ہفتہ‬‮   24   اگست‬‮   2019

سپرلیڈ

سپرلیڈ
سپرلیڈ
کیچ لائن
انڈین سپریم کورٹ کی بھی کشمیریوں سے نا انصافی, مودی کے غیرقانونی اقدام کے خلاف فوری کارروائی کی بجائے سماعت 2ہفتے بعد رکھ دی

ضمنی
نویں روز بھی سسکتی زندگی، وادی جہنم بن گئی،کرفیوبرقرار،انٹرنیٹ، موبائل سروس بند، وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع، ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت

سری نگر،نئی دہلی(وقائع نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کو روکنے کیلئے مسلسل نویں روز بھی کرفیو برقرار ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل نویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل طور پر معطل ہے۔ قابض انتظامیہ نے انٹرنیٹ اور ٹیلیفون سروس بند کررکھی ہیں جبکہ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کیلئے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔گزشتہ روز عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ رہا جس کے باعث کشمیری مسلمانوں کی اکثریت عید کی نماز اور سنت ابراھیمیؑ ادا کرنے سے محروم رہی۔دوسری جانب انڈین کانگریس کے تحسین پوناوالا نے بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس کی سماعت متوقع تھی لیکن مودی سرکار کے دباؤ میں آکر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس درخواست کی سماعت 2 ہفتے کےلیے ملتوی کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں عید کے دوسرے روز بھی وادی کا لاک ڈاؤن۔ سخت سکیورٹی کے باعث سڑکیں سنسان ہیں۔ مرکزی بازار اور شاہراؤں پر سکیورٹی فورسز کا سخت پہرہ ہے۔ جگہ جگہ رکاوٹیں لگنے کی وجہ سے شہروں گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نویں روز بھی سسکتی زندگی، جنت جیسی وادی جہنم بن گئی ہے، مودی قصائی کے ظلم کی وجہ سے ہر گھر میں دہائیاں ہیں۔ اشیائے خوردو نوش کا سٹاک ختم ہو گیا ہےبھوک سے تڑپتے افراد کیلئے پل پل گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ مریضوں کیلئے ادویات ناپید ہو گئی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پوری وادی میں سخت کرفیو کی وجہ سے دکانیں بند ہیں، دیواروں پر ’’گو انڈیا گو بیک‘‘ اور ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘ کے نعرے لکھے ہیں۔ سرینگر میں تاریخ کا بدترین لاک ڈاؤن ہے۔ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں عید الاضحٰی کے موقع پر نماز پڑھی گئی نہ قربانی ہوئی۔ کشمیریوں نے بڑا مذہبی تہوار گھروں میں بند ہو کر گزارا۔ بیوپاری حضرات جانور نہ بکنے پر شدید پریشان نظر آئے، دلی یونیورسٹی میں کشمیری طلباء عید کے روز بھی اپنے گھروں سے دور رہے۔جنت نظیر وادی گجرات کے قصائی کے ظلم کا شکار ہے، مقبوضہ کشمیر میں عید کی نماز ہوئی نہ قربانی، بیوپاری حضرات قربانی کے جانور لئے گاہکوں کا انتظار کرتے رہے لیکن کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ ملی۔کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے پیاروں سے رابطہ بھی ممکن نہ ہوا۔ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تاحال بند ہونے کی وجہ سے آن لائن اخبارات اپ ڈیٹ نہ کئے جا سکے، نو روز سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، سابق کٹھ پتلی رہنما فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت گزشتہ ہفتے میں نو سو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔دوسری جانب انڈین کانگریس کے تحسین پوناوالا نے بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس کی سماعت متوقع تھی لیکن مودی سرکار کے دباؤ میں آکر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس درخواست کی سماعت 2 ہفتے کےلیے ملتوی کردی ہے۔ اس درخواست کی سماعت جسٹس ارون مشرا، جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس اجے رستوگی پر مشتمل تین رکنی بنچ کررہی ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ درخواست میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو چیلنج نہیں کیا گیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون، موبائل، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن چینلوں کی بندش اور دوسری پابندیاں ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔اسی درخواست میں بھارتی سپریم کورٹ سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی آئین میں کشمیر کی حیثیت کے ازسرِنو تعین کے حوالے سے اعلی عدالتی کمیشن بھی قائم کرے جبکہ کشمیر کی سیاسی قیادت کو بھی رہا کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر،پابندیاں

© Copyright 2019. All right Reserved