منگل‬‮   12   ‬‮نومبر‬‮   2019

متاثرین جامعہ کشمیر چہلہ بانڈی اور اتنظامیہ کے درمیان تصاد م کا اندیشہ


متاثرین جامعہ کشمیر چہلہ بانڈی اور اتنظامیہ کے درمیان تصاد م کا اندیشہ
بائونڈری وال کے باہر مقامی لوگوں کی اراضی پر قبضہ کی مذمت کرتے ہیں ، عبد الرشید اعوان
مظفرآباد(سٹی رپورٹر)متاثرین جامعہ کشمیر چہلہ بانڈی بانڈی کیمپس اور اتنظامیہ یونیورسٹی کے مابین تصاد م کا اندیشہ ،متاثرین کا اپنے آبائو اجداد کی قبروں اور قیمتی املاک کی جامعہ کشمیر کیلئے قربانی دینے کے بعد اپنی اولاد کے مستقبل کی قربانی نہ دینے کا فیصلہ،متاثرین یونیورسٹی چہلہ بانڈی کیمپس کا اجلاس گزشتہ روز عبدالرشید اعوان کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں یاسین مغل،نصیر اعوان،اورنگزیب مغل ،ملک سیاب سمیت متاثرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،اس موقع پر متاثرین نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بائونڈری وال کے باہر مقامی لوگوں کی اراضی پر قبضہ کی سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مادر عملی کیلئے ماضی میں چہلہ بانڈی کے لوگوں نے اجتماعی مفاد کیلئے اپنی کروڑوں کی جائیدادیں کوڑیوں کے دام حکومت کو دیں جامعہ کشمیر کا ایوارڈ شدہ رقبہ بائونڈری وال کے اندر اندر ہے جو یونیورسٹی کے زیر قبضہ ہے اب چند کرپٹ عناصر اپنی کرپشن چھپانے کیلئے بائونڈری وال سے باہر لوگوں کے گھروں پر قبضہ کے خواہاں ہیں ،جامعہ کشمیر کے کرپٹ عناصر کا یہ خواب پورا نہیں ہونے دیں گے،اگر مقامی افراد کو سماعت کئے بغیر اور ہمارے منتخب نمائندہ حلقہ3کے ایم ایل اے کی مشاورت بغیر کسی بھی قسم کی دراندازی کی کوشش کی گئی تو مقامی لوگ بھرپور مزاحمت کریں گے کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقع کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

© Copyright 2019. All right Reserved