منگل‬‮   10   دسمبر‬‮   2019

لطیف اکبر پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر اس وقت دنیا میں تنہا ہے، ہم تقسیم کشمیر کو قبول نہیں کرینگے


پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر اس وقت دنیا میں تنہا ہے، ہم تقسیم کشمیر کو قبول نہیں کرینگے
ہمیں سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی معاملات سے نقل کر آگے کی طرف جانا ہو گا،پریس کانفرنس
مظفرآباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہیکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل پاکستان کی قوم اپوزیشن،آزادکشمیر کی سیاسی قیادت ،حریت کانفرنس کو اعتماد میں لینا چاہیئے۔پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر اس وقت دنیا میں تنہا ہے ہم تقسیم کشمیر کو قبول نہیں کرینگے۔بلاول بھٹو زرداری وحدت کشمیر کا نعرہ لیکر اکتوبر کے پہلے ہفتے میں آزادکشمیر کے لائن آف کنٹرول کا دورہ کرینگے حکومت آزادکشمیر تحریک آزادی کشمیر کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کرے اخراجات پے کنٹرول کرے ،ایاعیاشیاں بند کرے،گاڑیوں کی خریدوفروخت روک دی جائیں۔ہم وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کو آل پارٹیز کے حوالے سے جو تجاویز دیں تھیں اُن کا انتظار کررہے ہیں وزیراعظم آزادکشمیر کی اس بات سے اتفاق ہے جو اُنہوں نے اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی معاملات سے نقل کر آگے کی طرف جانا ہو گا۔ان خیالات کااظہار اُنہوں نے گذشتہ روز مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ بھارت نے 370اور35اے کا خاتمہ کرکے جہاں غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کیے کرفیو کا نفاذ کیااور لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا،بچوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ،عورتوں کو اغوأ کر لیا گیا حریت قیادت کو جیلوں میں بند کیا لوگ بھوک ننگ،اور پیاس سے مر رہے ہیں ایسے حالات میں بھارتی سپریم کورٹ نے کرفیو ہٹانے کا جو حکم دیا بھارت سپریم کورٹ کے حکم کو بھی نہیں مان رہا ۔اُنہون نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر کے موجودہ حالات میں کوئی بڑا قدم نہیں اُٹھایا اور نہ ہی ایسے اقدامات کیے جس سے یہ کہا جائے کہ اُنہوں نے کشمیر کے محاذ پر کوئی تیر مارا ہو ۔اُنہوں نے پاکستان میں اپوزیشن کے لوگوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا عید کا موقع آیا بلاول بھٹو چئیر مین پاکستان پیپلزپارٹی کوہالہ کراس کررہے تھے اُن کی پھوپھی کو ہسپتال سے گرفتار کر لیا گیا یوم سیاہ کے موقع پر مریم نواز کو جبکہ جنرل اسمبلی میں جانے سے پہلے خورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا ۔یہ ایسے اقدامات ہیں جو کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کیے جا رہے ہیں اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان جنرل اسمبلی میں خطاب سے پہلے پاکستان کی قوم سیاسی قیادت،پارلیمنٹ،آزادکشمیر کی عوام،سیاسی قیادت،حریت کانفرنس اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیں ۔اُنہوں نے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا ۔اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید جب جنرل اسمبلی میں گئے تھے اُنہوں نے تین کام کیے تھے پاکستان کی اپوزیشن ،پاکستان کے لوگوں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا تھا اور وہاں جا کے بھرپور کشمیریوں کی نمائندگی کی تھی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آج بھی اُسی طرح کے اقدامات اُٹھائے جانے چاہیئے ہم کسی بھی تقسیم کشمیر کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے یہی وجہ ہے کہ ہماری پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری جنہوں نے اپنے اے پی سی کے اجلاس میں واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری رگوں میں کشمیرکا خون شامل ہے اکتوبر کے پہلے ہفتے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری وحدت کشمیر کا نعرہ لیکر وہ آزادکشمیر کے تمام اضلاع بالخصوص نکیال ،فارورڈ کہوٹہ،باغ،راولاکوٹ،نیلم،مظفرآباد کنٹرول لائن کا دورہ کرینگے۔ہم اُن کا بھرپور استقبال کرینگے۔اُنہوں نے کہا آزادکشمیر کی تاریخ میں یہ پہلی بار ایسا ہوا کہ عید کے موقع پر ہماری پارٹی کی قیادت نے عید یہاں گزاری مہاجر کیمپوں کا دورہ کیا یہاں میڈیا کے زریعے خطاب کرکے کشمیر کے اوپر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارے چئیرمین بلاول بھٹو کی تحریک پر ہی پانچ اگست کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہاں وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب کے اندر کہا کہ میں جنگ تو نہیں کر سکتا بتائیں مجھے کیا کرنا چاہیئیے اُنہوں نے کہا ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے اُس نے کشمیر کے اوپر خاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور آئینی دہشت گردی کے زریعے 370اور35اے کا خاتمہ کر کے 46روز سے کرفیو کا نفاذ دنیا کی بدترین مثال قائم کی پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر اس کی شدید مذمت کرتی ہے اور ہم حکومت آزادکشمیر سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ وہ حالات کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے آزادکشمیر میں اس وقت ایمرجنسی قائم کر کے تمام فنڈز تحریک آزادی کشمیر کیلئے وقف کر دیے جائیں عیاشیاں بند کی جائیں لوگوں کو نوازنے یا گاڑیوں کی خرید وفروخت کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے ہمیں اس نازک صورتحال پر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو کر ہمیں جدوجہد کرنا ہو گی ۔پریس کانفرنس میں میاں وحید ، اشفاق ظفر، جاوید میر،مبارک حیدر ،نورین کاظمی،راجہ بشارت افضل ،شبنم،صداقت سمیت دیگر کئی عہدیدار بھی موجود تھے۔
لطیف اکبر

© Copyright 2019. All right Reserved