منگل‬‮   18   جون‬‮   2019

میشا اور علی ظفر کوغیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روکدیا

سپریم کورٹ کا علی ظفر کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) عدالت عظمیٰ میں معروف گلوگار علی ظفر اور میشا شفیع کے تنازعہ پر بیان اور جرح سے متعلق میشا شفیع کی درخواست پر سماعت میں عدالت نے گواہوں کے بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے اور دونوں کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روک دیا ہے، عدالت نے 9 گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور درخواست نمٹا دی ہے۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، عدالت سے میشا شفیع کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے گواہوں پر جرح کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا، میشا شفیع کے وکیل اگر اگلی سماعت پر جرح کیلئے تیاری نہ کر سکا تو ایک ہفتے کا وقت دیا جائے،عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی استدعا منظور کر لی، عدالت نے علی ظفر کے وکیل کو 7دن میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ میشاء شفیع کے وکیل گواہوں پر جرح کی تیاری 7 روز میں مکمل کریں، تیاری کے بعد ایک ہی روز گواہوں پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے،عدالت نے نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ غیر ضروری التواء نہ دیتے ہوئے ٹرائل جلد مکمل کرے، قبل ازیں میشاء شفیع کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میشاء شفیع علی ظفر کے تمام گواہوں کو نہیں جانتی،گواہ علی ظفر کے ملازمین ہیں،اس موقع پر علی ظفر کے وکیل سبطین ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ کوئی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ علی ظفر کا میشاء شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض کیا ہے؟،وکیل علی ظفر نے کہا کہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیان اور جرح ایک دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے، وکیل میشا شفیع نے کہا کہ گواہوں کی لسٹ مل جائے تو ایک دن میں جرح کر لیں گے، بعدازاں عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق مقررہ وقت میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی ہے۔
روک دیا




© Copyright 2019. All right Reserved