ہفتہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2019

تین کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جامعات میں سیاسی مداخلت ختم کردی،آئندہ نسلوں کو روشن وخوشحال پاکستان دینگے[[گورنرپنجاب]]


جامعات میں سیاسی مداخلت ختم کردی،آئندہ نسلوں کو روشن وخوشحال پاکستان دینگے[[گورنرپنجاب]]
میرٹ اور آئین وقانون پامال کر نے والوں کومعافی نہیں دی جائے گی،خواتین پروفیسرزکے وفد سے گفتگو
واقعہ کربلا تاریخ اسلام کاہی نہیں بلکہ تاریخ انسانی کادرخشندہ باب،ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرناہوگا،پیغام
لاہور(سیاسی رپورٹر)گورنر پنجاب چودھری محمدسرور نے کہا ہے کہ یونیورسٹیز کے معاملات میں سیاسی مداخلت کوجرم سمجھتے ہیں، ہم نے یونیورسٹیز کو سیاسی مداخلت سے پاک کردیا ہے،یونیورسٹیوں میں آئین وقانون اور میرٹ کی حکمرانی یقینی بنا رہے ہیں،میرٹ اور آئین وقانون سے ہٹ کر کام کر نیوالے وائس چانسلرز سمیت کسی کو معافی نہیں دی جائیگی،ہم انشا اللہ یونیورسٹیز کو عالمی معیار کے مطابق لیکر جائیں گے۔ وہ پنجاب کی مختلف یونیورسٹیز سے تعلق رکھنے والی خواتین پروفیسرزکے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔گور نر پنجاب نے کہا کہ ہم نے اپنی آنیوالی نسلوں کو ایک روشن اور خوشحال پاکستان دینا ہے جسکے لیے ضروری ہے کہ یونیورسٹیز سمیت تمام ادورں کو مضبوط کر نے کے ساتھ ساتھ ان سے سیاسی مداخلت کو بھی مکمل طور پر ختم کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے یونیورسٹیز کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر پاک کردیا ہے میرٹ سے ہٹ کر یونیورسٹیز میں کسی بھی تقر یری یا فیصلے کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ گورنر نے کہا کہ یونیورسٹیز میں ریسرچ کے شعبہ میں بالخصوص ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے تحقیق پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے یونیورسٹیز کو عالمی معیار کے مطابق لیکرجانے کیلئے صرف چانسلر یا حکومت اکیلی کچھ نہیں کر سکتی بلکہ اس کیلئے وائس چانسلرز سمیت یونیورسٹیز کے تمام ذمہ داروں کو بھی اپنا کردار ادا کر نا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے کہ یونیورسٹیز کے مسائل حل ہوں گے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ وائس چانسلرز سمیت یونیورسٹیز کا دیگر سٹاف بھی اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ملکر محنت سے کام کر یں۔ دریں اثناءعاشورہ کے موقع پر اپنے پیغام میں گورنر پنجابنے کہا کہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانے،حق اور سچ پر اپنا سب کچھ قربان کردینے، یزیدی قوتوں کو للکارنے، اللہ کے نظام اور سنت نبیؐ کو زندہ رکھنے کے لیے شہادت کو گلے لگانا حضرت امام حسین علیہ السلام کی زندگی کا بنیادی مقصد اور اصولی فیصلہ تھا،کربلا کا معرکہ محض حق و باطل کا ہی نہیں بلکہ ظالم و مظلوم،سچ اور جھوٹ اور طاقتور اور کمزور کا بھی معرکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ پھر یزیدی قوتوں کے سامنے بر سرپیکار ہے، ہمیں اسوقت حضرت امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانی، بے مثل بہادری اور لاثانی ہمت سے سبق لیتے اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرتے ہوئے اپنے دشمن کا مقابلہ کرنا ہے اور جہاں جہاں نہتے مظلوم مسلمان بالخصوص کشمیر اور فلسطین میں نوجو انوں پر ظلم و ستم کی تاریک رات چھائی ہوئی ہے اسے باہمی طاقت و ہمت سے نئی صبح میں کرنا ہے،اسلام کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ دنیا میں جہاں بھی مسلمان بھائی کسی مصیبت یا مشکل میں مبتلا ہیں اس کی مدد اور ساتھ دینا دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے۔ گورنرپنجاب نے کہا کہ واقعہ کربلا تاریخ اسلام کا ہی نہیں بلکہ تاریخ انسانی کا وہ درخشندہ باب ہے جسے حضرت امام حسین ؑ اور ان کے ساتھیوں نے بے مثل عزم اور لافانی شہادتوں سے رقم کیا۔ انہوں نے کہا کہ حق اور باطل، اسلام اور کفر کی معرکہ آرائی روز اول سے جاری ہے اور روز آخر تک جاری رہے گی، حق کی بقاء، اسلام کی سربلندی اور بالادستی قدرت کا اٹل اور ابدی فیصلہ ہے جبکہ طاغوتی اور ابلیسی قوتوں کی سرکو بی اور ان کا زوال بھی آئین فطرت ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ عاشورہ جہاں ہمیں جاں نثارانہ کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے وہیں ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ ابتلاء اور آزمائش کی ہر گھڑی میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدائے بزرگ و برتر کے حضور سُرخرو ہوا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا کی یادمنانے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے اندر ایثار و قربانی اور یکجہتی کا وہی جذبہ بیدار کریں جس کا عملی مظاہرہ امام حسین ؑ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں کیا تھا۔
گورنرپنجاب

© Copyright 2019. All right Reserved