ہفتہ‬‮   21   ستمبر‬‮   2019

طالبان سے مذاکرات کی منسوخی،ٹرمپ کا نہيں امریکی اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ

امریکی سیاست میں موجود طاقتور لابی سمجھتی ہے کہ معاہدہ سے افغانستان میں امن نہیں ہوگا اور یہ گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے
طالبان نے اپنے آپ کو پاور فل دکھانے کیلئے حملے کئے،معاہدے پرافغان حکومت بھی ابہام کا شکار تھی، مبصرین
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ 10 ماہ سے جاری مذاکرات اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تین ’بم شیل ٹویٹس‘ پر ختم ہوئے۔کچھ سیکنڈز میں کئے گئے مسلسل تین ٹویٹس میں امریکی صدر نے طالبان پر الزام لگایا کہ وہ اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کیلئے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی منسوخی کی وجہ جمعرات کو کابل میں ہونے والا خودکش حملہ قرار دیا، جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو قریب سے دیکھنے والے مبصرین صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کئے جانے والے جواز کے قائل نہیں کہ صرف ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر اُنھوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے امریکی سیاست میں متحرک وہ لابی ہو سکتی ہے جو امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کیخلاف ہے اور سمجھتی ہے کہ اس معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں امن ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک یہ معاہدہ طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کار صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کئے گئے بیان کو کابل میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کی ہلاکت کا ردِعمل ہی سمجھتے ہیں۔کابل حملے میں ہلاک ہونے والے 34 سالہ امریکی فوجی الیس اینجل باریٹو اورٹز کو دنیا بھر کے معتبر ذرائع ابلاغ نے کوریج دی تھی اور یہ کی خبر ان کی تصویر کے ساتھ چلائی گئی۔بعض مبصرین کے مطابق طالبان نے مذاکرات میں اپنے آپ کو 'طاقتور دکھانے کے لیے بم حملوں میں اضافہ کیا۔کابل میں مقیم تجزیہ کار نجیب ننگیال سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں امریکیوں، طالبان اور افغان حکومت تینوں میں امن معاہدے کے حوالے سے ابہام پایا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے کسی بھی فریق کو اس معاہدے پر یقین نھیں۔ انھوں نے کہا ’امریکہ میں پینٹاگون، وائٹ ہاوس، سی آئی اے اور کانگریس کے بعض ارکان کو بھی تشویش تھی، افغان حکومت اور افغانستان کے عوام کو بھی خدشات تھے کہ پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر تو ایسا لگ رہا تھا کہ اُن کی سیاسی قیادت اور جنگجوؤں کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق نہیں تھا۔اگرچہ بعض مبصرین مذاکرات کے دوران ہونے والے حملوں کو طالبان کی جانب سے اپنے آپ کو ’طاقتور‘ دکھانے کا ایک حربہ مانتے ہیں، لیکن نجیب ننگیال کے بقول مذاکرات کے درمیان پرتشدد واقعات میں اضافے کی وجہ خود طالبان کے اندر گروہ بندی ہے۔ انھوں نے کہا ’قطر دفتر والے کچھ کہتے تھے، وہ کہتے تھے اُن کے جنگجو ایسا نہیں کر رہے۔ آخری دنوں میں یہ ثابت بھی ہوا کہ نہ صرف افغان شہریوں پر ہونے والے حملوں میں اضافہ ہوا بلکہ غیرملکیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے کئی حملے طالبان اور امریکی وفد کے درمیان امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق کے بعد بھی ہوئے تھے۔ تاہم امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو سی بی ایس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اُنھوں نے پچھلے 10 دن میں 1000 طالبان مارے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان کے سابق سینیٹر اور سیاستدان افراسیاب خٹک افغانستان کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر غصے کا اظہار کیا، لیکن ہزاروں کی تعداد میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، کی کسی نے کوئی پروا نہیں کی۔ تاہم وہ امن مذاکرات کی منسوخی کی وجہ امریکہ کے اندر امن معاہدے کے خلاف ’دباؤ‘ سمجھتے ہیں جو اُن کے مطابق ایک عرصے سے موجود تھا۔انھوں نے کہا ’امریکہ میں اُن کے ماہرین، بعض سویلین، فوج کے اندر اور حتیٰ کہ کانگریس کے بعض ارکان نے اس معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک معاہدہ ہونے والا ہے، جو افغانستان میں امن کی بجائے مزید جنگ کا سبب بنے گا۔اس معاہدے کے مخالفین میں صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے سینیٹر لنڈزے گراہم سرِفہرست ہیں۔ ان کے نزدیک امریکہ کو افغانستان سے اپنی افواج اتنی جلدی نہیں نکالنی چاہئیں۔تجزیہ کار نجیب ننگیال امریکی صدر کے بیان کو دباؤ ڈالنے کا طریقہ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق امن مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ملتوی ہوئے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اب تینوں فریق کو کچھ فرصت ملے گی اور اتفاق رائے سے دوبارہ امن مذاکرات میں شامل ہونے کا موقع آئے گا۔نجیب ننگیال کے مطابق ’کوئی بھی جنگ، جنگ پر ختم نہیں ہوتی۔ مذاکرات پھر بھی ہوں گے اور مذاکرات کے ذریعے ہی امن آئے گا۔‘طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی منسوخی سے سب سے زیادہ فائدہ افغان حکومت کو بظاہر اس لیے ہو رہا ہے کہ اُن کی اور امریکہ کی ترجیحات میں واضح فرق ہے۔امریکہ کی پہلی ترجیح امن معاہدہ، جبکہ افغان حکومت کی پہلی ترجیح آنے والے صدارتی انتخابات ہیں۔نجیب ننگیال کے مطابق اب افغان حکومت کے پاس انتخابات منعقد کروانے کا وقت ہے تاکہ آنے والی حکومت کو پھر اس بنا پر تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ یہ تو آئینی حکومت نہیں ہے۔بعض ذرائع کے مطابق طالبان امریکہ کے ساتھ ہونے والے ممکنہ ’امن معاہدے‘ کو اپنی فتح قرار دے رہے تھے اور ایسی اطلاعات تھیں کہ وہ معاہدے کے بعد افغانستان کے مختلف علاقوں میں جشن منانے کی تیاریاں بھی کر رہے تھے۔اس فاتحانہ سوچ کے پیچھے صدر ٹرمپ کا افعانستان سے تمام امریکی افواج نکالنے کے حوالے سے بیان تھا۔ اس کے علاوہ طالبان یہ سمجھ رہے تھے کہ امریکہ ویسے ہی افغانستان سے نکل رہا ہے اور مذاکرات کر کے وہ اپنے آپ خطے سے باعزت طور پر نکلنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں دکھائی گئی لچک نے بھی طالبان کو خوش فہمی میں مبتلا کر دیا تھا۔
امریکی اسٹیبلشمنٹ

© Copyright 2019. All right Reserved