جمعرات‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2019

اندھیر نگری چوپٹ راج،سملی ڈیم کا پانی کمرشل بنیادوں پر استعمال ہونے لگا

کسی اتھارٹی سے منظوری لی گئی نہ ہی با اثر افراد بل ادا کرتے ہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں
بھارہ کہو ( سید منظور حسین شاہ ) بھارہ کہو اندھیر نگری چوپٹ راج مری روڈ ، سملی ڈیم روڈ اور دیگر جگہوں پر پٹرول پمپ ،ہوٹل ،سروس سٹیشن ،نا ن بائی، گوشت کی دکانوں اور دیگرپر سملی ڈیم کاپانی کمرشل بنیادوں پر استعمال کا انکشاف روزانہ سینکڑوں لیٹر ضائع بھی کیا جا تا ہے کمرشل بنیادوں پر استعمال ہو نے والے سملی ڈیم سے واٹر سپلائی سے پانی کا بل نہیں لیا جاتا ہے نہ ہی کسی اتھارٹی نے قانونی طور کنکشن کی منظوری دی کوئی پوچھنے والا نہیں میٹروپولیٹن کارپوریشن میئر اسلام آباد سمیت سی ڈی اے یونین کونسل بھارہ کہو و دیگر نے مکمل خاموشی اختیار کرلی تاجربھی واٹر سپلائی کا باقاعدہ کنشکن منظور نہ ہو نے کی وجہ سے خوف میں کاروبار کر نے پر مجبور ہیں جب کہ بھارہ کہو کی رہائشی آبادی میںمتعدد علاقوں کے عوام عرصہ دراز سے اب بھی سملی ڈیم کے پانی سے محروم چلے آرہے ہیں تفصیلات کے مطابق بھارہ کہو ذ مہ دار ذرائع نے اوصاف کو بتا یا کہ سملی ڈیم واٹر سپلائی لائن سے روزانہ ہزاروں گیلن پانی کے چوری ہو نے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سملی ڈیم واٹر سپلائی لائن سے عرصہ دراز سے بھارہ کہو کمرشل بنیادوں پر پانی چوری سے استعمال کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق پانی کی چوری عرصہ دراز سے دھڑ لے سے جارہی ہے روزانہ کمرشل بنیادوں پر پانی کا استعمال جن میں ہوٹلز ،بیکرز ، بھینسوں کے باڑوں کے علاوہ نان بائی ، سروس سٹیشنز ، حمام ، قصابوں کے علا وہ دیگر کمرشل ایکٹویٹز میںروزانہ پانی استعمال کیا جارہا ہے چوری کے پانی کو بعض دکاندار دھڑلے سے ضائع بھی کرتے ہے سڑکیں اور گاڑیوں تک کو دھویا جا تا ہے جسے کوئی اتھارٹی پوچھنے والی نہیں ذرائع نے مزید ا نکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بھارہ کہو کے اکثر علاقوں میں آ ج بھی عوام سملی ڈیم کے پینے کے صاف پانی سے مسلسل محروم چلے آرہے ہیں خواتین پینے کا صاف پانی دور دراز سے لانے پر مجبور ہیں کمرشل ایکٹیویٹو پر استعمال کیا جانے والا کیا جانے والا سملی ڈیم کے پانی کا نہ ہی یونین کونسل کو ماہانہ بل دیا جا تا ہے اور نہ ہی کسی اتھارٹی سے باقاعدہ منظوری لی گئی جس کی وجہ سے علاقے میں قانون کی حکمرانی نہ ہو نے کے برابر نظر آرہی ہے زرائع کے مطابق کمرشل بنیادوں پر چوری کیا جانے ولا پانی کو اگر یونین کونسل میٹرو پولیٹن کارپوریشن باقاعدہ ہر کمرشل استعمال کر نے والے تاجر کو باقاعدہ کنکشن جاری کریں تو یونین کونسل کو سالانہ لا کھوں روپے ریونیو کی مد میں آ مد ن ہو سکتی ہے اس کے علاوہ ماہانہ بل وصول کیا جائے تو بل کی مد میں بھی یونین کو نسل کو سالانہ لاکھوں روپے ریونیو مل سکتا ہے لیکن عرصہ دراز سے نہ ہی پانی کے کنکشن کو قانونی طور لیگ کر نے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی گئی آج تک میٹر و پولیٹن کارپوریشن میئر اسلام آباد یونین کونسل بھارہ کہو اور سی ڈی اے نے اس کا حل نہیں نکا لا اگر سملی ڈیم روڈ ،مری روڈ اور دیگر علاقوں میں کمرشل بنیادوں پر استعما ہو نے والے پانی کو لیگل کر دیا جاتا ہے توجہاں یونین کونسل کو سالانہ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے وہی پر تاجروں کے سر پر ہر وقت لٹکنے والی غیر قانونی کنکشن کی تلوار کہ کنکشن ختم ہو جائے گا کا خوف بھی ختم کیا جا سکتاہے

© Copyright 2019. All right Reserved