ترین حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حکومت صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سیاحو ں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریگی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں کورئین سفیرKwak Sung-Kyuکی سربراہی میں کثیر رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ نے کورئین سفیر کی صوبے کے توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے غیر معمولی دلچسپی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی حکومت باہمی تعلقات اور سرمایہ کاری کے مزید فروغ کیلئے ہر ممکن تعاون یقینی بنائے گی
محمود خان

© Copyright 2019. All right Reserved