جمعہ‬‮   23   اگست‬‮   2019

سوشل میڈیا پر پھر گستاخانہ مہم ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

وفاقی وزارت داخلہ اور ایف آئی اے ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام ہو گئے ہیں، شہری
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) سوشل میڈیا میں مقدس ہستیوں کی شان میں ایک دفعہ پھر گستاخانہ مہم کے آغاز پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ شہری حافظ احتشام احمد کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ اور ایف آئی اے ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ آئی ایس آئی کے سینئر افسر کی سربراہی میں گستاخانہ مہم میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کے لئے مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے۔ حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر پٹیشن میں وفاقی سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری دفاع ، سیکرٹری وزارت آئی ٹی ، ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین پی ٹی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا میں مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخانہ مہم کا آغاز 2016کے آخر میں ہوا تو سلمان شاہد ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ، عدالت عالیہ نے سلمان شاہد ایڈووکیٹ کی آئینی پٹیشن پر سوشل میڈیا میں مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخانہ مہم کے خلاف تاریخی فیصلہ جاری کیا مگر وفاقی وزارت داخلہ ، ایف آئی اے سمیت دیگر فریقین عدالتی حکم پر عملدرآمد کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔ ایف آئی اے سوشل میڈیا میں مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخانہ مہم میں ملوث ایک بھی شخص کا آج تک سراغ نہ لگا سکی ، جن چار افراد کو ایف آئی اے نے حراست میں لیا وہ بلا شبہ گستاخی کے مرتکب ہیں مگر ان کا سوشل میڈیا میں جاری گستاخانہ مہم سے کوئی تعلق نہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے جس کا تعلق پاکستان کی سالمیت ، یکجہتی ، دفاع اور امن و امان سے ہے۔ درخواست میں سوشل میڈیا میں گستاخانہ مہم میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کے لئے آئی ایس آئی کے سینئر افسر کی سرپرستی میں مشترکہ ٹیم تشکیل دینے ، فریقین کو سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد ہٹانے ، وفاقی حکومت کو اسلامی ممالک اور او آئی سی کے ساتھ مل کر مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف اور ناقابل معافی جرم قرار دینے اور سوشل میڈیا میں مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کو مستقل طور پر روکنے کے لئے مربوط نظام وضع کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا

© Copyright 2019. All right Reserved