جمعہ‬‮   23   اگست‬‮   2019

نیشنل ایکشن پلان کے فنڈز میں خورد برد کا نوٹس، آڈٹ کا حکم

فنڈز مبینہ طور پر دفتر کی تزئین وآرائش پر استعمال ہوئے ،سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقو ق
رکن اسمبلی سندھ علی وزیر کے خلاف ایف آئی آر سے انسداد دہشت گر دی کی دفعہ ختم کرانے کی ہدایت


اسلام آباد(نیوز ایجنسی)سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے نیشنل ایکشن پلان کی مد میں دیئے گئے فنڈز کامبینہ طور دفتر کی تزئین وآرائش پر استعمال کی خبرکا نوٹس لیتے ہوئے وزارت انسانی حقوق کا آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا ، جبکہ آئی جی سندھ اور سیکرٹری داخلہ سندھ کوکراچی میں رکن اسمبلی علی وزیر اور عالم زیب محسود کے خلاف درج ایف آئی آر سے انسداد دہشت گر دی کی دفعہ ختم کرانے کی ہدایت کر دی،کمیٹی میں وزارت انسانی حقوق کا 2014-15کے بعد سے آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا ، جس پر کمیٹی نے حیرانگی کا اظہار کیا ۔منگل کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اخبار میں خبر آئی تھی کہ وزارت انسانی حقوق کو نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے جو فنڈز دیئے گئے تھے وہ غلط جگہ استعمال ہوئے،سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ساری جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہوئی تھیں لیکن بدقسمتی سے آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ خبر کے مطابق فنڈز دفتر کی تزئین وآرائش کے لیئے استعمال کیئے گئے، آڈٹ حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ اس وزارت کا ہر سال آڈٹ نہیں کیا جاتا ،اس وزارت کا 2014-15کے بعد آڈٹ نہیں ہوا، وزارت انسانی حقوقکو اس سال کے آڈٹ میں شامل کر لیتے ہیں چیئرمین کمیٹی نے کہا حیرانگی ہے کہ 2014-15 سے اس وزارت کا آڈٹ نہیں ہوا،اس کا آڈٹ کریں،اجلاس میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے سیلز افسران کامعاملہ بھی زیر غور آیا ، جن کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمیں بے روزگار کر دیا گیا ہے
حکم

© Copyright 2019. All right Reserved