منگل‬‮   18   جون‬‮   2019

گرلز سر کاری سکولوں میں سر عام ٹھیکہ سسٹم عروج پر


معلمات طویل عرصہ سے غائب،اپنی جگہ چند ہزاررْوپوں میں نان پروفیشنل خواتین رکھی ہوئی ہیں

بعض نالائق معلمات نے سیاسی سفارش پرنوکری تو حاصل کرلی لیکن تدریس اْنکے بس کی بات نہیں

نعمان پورہ (نمائندہ اوصاف)متعدد گرلز سر کاری سکولوں میں سر عام ٹھیکہ سسٹم عروج پر , سیاسی وابستگی ،ووٹرز کے رشتے کے سامنے ڈی ای او زنانہ اور محکمہ تعلیم بے بس۔ اکثر سکولو ں میں اصل معلمات طویل عرصہ سے حاضر نہیں بلکہ بعض تاریخ تقرری سے صرف حاضری رپورٹ دینے کے دن سے مسلسل غیر حاضر ہیں اور اپنی جگہ صرف چند ہزار رْوپوں میں صرف میٹرک اور ایف۔اے نان پروفیشنل خواتین کے ذریعے بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہیں اور بعض نالائق معلمات نے سیاسی سفارش کی بنیاد پر نوکری تو حاصل کر لی لیکن تدریس اْنکے بس کی بات نہیں اْنھوں نے بھی اپنی جگہ کسی دوسری پڑھی لکھی لڑکی کی مجبوری خرید کر صرف چند ہزار رْوپوں کے عوض خدمات لے رکھی ہیں، رزلٹ اْس غائب معلمہ کا بنتا ہے اور حاضری بھی اْسی کی لگتی ھے جو کبھی سکول گئی ہی نہیں۔خود صدر معلمات کی ملی بھگت سے پاکستان کے کسی شہر میں اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں پڑھا رہی ہیں کچھ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ دوران ملازمت پاکستان سے باہر بھی سیر سپاٹے کرتی رہتی ہیں تاہم صدر معلمات کی چالاکی آشیر باد اور سیاسی تعلق کی چھتریوں اور محکمہ تعلیم شعبہ زنانہ کی چشم پوشی کی بدولت یہ گھنائونا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔تحقیقات سے معلوم ھو ا ھے کہ ایسے سکولوں کی تعداد میں مردانہ سکولوں کی تعداد ابھی تقریباً نہ ھونے کے برابر رہ گئی ھے بلکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سردار راشد آزاد نے ایسے میل اساتذہ کو جو گھر بیٹھ کر طویل عرصہ سے صرف تنخواہ وصول کرتے تھے اْن کو سکولوں میں حاضر رہنے پر پابند کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ھے اور اب مردانہ شعبہ تعلیم باغ میں اس طرح کی مثال تلاش کرنا محال ھے لیکن زنانہ شعبہ میں گھر بیٹھے فی میل ٹیچرز بڑی تعداد میں ہیں جو تاریخ تقرری سے جائے تعیناتی پر حاضر نہیں ہیں لیکن اْنکی ایک بھی غیر حاضری نہیں ھوتی ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ یہ نالائق اور کام چور معلمات ، صدر معلمات اور محکمہ کی مْٹھی بھی گرم کر دیتی ہیں تاکہ اْنکے اس قومی جْرم پر پردہ پڑا رہے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعظم ،چیف سیکرٹری ، وزیر تعلیم سکولز سیکرٹری سکولز سے مطالبہ کیا ھے کہ ایسے تمام ملازمین معلمات جو تنخواہ تو سرکاری خزانے سے لیتی ہیں لیکن اپنی جگہ کرائے کی معلمات رکھ کر بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہیں اْن کی متعلقہ صدر معلمات کے خلاف کاروائی کی جائے اور محکمہ تعلیم زنانہ کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائیں۔
سکول، ٹھیکہ سسٹم

© Copyright 2019. All right Reserved