بدھ‬‮   23   اکتوبر‬‮   2019

چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ

آئے روز مقدمات کی سماعت ملتوی کرنے کے لئے نئے طریقوں سے درخواستیں دائرکی جاتی ہیں
مقدمات کابوجھ بڑھتاہے اورطوالت کاشکاررہتے ہیں ،سٹس وقاراحمدسیٹھ کے کیس کی سماعت پر ریمارکس
پشاور ( بیورو رپورٹ ) پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقاراحمدسیٹھ نے کہاہے کہ وفاقی حکومت نے عدالتوں سے مذاق بنارکھاہے آئے روز مقدمات کی سماعت ملتوی کرنے کے لئے نئے طریقوں سے درخواستیں دائرکی جاتی ہیں جس سے مقدمات کابوجھ بڑھتاہے اورطوالت کاشکاررہتے ہیں یہی صورتحال رہی تو ہم اٹارنی جنرل کاانتظاربھی نہیں کریں گے بلکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کیس میں دلائل دیں گے جس کے لئے وہ ہرقسم کی تیاری کریں فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گذشتہ روزایکشن ان ایڈپائورسول ریگولیشن سے متعلق صوبائی حکومت کے آرڈیننس کے خلاف دائررٹ درخواستوں کی سماعت کے دوران دئیے دورکنی بنچ چیف جسٹس وقاراحمدسیٹھ اور جسٹس نعیم انورپرمشتمل تھا رٹ درخواستیں شبیرحسین گگیانی ایڈوکیٹ اوردیگروکلاء نے دائرکررکھی ہیں جن میں صوبائی حکومت اوردیگرمتعلقہ حکام کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاگیاہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 5اگست2019ء کو ایکشن ان ایڈسول پائورریگولیشن کااختیارپورے صوبے تک بڑھادیاگیاہے جوکہ غیرآئینی اورغیرقانونی اقدام ہے کیونکہ فاٹاکی قبائلی حیثیت کے خاتمے اورصوبے میں انضمام کے بعداب ریگولیشن کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی اورصوبائی حکومت نے اب ریگولیشن کادائرہ کارپورے صوبے تک بڑھادیاہے جوکہ غیرقانونی اورغیرآئینی اقدام ہے اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل شمائل احمدبٹ نے عدالت کو بتایاکہ اس کیس میں وفاقی حکومت کے اداروں کاکرداربہت زیادہے اس بناء قانون کے حوالے سے وفاق کو سنناضروری ہے جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ پوچھاکہ وفاقی حکومت کاکوئی نمائندہ ہے تو جواب نفی میں ملابعدازاں ڈپٹی اٹارنی جنرل اصغرکنڈی عدالت میں پیش ہوئے اوربتایاکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے چندروزقبل پشاورہائی کورٹ میں ایک درخواست دائرکی ہے جس میں موقف اختیارکیاہے کہ وہ اہم کیسز کی سماعت کے باعث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں
چیف جسٹس

© Copyright 2019. All right Reserved