پیر‬‮   26   اگست‬‮   2019

سعودیہ سے بلوچستان کو شمسی توانائی سے بجلی فراہم کرنیکا معاہدہ

بجلی کی شعبے میں دی جانیوالی تمام سبسڈیز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا،سیکرٹری
ایک شخص بل نہیں دیتا تو پورے گائوں کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے ، رانا تنویر حسین
اسلام آباد (عمر حیات خان سے )حکومت نےسعودی عرب کے ساتھ صوبہ بلوچستان کو شمسی توانائی سے بجلی فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کرلئے، معاہدے کی جرمن کنسلٹنٹ سے فزیبلیٹی تیار کرائی جائیگی۔سیکرٹری وزارت پاور ڈویژن عرفان علی نے پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،دسمبر 2020 تک گردشی قرضے کو صفر کردیا جائیگا، بجلی کی شعبے میں دی جانیوالی تمام سبسڈیز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا، ترسیلی نظام کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے این ٹی ڈی سی کے ساتھ مل کر 95فیصد رکاوٹوں کو دور کرلیا ہے، اگلے مالی سال میں 102 ارب روپے نادہندگان سے وصول کئے جائیں گے اور اس حوالے سے تقسیم کار کمپنیوں کو اہداف دیدئیے گئے ہیں، چوری کے تدارک کیلئے کئے گئے اقدامات کی وجہ سے 1 ارب یونٹ کی بچت ہوئی ہے۔کمیٹی نے وزارت پاور ڈویژن کی کارکردگی کا تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں میں وزارت نے اصلاحات کی ہیں جس کی وجہ سے نقصانات اور چوری میں کمی ہوئی ہے۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی سینیٹر شبلی فراز کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ہونے والے نقصانات ،سستی بجلی کے ذرائع دریافت کرنے اور متبادل ذرائع سےتوانائی کے حصول کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ممبر کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ اگر گائوں میں ایک شخص بجلی کا بل نہیں دیتا نادہندہ ہے تو پورے گائوں کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے اس حوالے سے ایک نظام بنانا چاہیے کہ جو صارفین بلوں کی ادائیگی کررہے ہیں ان کو بجلی فراہم کی جائے۔ سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے کہا کہ جس فیڈر میں چوری ہے اور نادہندہ افراد ہیں ان کو صاف کیا جارہا ہے، چوری کو ختم کرکے لوڈ منیجمنٹ بھی ختم کی جارہی ہے، رمضان کے مہینے میں لوڈ منیجمنٹ ویسے بھی کم ہورہی ہے۔ ممبر کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ 30فیصد بل نہیں دیتے چوری کرتے ہیں لیکن ان کا خمیازہ باقی 70فیصد کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن وسیم مختار نے کہا کہ چوری کے تدارک کیلئے کئے گئے اقدامات کی وجہ سے 1 ارب یونٹ کا فرق آیا ہے سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ سیہون کے 4فیڈرز تھے ان کو چوری سے پاک کرلیا گیا ہے، میپکو کے فورٹ منرو فیڈر کو چوری سے مکمل پاک کیا ہے۔ وزارت نے تمام سبسڈیز کو بجٹ کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، ترسیلی نظام کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے این ٹی ڈی سی کے ساتھ مل کر 95فیصد رکاوٹوں کو دور کرلیا ہے، پنجاب میں میٹر ٹیمپرنگ کے ذریعے بجلی کی چوری ہوتی تھی، پیپکو، وزارت اور پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر میٹر ٹیمپرنگ روکنے کیلئے اقدامات کئے اور ٹیمپرنگ کرنے والوں کو سزا دی گئی اور ڈسکوز کے اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کی گئی، پیسکو میں ہمیں دشواری کا سامنا تھا اور ہم نے فیڈر کے حساب سے چوری روکنے کا طریقہ کار اپنایا گیا، سندھ میں بھی یہی کیا گیا تھا، اب لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ ہمارے فیڈر کو چوری سے پاک کریں، بلوچستان میں شمسی توانائی کیلئے سعودی حکومت سے معاہدہ کیا جا چکا ہے، بلوچستان میں 29ہزار ٹیوب ویلز پر وفاق اور بلوچستان کی جانب سے سبسڈی دی گئی مگر وزارت جتنی بھی بجلی دے رہی ہے اس کے پیسے نہیں ملتے، بلوچستان میں شمسی توانائی سے بجلی فراہم کی جائیگی۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ سعودی حکومت سے ہونے والے معاہدے کی جرمن کنسلٹنٹ سے فزیبلیٹی تیار کی جائیگی۔ڈسٹری بیوشن سائیڈ پر کام کیا جارہا ہے اس میں حکومتی اور نجی شراکت داری کے ذریعے اس پر کام کرنے کے ماڈل کو اپنایا جارہا ہے، لیکن ڈسٹری بیوشن سائیڈ پر کوئی بھی سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتا۔ کمیٹی نے وزارت پاور ڈویژن کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں میں وزارت نے اصلاحات کی ہیں جس کی وجہ سے نقصانات اور چوری میں کمی ہوئی ہے۔
معاہدہ

© Copyright 2019. All right Reserved