منگل‬‮   12   ‬‮نومبر‬‮   2019

حکومت تعلیمی شعبہ کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینا چاہتی ہے ،سجاد خان


حکومت تعلیمی شعبہ کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینا چاہتی ہے ،سجاد خان
24طلبہ سے کم پرائمری اداروں کو بند کرنے کا حکومتی نوٹیفکیشن کو مسترد کرتےہیں
راولاکوٹ(نمائندہ خصوصی)ٹیچرز آرگنائزیشن کا پرئمرای اداروں میں اساتذہ کی تعداد کو کم کرنے کا حکومتی نوٹیفکیشن کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔اس نوٹیفکیشن کی آڑ میں حکومت تعلیمی شعبہ کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینا چاہتی ہے ، آرگنائزیشن اس کی بھرپور مزاحمت کرے ، آزادکشمیر سکول ٹیچرز آرگنائزیشن کے مرکزی صدر سردار محمد سجاد خان نے پرائمری اداروں میں 24تعداد سے کم والے پرائمری ادارہ جات کو بند کرنے کا حکومتی نوٹیفکیشن مسترد کرتے ہوئے حکومت کے ذمہ داران کو متنبہ کیا کہ اگر اس قسم کا گھنائونا کھیل بند نہ کیاگیا تو آزادکشمیر سکول ٹیچرز آرگنائزیشن پورے آزادکشمیر سے بھرپور احتجاجی مظاہرے کرے گی ، انہوں نے کہا کہ پہلے ہی سے ہائی ، مڈل اور پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے ، انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ایسے ادارے ابھی تک موجود ہیں جن میں کئی سالوں سے مختلف مضامین کے ٹیچرز موجو د نہیں ہیں جس کی وجہ سے غریب طلبہ کا تعلیمی حرج ہورہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ٹیچرز آرگنائزیشن نے کوشش کی کہ حکومت کے ساتھ مفاہمتی پالیسی کے تحت سارے معاملات حل ہوں لیکن محکمہ تعلیم کے ذمہ داران شاہد اس کو آرگنائزیشن کی کمزوی سمجھتے ہیں ، وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم سے میٹنگز میں طے ہونے والے معاملات کا ابھی تک کو ئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ، سیکرٹریٹ کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ عناصر کو محکمہ تعلیم سے ذاتی دشمنی ہے اور وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ، ٹیچرز آرگنائزیشن ، وزیراعظم آزادکشمیر ، وزیرتعلیم اورسیکرٹری تعلیم سے بھرپور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھیں جو آرگنائزیشن اور حکومت کے درمیان اس قسم کی غلط فہمیاں پیدا کر کے پر امن ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں ۔

© Copyright 2019. All right Reserved