منگل‬‮   18   جون‬‮   2019

پنچائت نظام کا بل جلد پارلیمنٹ میں متعارف کرایا جائے گا، ر یاض فتیانہ

تنازعات کے حل کا متبادل نظام شفاف، سستا اور فوری انصاف فراہم کرے گا


اسلام آباد (نیوز ایجنسی ) چیئرمین نیشنل اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی لاء اینڈ جسٹس ریاض فتیانہ نے کہا کہ عدالتوں پر کیسوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے حکومت پنچائت اور تنازعات کے متبادل حل کے بل کو جلد پارلیمنٹ میں متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے، متبادل تنازعات کے حل (ADR) کا نظام شفاف، سستا اور فوری انصاف فراہم کرے گا جس سے خاص طور پر خواتین اور کمزور افراد بھرپور فائدہ اُٹھائیں گے۔ وہ ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام ’ پاکستان میں خواتین کی انصاف تک رسائی میں حائل رکاوٹیں ‘ کے عنوان سے ایک سیمینار میں کر رہے تھے ۔ اس موقع پر محترمہ خاور ممتاز، سابقہ جج رفعت بٹ اور ایس ڈی پی آئی سے رابعہ منظور نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ ملک میں خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لئے بہت سے قوانین موجود ہیں، جس میں سے کچھ قوانین باقی تمام قوانین کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے جن کو یکجا کرنے ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول اور کریمنل کورٹ کے طریقہ کار میں اصلاحات ہونی چاہیے اور اسلامی نظریاتی کونسل میں زیادہ خواتین ججوں کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے، جس سے خواتین کی انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ خواتین کی قومی سٹیٹس کی کونسل کی چیئرپرسن محترمہ خاور ممتاز نے کہا کہ حکومت کی طرف سے متعارف کرایا جانے والے کسی قسم کا بھی متبادل عدالتی نظام تمام شراکت داروںکی حمایت اور ایک قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحط ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی انصاف تک رسائی کا مسئلہ ہمای سوچ سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی فیصلہ سازی میں شراکت (خاص طور پر عدالتوں میں) ، اقتصادی بااختیاری اور تشدد کی روک تھام کمیشن کی تین اہم ترجیحات ہیں جس سے خواتین کو انصاف تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہو گی

ریاض فتیانہ

© Copyright 2019. All right Reserved