بدھ‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2019

پاک کشمیر کالج کے تمام کیمپسز میں زلزلہ شہداءکیلئے تقریبات


پاک کشمیر کالج کے تمام کیمپسز میں زلزلہ شہداءکیلئے تقریبات
14سال ہوگئے لیکن تلخ یادیں اور لمحات بھلائے نہیں جاسکتے ، پرنسپل سعدیہ ضمیر
میرپور(نمائندہ اوصاف) پاک کشمیر کالج کے تمام کیمپسز میں 8اکتوبر 2005کہ زلزلہ کی 14برسی کے حوالہ سے اور شہدائے زلزلہ کے درجات کی بلندی کیلئے الگ الگ تقریبات منعقد ہوئیں جس میں طلباء وطالبات اساتذہ، پرنسپل، ڈائریکٹر نے شرکت کی ۔ مرکزی تقریب پاک کشمیرکالج کے مین کیمپس ہال روڈ میں منعقد کی گئی جس میں خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ادارہ سعدیہ ضمیر نے کہا کہ آج ہم 2005کے زلزلہ میں شہید ہونے والوں کو یاد اور اُن کے درجات کی بلندی کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں آج اس سانحہ کو 14سال ہونے کو ہیں لیکن اس سانحہ کی تلخ یادیں اور لمحات بھلائے نہیں جاسکتے جب پل پر بھر میں ہستے بستے شہر قصبات گائوں گھر سکول اور کالج تباہ وبرباد ہوگئے اور ہمارے ہزاروں پیارے ہم سے جدا شہید ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی 8اکتوبر آتا ہے وہ تلخ یادیں دوبارہ زندہ ہوجاتیں ہیں 8اکتوبر 2005کا دن اور 8بج کر 52منٹ پر پاکستان اورآز ادکشمیر کی تاریخ کا دوسرا بڑا زلزلہ آیا جس میں ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوئے لاتعداد شہر تباہ ہوئے آفت اور مصیبت کی اس گھڑی میں پوری قوم نے متحد ویکجان ہو کر مصیبت کی اس گھڑی کا مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ ہمیں تمام آفات وبلیات زلزلوں سے محفوظ رکھے شہداء کیلئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُ ن کے درجات بلند کرے ۔ اس موقع پر پروفیسر جمیل احمد جمیل نے شہدائے زلزلہ کو بھرپور انداز میں خراج عقید ت پیش کیا تلاوت نعت کا شرف حافظ محمد صہیب ، مدثر مقبول نے حاصل کیا ۔ آخر میں حافظ میں صہیب نے شہدائے زلزلہ کیلئے خصوصی دعا کی ۔
تقریبات

© Copyright 2019. All right Reserved