ہفتہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2019

تین کالم۔۔۔۔شرح سودمیں ریکارڈاضافے،فائلر ،نان فائلر کے ڈرامے نےمعیشت جام کر دی[[تاجر، صنعتکار]]


شرح سودمیں ریکارڈاضافے،فائلر ،نان فائلر کے ڈرامے نےمعیشت جام کر دی[[تاجر، صنعتکار]]

بہتری نظرنہیں آرہی ،انجم نثار،منڈیاں ہاتھ سےنکل رہی ہیں،محمدعلی میاں ،بزنس فرینڈلی پالیسی چاہیے،عرفان اقبال
شرح سودمیں کمی حکومتی ذمہ داری،نعمان کبیر ،مالی امورپر اعتماد میں لیا جائے، ناصر حمید، آگے کیا بنے گا؟خوفزدہ ہیں،نعیم حنیف
لاہور(خبر نگار ) تاجروں اور صنعتکاروں نے کہا ہے کہ شرح سود میں ریکارڈ اضافے نے برآمدات اور تجارت پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں،قرضوں کی مد میں 900ارب روپے کا اضافہ پیداوار لاگت میں اضافہ اور مہنگائی کے سونامی نے پاکستان کے 22کروڑ عوام کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے شرح سود 5.5سے13.5پر لے کر جانا کسی بڑے حادثہ سے کم نہیں ہے ایک سال میں شرح سود میں 8فیصد کا اضافہ ایک ریکارڈ اضافہ ہے بنکوں سے لین دین بھی نا ممکن ہو چکا ہے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب بزنس مین پینل کے چئیرمین میاں انجم نثار نے کہا کہ وہ اگلے دو تین ماہ میں کوئی اچھی مالی صورت حال نہیں دیکھ رہے مالی معاملات بدستور خراب ہو رہے ہیں فائلر اور نان فائلر کے ڈرامے نے پوری معیشت کو جام کر دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ مالیاتی پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجارت ، صنعت اور معیشت کے فروغ کے لئے مارک اپ ریٹ میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے پاکستان تاجر الائنس کے سرپرست عرفان اقبال شیخ نے اوصاف کو بتایا کہ موجودہ بحرانی کیفیت میں پاکستان میں سرمایاکاری اور صنعتکاری کی ضرورت ہے شرح سود میں اضافے سے صنعتکاری کے فروغ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔انہوں نے بزنس کمیونٹی پر زیادہ بوجھ ڈالنے کی بجائے بزنس فرینڈلی پالیسی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور اسٹیٹ بینک پر واضح کیا کہ شرح سود میں اضافے کے بجائے حکومتی اخراجات پر قابو اور بے تحاشہ قرضوں پر قابو پانے پر توجہ دی جائے ۔تاجر الائنس کے مرکزی صدر محمد علی میاں نے کہا کہ کاروباری لاگت میں اضافے کی وجہ سے امریکہ اور یورپی یونین کی مارکیٹیں ہماری برآمدی صنعتوں کے ہاتھ سے نکل رہی ہیں اور برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں بھی شارٹ فال کا سامنا ہے انہوں نے کہ تجارتی بینکوں میں عوامی رقوم مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے استعمال کی جارہی ہیں جس سے معیشت میں سرمایہ کاری اور بچت کے مابین فرق بڑھ رہا ہے ۔پیاف کے چئیرمین میاں نعمان کبیر نے کہا کہ پیداواری لاگت سے ملک میں بیروزگاری ، مہنگائی اور سرمایہ کاری میں کمی سمیت متعدد معاشی مسائل کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کیلئے عوامی رقوم کو کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کے ذریعہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے اسی وجہ سے بنکوں سے لین دین میں بھی کمی آئی ہے حکومت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ 5.5 شرح سود کو آگے لے کر چلتے لیکن اس میں اضافہ کر کے مالی صورت حال ہی تبدیل کر دی گئی پاکستان تاجر الائنس لاہور کے صدر ناصر حمید خان نے کہا کہ بزنس کمیونٹی نے وزیر اعظم عمران خان کی متحرک قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے ملک میں بزنس فرینڈلی ماحول پیدا کرے ڈالر کی کی قیمت میں اضافہ شرح سود میں اضافہ سمیت تما م مالی معاملات پر تاجروں اور صنعتکاروں کو اعتماد میں لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کی اندرون ملک کاروبار میں حوصلہ افزائی اور پیسے کا ارتکاز روکنے کیلئے ، بنک قرضوں پر ریبیٹ، ٹیکس میں چھوٹ اور بجلی و گیس بلوں پر سبسڈی جیسے خصوصی مراعاتی پیکج کی ضرورت ہے۔ لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو ممبر نعیم حنیف نے کہا کہ معاشی صورت حال ٹھیک نہیں ہے ہمیں تو خوف آرہا ہے کہ آگے کیا بنے گا ایسی صورت حال میں حکومت فوری طور پر تاجروں اور صنعتکاروں کو اعتماد میں لے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور لیدر کے شعبہ کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ صنعتوں کا پہیہ چلتا رہے، برآمد کنندگان کو مراعات دی جائیں تاکہ برآمدات کو فروغ ملے اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے بزنس فرینڈلی مالیاتی پالیسیاں تیار کی جائیں اور شرح سود کو فوری طور پر کم کیا جائے ۔
تاجر،صنعتکار

© Copyright 2019. All right Reserved