پیر‬‮   14   اکتوبر‬‮   2019

بھارتی سپریم کورٹ، کشمیری بچوں کی گرفتاریوں پر عدالتی تحقیقات کا حکم

زیر حراست بعض بچوں کی عمر صرف 10 سال ،کچھ کی اموات ہوئی ہیں،تعدادکا کچھ پتا نہیں، بھارتی انسانی حقوق کا رکن
مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ کی جووینائل جسٹس کمیٹی تحقیقات کریگی،بھارتی حکومت کے نمائندے کا اعتراض مستردکردیا گیا

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بچوں کی مبینہ گرفتاری کے الزامات سامنے آنے پر بھارتی سپریم کورٹ نے ان واقعات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ کی بچوں سے متعلق کمیٹی ’’جووینائل جسٹس کمیٹی‘ ‘کو بھارتی سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کی مبینہ گرفتاری کے الزامات کی تحقیقات کرے۔بھارتی سپریم کورٹ میں بچوں کی گرفتاری سے متعلق درخواست بچوں کے حقوق کیلئے سرگرم کارکن اِناکشی گانگولی نے دائر کی تھی۔ اناکشی گانگولی کا دعویٰ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست سے شروع ہونے والے کریک ڈاؤن میں بچوں کو بھی بڑی تعداد میں گرفتار کیا گیا ہے۔درخواست میں بتایا گیا تھا کہ کشمیر میں زیر حراست بعض بچوں کی عمر صرف 10 سال ہے جبکہ کچھ بچوں کی اموات بھی ہوئی ہیں۔اناکشی گانگولی نے اس پٹیشن کے ذریعے اس معاملے میں عدالتی مداخلت کی درخواست کی تھی۔انہوں نے عدالت سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ حکومت کو کشمیر میں گرفتار ہونے والے بچوں کی تعداد بتانے کی ہدایت کرے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کتنے بچے شہیداور زخمی ہوئے ہیں۔اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بھارت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ کی جووینائل جسٹس کمیٹی کو مذکورہ الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ان الزامات پر فی الحال کوئی رائے نہیں دیں گے۔ البتہ اناکشی گانگولی اور شانتا سنہا نے اہم ایشوز اٹھائے ہیں اور بچوں کی حراست کے الزامات لگائے ہیں۔عدالت میں بھارتی حکومت کی نمائندگی کرنے والے تشار مہتا نے بچوں کی حراست کا ذکر کئے جانے پر اعتراض کیا لیکن عدالت نے ان کا اعتراض مسترد کر دیا۔ دہلی میں مقیم سرینگر کے ایک سینئر تجزیہ کار شیخ منظور احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اقدام پر کہا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہو جائے گا کہ کتنے بچوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔شیخ منظور احمد کے مطابق کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے سے ایک روز قبل ہی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق کم از کم چار ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی واضح صورتحال سامنے نہیں آ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات ہوں گی تو کم از کم حکومت کو یہ بتانا پڑے گا کہ اس نے کتنے لوگوں کو گرفتار کیا جبکہ ان میں سے بچے کتنے ہیں۔
تحقیقات



© Copyright 2019. All right Reserved