بدھ‬‮   23   اکتوبر‬‮   2019

دو کالم دو تین پٹیوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیروز والہ بار میں پولیس ،وکلا ء جھگڑے کامعاملہ حل نہ ہوسکا


دو کالم دو تین پٹیوں کے ساتھ

فیروز والہ بار میں پولیس ،وکلا ء جھگڑے کامعاملہ حل نہ ہوسکا
پنجاب بار کونسل کے ذمہ داروں کی آئی جی کو ازالےکیلئے وارننگ
معاملہ کے حل نہ ہونے کی صورت میں تحریک چلانے کا اعلان
لاہور ( محمد ریاض بھٹی ) فیروز والہ بار ایسوسی ایشن میں پولیس اور وکلا کے درمیان ہونے والے جھگڑے کا حل نہ نکل سکا ، پولیس رویہ سے وکلا شدید تنگ ، گاہے بگاہے جھگڑے کے واقعات نے وکلا ء برادری اضطراب میں مبتلا کر دیا، پنجاب بار کونسل کے ذمہ داروں کی پہلے مرحلہ میں آئی جی پنجاب پولیس کو معاملہ کے ازالہ کے لیے وارننگ، معاملہ کے حل نہ ہونے پر تحریک چلانے کا اعلان ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ 5ستمبر کو فیروز والہ بار ایسوسی ایشن میں وکیل اور پولیس کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے حوالے سے معاملہ سنجیدگی کی جانب بڑھ گیا ہے دونوں فریق ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے متحرک ہیں پولیس کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ زیادتی وکلا کی جانب سے ہوئی جبکہ وکلا کی جانب سے یہ موقف اپنایا جاتا ہے کہ پولیس اپنے روایتی انداز کو چھوڑے پر رضا مند نہیں یہی وجہ ہے کہ آئے دن پولیس اور وکلا کے درمیان جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہو اہے کہ فیروز والہ بار میں پولیس اور وکلا کے درمیان ہونے والے واقعہ تحریک کی شکل اختیار کرنے کے درپر ہے اس حوالے سے وکلا شدید متحرک ہیں ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پنجاب بار کونسل جو ڈھیڑ لاکھ سے زائد وکلا کی نمائندہ ہے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر پولیس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو پھر وکلا کی جانب سے دما دم مست ہو گا اس حوالے سے پہلے مرحلے میں معاملہ کو سلجھانے اور منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پنجاب بار کونسل کے ذمہ داروں نے آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وکلا کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہوئے اہم نوعیت کا قدم اٹھایا ہے ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئر مین شاہ نواز اسماعیل گجر نے یہ اعادہ کیا ہے کہ وہ آئی جی پنجاب پولیس سے پہلے مرحلے میں ملاقات کریں گے انہیں اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے شعبہ کے اہلکاروں افسران کو اخلاقیات سمیت دیگر امور پر تربیت دیں لیکن اگر ان کا وکلا برادری کے ساتھ یہی رویہ رہا تو پھر وکلا برادری اپنا احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے پنجاب بار کونسل کے وائس چیئر مین سمیت دیگر عہدیداروں کا معاملہ کے حل نہ نکلنے پر تحریک چلانے کا بھی اعلان سامنے آیا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ دوسری جانب کہا جارہا ہے کہ وکلا برادری گاہے بگاہے وکلا برادری اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے بہانے تراشتے ہیں وکلا کے ساتھ جھگڑے کی صورت میں عام سائل خوار ہو جاتا ہے مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں ملزمان کو جیل سے کچہریوں میں لایا جاتا ہے جس میں پولیس اہلکار ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں تووکلا کچہریوں میں پولیس سے بدلہ لینے کے لیے انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ان عوامل پر پولیس میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے جس پر پولیس اشتعال زدہ ذہن میں رہتی ہے اور موقع ملنے پر اپنا بدلہ اتارنے کے لیے متحرک نظر آتی ہے پولیس کی جانب سے بھی معاملہ سلجھانے کی کوئی موثر کوشش تا حال سامنے نہیںآسکی جس پر پنجاب بار کونسل کے وائس چیئر مین شاہ نواز اسماعیل گجر ، چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی افتخار ابراہیم قریشی ، ممبر کمیٹی منیر حسین بھٹی ، جمیل اصغر بھٹی سمیت دیگر ممبران بار کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وکلا اور پولیس میں ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے کوئی موثر حکمت عملی وضع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے جس پر انہوں نے آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ملاقات میں وکلا اور پولیس کے مابین ہونے والے جھگڑوں پر پیش رفت نہ ہونے پر دما دم مست کرنے کا پروگرام مرتب کر لیا گیا ہے اور پولیس کے خلاف سخت قسم کا ایکشن لینے کا بھی ارادہ کر لیا گیا ہے جس کا سلسلہ دسویں محرم کے بعد شروع ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔
پولیس،وکلاء

© Copyright 2019. All right Reserved