بدھ‬‮   26   جون‬‮   2019

قائمہ کمیٹی ،بلوچستان میں دہشتگردی واقعات پراظہار تشویش

دشمن قوتیں دہشتگردی کے ذریعے ملک کمزور کرنا چاہتی ہیں، رحمان ملک
وزارت دا خلہ کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ کی ہدا یت

اسلام آباد ( نیوز ایجنسی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ 2ہفتوں میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی جائے،چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ دشمن قوتیں بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، سپیشل سیکرٹری داخلہ میاں وحید الدین نے بتایا کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکی سفارتخانہ سے مل کر فائرنگ رینج اپ گریڈیشن کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے کمیٹی کواس معاملے پر تفصیلی رپورٹ دی جائے گی، سینیٹر شہزاد وسیم نے سمارٹ کارڈ میں لگائی جانے والی چپ میں ڈیٹا ہونے سے متعلق بھانڈا پھوڑ دیا،چیئرمین نادرا نے اعتراف کیا کہ چپ میں کارڈ ہولڈر کا کوئی ڈیٹا نہیں ،کمیٹی نے سمندر پار پاکستانیوں بالخصوص متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کو قومی شناختی کارڈ کے اجراء میں سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر اے رحمان ملک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ 3 دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کے 2 حملے ہوئے جس میں8 افراد شہید ہوئے،کمیٹی گوادر پی سی ہوٹل پر اور کوئٹہ میں پولیس پر دہشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے، کمیٹی بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، کمیٹی بلوچستان میں دہشتگرد کاروائیوں میں اضافے پر گہرے تشویش کا اظہار کرتی ہے،حکومت اس نئی لہر کو نظرانداز نہ کرے اور نیشنل ایکشن پلان کا از سرِنو جائزہ لیا جائے،وزارت داخلہ دو ہفتوں کے اندر کمیٹی کو نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ دے،دشمن قوتیں بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، ملک بھر اور خاص کر بلوچستان کے اہم مقامات کی سیکورٹی سخت کی جائے۔ جس پر سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ 3 سال سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن اختیارات کیلئے خوار ہو رہا ہے۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ لوکل باڈیز ایکٹ کا کردار صوبوں کی طرح کا نہیں ہو سکتا تھا، کام رکے ہوئے ہیں جنہیں شقوں کی وجہ سے لٹکایا گیا ہے، جو لوگ ریٹائرڈ ہوئے ہیں انہیں بھی مسائل کا سامنا ہوگا،جو محکمے ایم سی آئی کے پاس ہیں ان کے ملازمین کا مستقبل دا پر لگا ہوا ہے۔
قائمہ کمیٹی

© Copyright 2019. All right Reserved