جمعہ‬‮   23   اگست‬‮   2019

سابقہ ادوار میں برنالہ کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا، وقار نور


سابقہ ادوار میں برنالہ کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا، وقار نور
تین نئے کالجز منظور کروا رہا ہوں ،اب ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوگا
برنالہ (واجد محمود سے )سابقہ ادوار میں سیاستدانوں نے جو ظلم حلقہ برنالہ کے عوام سے کیا۔اس کی مثال پوری ریاست میں نہیں ملتی۔پچھلے پچاس سال میں حلقہ میں صرف دو ڈگری کالج ان میں بھی سائنس سٹاف نہیں اور ایک صرف انٹر کالج پتا نہیں یہ لوگ اتنا ظلم کیوں کرتے آئے۔ان خیالات کا اظہاروزیر ہائر ایجوکیشن کرنل وقار احمد نور نے اپنے خصوصی انٹر ویو میں کیا،انہوں نے کہا کہ سابقہ سیاستدانوں نے لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر بیوقوف بنا کر کبھی برادری کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا۔اور کبھی ووٹ کی تجارت کی گئی۔لیکن جب ووٹ کی پرچی کا استعمال میرٹ پر نہیں کریں گے یہی ہوگا۔ پڑھا لکھا اور باشعور حلقہ میرا خواب ہے۔پچھلے پچاس سال میں تین کالج اور اب انشااللہ اسی سال میں تین نئے کالجز منظور کروا رہا ہوں۔حلقہ برنالہ کا ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوگا۔ہمیں اپنی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے۔روڈز گلیاں پل یہ تو روز مرہ کی ضروریات اور ذرائع نقل ورسد ہیں۔جہاں انسان بستے ہوں۔وہاں کم ازکم گزر گاہوں اور رستوں کا پختہ ہونا ضروری ہے۔اللہ کے فضل سے ہر گاؤں اور ہر یونین کونسل میں روڈز کی پختگی اور گلیوں کی تعمیر میں حصہ دیا۔اور لوگ خوش ہیں۔مجھے فخر ہے۔کہ اللہ نے جو موقع دیا۔اس پر پورا اترنے کی کوشش کر رہا ہوں۔کام عملی طور پر ہو رہے ہیں۔اور نظر بھی آ رہے ہیں۔ وہ چھپ نہیں سکتے۔سب سے پہلے حلقہ کا سب سے بڑا مسئلہ وولٹیج کی کمی کا خاتمہ فیڈر لائن لگا کر حل کیا۔اب دوسرے فیڈر کے 100 کے قریب پول تنصیب ہوچکے۔چند دن تک کام کرناشروع کر دے گا۔اب میٹر آپ کے گھر بغیر چکر اور اصل قیمت پر تنصیب ہوتے ہیں۔ اس عرصہ میں۔ستر نئے ٹرانسارمر تنصیب کروائے۔جبکہ سابقہ پانچ سال میں میں صرف سولہ ٹرانسفارمر آئے۔وہ بھی ٹائوٹس کو اس شرط پر دیئے گئے کہ لوگ اکھٹے کرو۔ووٹ کا حلف لو۔پھر لگانا۔اللہ کے فضل سے اس لعنت سے چھٹکارا دلوایا گیا۔بجلی کے پولز محکمہ خود سروے کر کے تاروں بجری ریت سمیت تنصیب کرتا ہے۔کسی ٹاؤٹ کے گھر ڈھیر نہیں لگائے جاتے۔محکمہ تعلیم میں حلقہ کی تمام خالی آسامیاں میرٹ پر پر کی گئیں ہیں۔ایسے سکول تھے جہاں چھ چھ اساتذہ کی آسامیاں خالی چلی آ رہی تھی الحمد اللہ اساتذہ دستیاب کئے گئے۔ این ٹی ایس کے نفاذ سے بلا تفریق سیاست میرٹ پر ٹیچر بھرتی ہو رہے ہیں۔تین سو سے زائد نئے اساتذہ تعینات ہوئے ہیں۔اور اس عرصہ کے دوران سرکاری سکولز میں تین ہزار سے زائدنئے بچے داخل ہوئے ہیںسرکاری اداروں پر اعتماد بحال کروانا عام بات نہیں تھی۔پٹوار خانہ ایک جگہ اکٹھا کیا گیا،پہلے یہی پٹواری تلاش کرنے کے لیے کتنے کتنے دن لگ جاتے۔الحمد اللہ پورا حلقہ جانتا ہے۔اب تمام پٹواری بر وقت دفتر آتے ہیں۔اور ایک چھت کے نیچے دستیاب ہیں۔اور لین دین میں کمی آئی ہے۔اب سودا بازی چھپ چھپا کر کی جائے اس کا علاج نہیں۔البتہ سامنے کسی کی ہمت نہیں رشوت مانگے۔پہلے سرکاری ہسپتال میں رزلٹ پیسے لے کر بنائے جاتے تھے۔ بلیڈ سے کٹ لگا کر رزلٹ لیکر جعلی پرچے ہوتے تھے۔لیکن موجودہ دور میں کوئی ایک جعلی پرچہ رجسٹرڈ بتا دیں جس کے پیچھے جعلی رزلٹ ہویاسیاسی ہو۔کہنا بڑا آسان ہے۔مگر عملی کام مشکل ہے۔ اس گندے کام کی حوصلہ شکنی کی اور ختم کیا گیا۔سرکاری ہسپتال کا بجٹ بھی اب ادھر عملی خرچ ہو رہا ہے۔اور عملہ بھی ہر وقت آپ کو ہسپتال کام کرتا نظر آئے گا۔انشاء اللہ چند دنوں تک صحت میں نئی آسامیاں پر بھرتی ہوگی اور ادویات کا بجٹ بھی بڑھایا جائے گا۔پورا تحصیل سٹاف آپ کو کام کرتا نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کام کا ایک طریقہ کار ہے۔یہ الہٰ دین کا چراغ نہیں کہ ساٹھ سال کی کمیوں کو ایک بار مکمل کر دیں۔تھانہ میں کوئی ایک مقدمہ جو سیاسی طور پر فرضی اور جعلی سیاسی درج نہیں ہونے دیا۔
وقار نور

© Copyright 2019. All right Reserved