بدھ‬‮   23   اکتوبر‬‮   2019

کنٹرول لائن کے قریب احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری


چکوٹھی روڈ پانچویں روزبھی بند،پولیس کے تازہ دستوں کی آمد، ترابی ، نورین عارف،صغیر بھی پہنچ گئے
مذاکرات بے سود ،مظلوم بھائیوں کی مددکیلئے سرینگرجاناچاہتے ہیں،صلاح الدین کاٹیلیفونک خطاب
احتجاج کے باعث عوام کو مشکلات کی خبریں غلط،صدر لبریشن فرنٹ ،آج آئندہ لائحہ عمل کا اعلان

چکوٹھی ، ہٹیاں بالا (زاہد جاوید عباسی،اسلم مرزا سے) جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا مقبوضہ کشمیر میں جاری کر فیو اور بھارتی ظلم و ستم کے خلاف احتجاجی دھرنا چناری اور لائن آف کنٹرول چکوٹھی کے درمیان (چنوئیاں،بھرائیاں ) کے مقام پر چوتھے روز بھی جاری شرکاءدھرنا سے اظہاریکجہتی کے لیے سابق امیر جماعت اسلامی ،ممبر قانون ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی ،وزیر حکومت نورین عارف ، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(ص) کے سربراہ سردار صغیر خان ایڈوکیٹ سمیت متعدد اہم شخصیات دھرنے میں پہنچ گئیں ۔ نئے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ،شرکاءدھرنا پر پھولوں کی پتیاں نچھاور ،بھارتی چوکیوں کے سامنے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں زبردست نعرے بازی۔ پولیس کی جانب سے پانچویں روز بھی کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں لگا کر چکوٹھی روڈ بند رہی پولیس کے تازہ دم دستے اور خواتین پولیس اہلکاران بھی چناری پہنچ گئیں ۔ ریسٹ ہاؤس چناری میں وزیر اطلاعات آزاد کشمیر مشتاق منہاس ،وزیر تعلیم کالجز کرنل(ر) وقار نو ر،جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی اور ترجمان رفیق ڈار کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہو گئے ۔ توقیر گیلانی کا آج جمعرات کے روز صبح دس بجے (چنوئیاں ،بھرائیاں )کے مقام پر پریس کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ۔تفصیلات کے مطابق توقیر گیلانی ،حافظ انور سماوی،رفیق ڈار ،طاہرہ توقیر اور دیگر کی قیادت میں بھارتی چوکیوں کے سامنے احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری رہا ، شرکاءدھرنا دریا ئے جہلم کے کنارے سخت سردی میں بھی شاہراہ سرینگر پر دھرنا دے کر بیٹھے رہے۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ صلاح الدین نے شرکاءدھرنا سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لئے سرینگر جانا چاہتے ہیں آزادی مارچ کے شرکاءکو سلام پیش کرتا ہوں مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ ہندوستانی فوج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہے کرفیو ختم کروانے میں عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے وہ وقت دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ توقیر گیلانی نے کہا کہ ہم نے اپنے کارکنان کو بڑی مشکل سے کنٹرول کر رکھا ہے اگر ہم ایک اشارہ کر دیں تو یہ رکاوٹیں لبریشن فرنٹ کے کارکنان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے سے ہی مذاکرات کریں گے ہمارے احتجاج کے باعث چناری،چکوٹھی کے عوام کو مشکلات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ۔ سردار صغیر خان ایڈوکیٹ کا دھرنا شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وحدت کشمیر کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آپ کے منتظر ہیں مصیبت زدہ لوگوں کا مسیحا بنیں آئیں ہم آپ کے دست و بازو ہوں گے۔ آزاد کشمیر گلگت بلتستان پرمشتمل ایک انقلابی حکومت کو تسلیم کیا جائے ۔ رفیق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں آزادانہ رائے شماری کے لیے عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے ، آزادی مارچ کی منزل سری نگر ہے اقوام متحدہ عالمی برادری فوری توجہ دے۔ ریسٹ ہاﺅس چناری میں مذاکرات کے بعد ڈاکٹر توقیر گیلانی کا مزید کہنا تھا ہماری حکومتی وزراءسے ملاقات ہوئی ہے دھرنا جاری ہے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان آج جمعرات کی صبح دس بجے دھرنا کے مقام پر کریں گے تمام کارکنان دس بجے تک دھرنا میں پہنچ جائیں۔ دریں اثناءڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا کی ناقص پالیسیوں کے باعث بدھ کے روز چناری اور گردونواح میں بعض تعلیمی ادارے بند اور بعض کھلے رہے، مقامی صحافیوں کی جانب سے متعدد مرتبہ ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی کو فون کالز کر کے ان سے تعلیمی اداروں کو کھلا یا بند رکھنے اور چکوٹھی اور گردونواح کے عوام کے لیے براستہ گوجر بانڈی متبادل راستہ کے حوالہ سے موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا نے کسی بھی صحافی کا فون نہیں اٹھایا ڈپٹی کمشنر کے رویہ کے باعث مقامی لوگوں کو شدید مشکلات اور پریشانیوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
کنٹرول لائن دھرنا

© Copyright 2019. All right Reserved