بدھ‬‮   18   ستمبر‬‮   2019

پلاٹو ں کی الاٹمنٹ کے باوجود قبضہ نہ دینے پر ہائیکورٹ برہم

ڈائریکٹر لینڈ اور ر انفورسمنٹ پیش ہو کر جواب دیں قبضہ کیوں نہیں دیا ؟
گائوں ہے قبضہ ممکن نہیں ، وکیل ، جومرضی کریں قبضہ دینا پڑیگا،جسٹس محسن اختر کیانی
اسلام آباد ( خصوصی نیوز رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف الیون فور میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے باوجود قبضہ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ عدالت میں پیش ہو کر جواب دیں کہ قبضہ کیوں نہیں دیا ، الاٹمنٹ سی ڈی اے نے کی ہے تو قبضہ بھی وہی دے گا۔ فاضل جسٹس نے بھیکہ سیداں کے متاثرین کی جانب سے پیکج ڈیل کی بحالی اور مکمل حقوق ملنے تک حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ جو الاٹمنٹ کی ہے ان لوگوں کو قبضہ کیوں نہیں دے رہے جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ موقع پر گاﺅں موجود ہے اس لئے قبضہ ممکن نہیں ہے۔ اس پر فاضل جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ گاﺅں گرائیں یا جو مرضی کریں ، قبضہ تو دینا پڑے گا ، ایکوائرڈ زمین پر لوگ کیسے قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ فاضل جسٹس نے سی ڈی اے کو ایف الیون قبرستان سے تجاوزارت ختم کرا کے رپورٹ عدالت جمع کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

© Copyright 2019. All right Reserved