منگل‬‮   18   جون‬‮   2019

ٹریفک وارڈنز کے الاؤنسز منجمد نہیں ہونگے،سپریم کورٹ

وارڈنز کو تنخواہوں کی ادائیگی پر جواب دیں،عدالت، آئی جی پنجاب طلب

اسلام آباد (نیوز رپورٹر)عدالت عظمیٰ میں ٹریفک وارڈنز الاونس کیس کی سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹریفک وارڈنز کے الاؤنسز منجمد نہیں ہونگے،عدالت نے آئی جی پنجاب کو طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب وارڈنز کو تنخواہوں کی ادائیگی پر جواب دیں جبکہ پنجاب حکومت سے بھی شق وار جواب طلب کرلیا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو جسٹس گلزار احمد نے ٹریفک وارڈنز پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کون لوگ ہیں آپ اوریہاں کیا کر رہے ہیں،ٹریفک وارڈنز نے کہا کہ ہمارا سروس الاونس کا کیس ہے،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جاکر ڈیوٹی کریں، ڈیوٹی چھوڑ کر یہاں کیوں آگئے آپ کو کوئی خیال ہے جس پر ورڈنز نے عدالت کو بتایا کہ ہماری ڈیوٹی سیکنڈ شفٹ میں ہے،اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ٹریفک وارڈنز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جائیں جاکر اپنا کام کریں، وکیل ٹریفک پولیس نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے 2011 سے ایڈیشنل بنیادی تنخواہ کا فنڈ منجمند کر رکھا ہے،وفاق اور پنجاب نے تمام ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں اضافہ کیا،ٹریفک پولیس کی تنخواہوں میں آج تک اضافہ نہیں ہوا،ٹریفک پولیس کی بنیادی تنخواہ بھی نہیں بڑھائی گئی،حکومت کہتی ہے آپ کو ایڈیشنل بنیادی تنخواہ دیدی ہے، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک پولیس کا ہر سال انکریمنٹ لگتا ہے، سابق سی ٹی او طیب حفیظ چیمہ نے کہا فنڈز ملنا چاہیے،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ طیب حفیظ نے کیوں کہا، اب وہ سب کو تنخواہ دے،سرکار تنخواہ نہیں دے گی، یہ بے ایمانی کا جواب ہے،ٹریفک پولیس کا آئی جی کون ہے اسکو بھی بلا لیں، سپریم کورٹ نے آئی جی پولیس کو آئندہ سماعت پر طلب کر تے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب وارڈنز کو تنخواہوں کی ادائیگی پر جواب دیں،عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ واڈنز کو تنخواہوں کی ادائیگی پر موقف یکساں نہیں ہے، عدالت نے پنجاب حکومت سے بھی شق وار جواب طلب کرلی ہیں،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹریفک وارڈنز کے الاونسز منجمد نہیں ہونگے،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہالاونس سے خزانہ پر اضافی بوجھ پڑے گا،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ بات آپ چھ مرتبہ پہلے بھی کر چکے ہیں پنجاب حکومت کس طرح سے کیس کو ہینڈل کر رہی ہے، بعدازاں عدالت نے مذکورہ حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی ہے۔
سپریم کورٹ

© Copyright 2019. All right Reserved