ہفتہ‬‮   24   اگست‬‮   2019

پشاور، تعلیمی بورڈز میں پرچوں کی مارکنگ پر سوالات اٹھنے لگے،ری ٹوٹلنگ میں ڈنڈی مارنے کی شکایات

تعلیمی بورڈ پشاور کے زیر اہتمام ایف اے، ایف ایس سی کے نتائج میں ناقص چیکنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں
ری ٹوٹلنگ کیلئے بورڈزکو ساڑھے چار ہزار سے زائد درخواستیں موصول ،اصلاحات کے دعوے دھر ے کے دھرے
پشاور(بیورورپورٹ)ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاورسمیت صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں پرچوں کی مارکنگ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں ڈی ایم سیز میں ایک جیسے نمبروں کے بعد اب ری ٹوٹلنگ میں بھی ڈنڈی مارنے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں جس کے نتیجے میں طلباء وطالبات کے والدین شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ری ٹوٹلنگ کیلئے تعلیمی بورڈزمیں ساڑھے چار ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں ذرائع نے بتایاکہ ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور کے زیر اہتمام ہونے والے ایف اے ایف ایس سی کے سالانہ امتحانات کے نتائج میں بھی ناقص چیکنگ سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں جس کے مطابق درجنوں کی تعداد میں طلباء وطالبات نے اپنے پرچوں کی ازسرنوچیکنگ اور ری ٹوٹلنگ کیلئے باقاعدہ درخواستیں دے رکھی ہیں ایک طرف صوبے میں تعلیمی بورڈ ز میں اصلاحات کے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب تمام تر دعوئوں کے باوجود بھی تعلیمی بورڈز میں پرچوں کی چیکنگ کے حوالے سے بہتری نہیں آرہی ہے جس کے حوالے سے ہر امتحانانی نتائج کے بعد طلباء وطالبات ری ٹوٹلنگ اورری چیکنگ کیلئے درخواستیں دینی پڑ رہی ہیں جس کے نتیجے میں تعلیمی بورڈز میں پرچوں کی مارکنگ پر ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔
پرچے مارکنگ

© Copyright 2019. All right Reserved