ہفتہ‬‮   24   اگست‬‮   2019

مسلسل کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر بدترین انسانی بحران سے دوچار


مسلسل کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر بدترین انسانی بحران سے دوچار
بھارتی سپریم کورٹ کا کشمیر میں پابندیاں ہٹانے ک کا حکمنامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا
سرےنگ(نیوز ایجنسی ) مقبوضہ کشمیر میں سخت کرفیو اور ذرائع ابلاغ کی معطلی کا سلسلہ آج نویں روز بھی جاری رہا جسکی وجہ سے مقبوضہ علاقہ اس جدید انسانی تاریخ میں بدترین بحران سے دوچارہے کشمیر میڈیا کے مطابق بھارت کی طرف سے پانچ اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بھارت فوجیوںنے پورے جموں وکشمیر میں سخت پابندیاں لگا دیں۔ انٹرنیٹ اور فون سروسز کی معطلی کے باعث مقبوضہ علاقے کے لوگوںکا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ سخت کرفیو کو برقرار رکھنے کیلئے مقبوضہ وادی میں سرینگر سے جموں خطے کے علاقوں ڈوڈہ اور کشتواڑ تک ہزاروں بھارتی فوجی تعینات ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہور ہی ہے
ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹوں میں کہا کہ دکانیں بند ہیں جبکہ انکے شٹروں اور دیواروں پر ” گو اندیا گو بیک،”ہم آزادی چاہتے ہیں“ جیسے نعرے درج ہیں ۔ ذرائع نے بھارتی پیرا ملٹری افسروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرینگر میں اب تک کی سخت ترین پابندیاں عائد ہیں۔جدید اسلحہ سے لیس اور بھر پور حفاظی اقدامات سے مزین بھارتی فوجی شہر کی خاموش سڑکوں پر گشت کر رہے ہیںاور انہوں نے ہرطرف مزید چیک پوسٹیں قائم کی ہیں اور خار دار تاریں بچھا رکھی ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو متواتر طور نظر انداز کرتے ہوئے کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو اور ذرائع ابلاغ پر عائد پابندی ہٹائے جانے کے حوالے سے دائر ایک عرضداشت پر فوری حکمنامہ جاری کرنے سے انکار کیا ہے ۔ یہ عرضداشت انسانی حقوق کے ایک کارکن تحسین پونا ولا نے دائر کی تھی ۔ انہوں نے عرضداشت میں کہا تھا کہ کشمیریوں کو اس وقت ہسپتالوں اور اس طرح کی دیگر بنیادی سہولات تک بھی رسائی میسر نہیں ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بنچ نے جس کی سربراہی جسٹس ارون مشرا کر رہے تھے نے کوئی حکمنامہ جاری کیے بغیر عرضداشت پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ دریں اثنا تامل ناڈر اور دیگربھارتی ریاستوں میں سرگرم ایک سیاسی جماعت ” ایم ڈی ایم کے“نے کہا ہے کہ کشمیر اگلے تیس برسوں تک کشمیر بھارت میں شامل نہیں ہوگا۔ ” ایم ڈی ایم کے“کے سربراہ Vaikoنے چنائی ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ جب بھارت اپنا 100واں یوم آزادی منا رہا ہو گا تو کشمیر بھارت میں شامل نہیں ہو گا۔ کانگریس کے سینئر ررہنماDigvijaya Singh نے عالمی میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈؤل کو خبردار کیا ہے کہ انکی بلا سوچی سمجھی کارروائیوں کے نتیجے میں کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ کانگریس کے کے ایک اور رہنما پی چدم برم نے کہا کہ مودی حکومت نے دفعہ 370اس لیے ختم کردی کیونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ)کے رہنما Brinda Karat نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں جو کیا وہ سراسر جمہوریت کا قتل ہے
انکار

© Copyright 2019. All right Reserved