ہفتہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2019

اسفندیار ولی

اے این پی نے 1200سے زائد کارکنان کی قربانیاں دی ہیں
ہم نے اپنے سروں پر کھیل کر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ،اے این پی سربراہ
پشاور ( بیورو رپورٹ ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے افغان عالمی امن کانفرنس سے واپسی پرعالمی یوم امن کے حوالے سے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے اے این پی نے آج تک 1200سے زائد کارکنان کی قربانیاں دی ہیں،دہشتگردی اوردہشتگردوں کے خلاف اے این پی نے روز اول سے ایسی پالیسی اپنا رکھی ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس پالیسی کی وجہ سے اے این پی اُن کے نشانے پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے دہشتگردوں کے سامنے اپنے آپ کو آگے کیا ہے تاکہ پختون دھرتی محفوظ ہو،ہم بھی ایسا کرسکتے تھے کہ ہم سے پہلے حکومتوں کی طرح ہم بھی صرف حکومت کرتے اورآئینی مدت پورا کرکے گھر چلے جاتے لیکن ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہماری دھرتی ہے،پختون میری قوم ہے،میری قوم کے دکھ پر مجھے اتنا ہی درد ہوتا ہے جتنا ایک عام اور غیر سیاسی پختون کو ہوتا ہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج کے حکمران کیا اس بات کیلئے تیار ہوجائینگے کہ اس کے سر کے قیمت پر پختون قوم دہشتگردی کے عفریت سے بچ سکیں؟ہم نے اپنے سروں پر کھیل کر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے،انہوں نے کہا کہ قوم کو اس پر بھی سوچنا ہوگا کہ اُن کے حقیقی نمائندے کون ہیں؟کوئی مانے یا نہ مانے گزشتہ چالیس سالوں سے پختونوں کی سرزمین میدان جنگ بن چکی ہے۔ مستقل بنیادوں پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کئی سالوں تک ریاست نے اس عفریت کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ چالیس سال سے لگائی گئی اس آگ کو ٹھنڈاکرنے کیلئے سب سے پہلے ذہنیتوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔یہ مسئلہ اُس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک مین حیث القوم پختون دہشتگردی کے خلاف اُٹھ کھڑے نہیں ہوتے اور دہشتگردی کے اس عفریت کا مقابلہ نہیں کرتے،اگر پختون تقسیم ہونگے اور دہشتگردی کا مقابلہ ایک پلیٹ فارم سے نہیں کرینگے اور وقتی فائدوں اور حکومتوں کیلئے دہشتگرد کارروائیوں پر خاموش رہینگے تو اس کا فائدہ دہشتگردوں کو ہی ہوگا۔انہوں نے کہا وہ لوگ جو پرویز مشرف کے ساتھی تھے اور دہشتگردی کے فروغ میں اُن کا ایک کردار رہا ہے ،آج اپنے آپ کو بچانے اور حکومتوں کے حصول کیلئے بھاگ گئے ہیں
اسفندیارولی

© Copyright 2019. All right Reserved