بدھ‬‮   26   جون‬‮   2019

ایبٹ آباد، پرائمری سکول کوٹھیالہ کی عمارت خستہ حالی کاشکار، طلبہ آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

سکول 1901 میں قائم ہواتھا، صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی نے تاریخی سکول کی عمارت پر کوئی توجہ نہیں دی
علاقے کے سینکڑوں طلبہ و طالبات خستہ حال کرائے کی بلڈنگ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ، حکام خاموش
ایبٹ آباد( ڈسٹرکٹ رپورٹر) ایبٹ آباد کے سرکل شیروان کے علاقہ کوٹھیالہ میں 118سالہ قدیم تاریخی پرائمری سکول کی کرائے کی عمارت آج بھی خستہ حالی کا شکار ہے اور سینکڑوں طلباء و طالبات خستہ حال عمارت اور کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں مقامی حلقہ کے صوبائی وزیر خوراک سمیت قبل اس علاقے سے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی منتخب ہوتے رہے مگر اس تاریخی سکول کی عمارت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے یہاں کے سینکڑوں طلباء و طالبات کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ حائل ہے ایک صدی اور اٹھارہ سالہ پرانے تاریخی سکول کی خستہ حال عمارت آج بھی بے کسی اور بے بسی کا مظاہرہ کر رہی ہے کوٹھیالہ میں 1901 میں پرائمری سکول بنایاگیا جوتاحال کرائے کی بلڈنگ میں چل رہاہے علاقے کے سینکڑوں معصوم طلبہ و طالبات خستہ حال کرائے کی بلڈنگ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ایبٹ آباد کے نواحی علاقے کوٹھیالہ میں انگریر دور 1901 میں قائم ہونے پرائمری سکول کوٹھیالہ تاحال کرائے کی بلڈنگ میں چل رہا ہے بد قسمتی سے 100 سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود کسی بھی عوامی نمائندے نے اس سکول کی عمارت بنانے کی زحمت گوارہ نہیں کی اسی علاقے میں 1962 میں گرلز پرائمری سکول بنایا گیا مگر وہ بھی تاحال کرائے کی بلڈنگ میں چل رہا ہے 2005 کے زلزلے کے بعد اس سکول کی عمارت ایریا نے بنانی شروع کی مگر ٹھیکیدار 12 سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود کام ادھورا چھوڑکر فرار ہوگیا مذکورہ حلقے سے مسلسل 4 دفعہ منتخب ہونے والے صوبائی وزیر خوراک حاجی قلندر لودھی کی بھی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے طلبہ و طالبات نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے سکول کی سرکاری عمارت بنائی جائی سو سال سے زائد عرصہ سکول کی عمارت کیلئے دیئے جانے والے کرائے کاحساب کیا جائے تو کروڑوں روپے رقم بنتی ہے جس سے ایسے کئی سکول بنائے جا سکتے تھے جو کہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

© Copyright 2019. All right Reserved