منگل‬‮   18   جون‬‮   2019

اکلاس ملازمین کو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود گولڈن شیک ہینڈ پیکج نہ مل سکا


محکمہ اکلاس ختم کرنے کے بعد504ملازمین اور 548پنشنرز ایک سال سے گولڈن شیک ہینڈ پیکج کے منتظر

حکومت کی جانب سے آخری مرتبہ 10مئی تک لی گئی مہلت پر بھی عمل نہ ہو سکا،ملازمین رمضان میں دربدر

مظفرآباد (تنویراحمد تنولی/نمائندہ خصوصی) آزادکشمیر کے قدرتی جنگلات سے تجارتی بنیادوں پر لکڑی کی نکاسی و فروختگی کے لیے قائم ادارہ اکلاس کو ختم کرنے کے بعد504ملازمین اور 548پنشنرز کو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود گولڈن شیک ہینڈ پیکج نہ مل سکا۔اربوں روپے کے اثاثہ جات رکھنے والے ادارہ کے 1052ملازمین اپنے حق کے لیے متعدد مرتبہ بچوں سمیت سڑکوں پرنکلنے احتجاج کرنے پر مجبور ،حکومت کی جانب سے آخری مرتبہ 10مئی تک لی گئی مہلت پر بھی عمل درآمد 6روز گزر نے کے باوجود نہ ہو سکا۔متاثرہ ملازمین ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک میں احتجاج پر مجبور ہیں ۔ادارہ کے 54ملازمین کو صرف پیکج کی ادائیگی کے لیے کنٹریکٹ پرتعینات رکھا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ادارہ جس کے اثاثہ جات میں ایف ٹین مرکز اسلام آباد میں ساڑھے 19کنال کمرشل پلاٹ،جی ٹین مرکز اسلام آباد میں تعمیر چار منزلہ کمرشل پلازہ جس کا ماہانہ کرایہ16لاکھ 38ہزار633روپے وصول ہورہا ہے کہ علاوہ آئی ٹین تھری اسلام آباد کے انڈسٹریل ایریا میں ایک پلاٹ تعدادی کے علاوہ ہیڈ آفس کمپلیکس چھتر مظفرآباد کی عمارت14کروڑ41لاکھ روپے میں ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ کو فروخت کی گئی ہے ۔کنڈل شاہی میں ادارہ کی13کنال 10مرلہ زمین اور عمارت و سامان ہے ۔رپورٹ کے مطابق آٹھمقام میں5کنال کا کمرشل پلاٹ شاردہ میں 2عدد پلاٹ دفتر و عمارت ،میرپور انڈسٹریل ایریا میں واقع اراضی 127کنال اور موضع سہنسہ میں32کنال دو منزلہ عمارت ہے جب کہ مشینری کرینز ،لوڈر،لفٹر،گاڑیاں اور دیگر کروڑوںر وپے کی اشیاء کی فروخت سے اربوں روپے کی آمدن ممکن ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس میں سے بہت سی عمارتیں پلاٹ اور مشینری گاڑیاں فروخت اور پراسز میں ہیں لیکن ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کی بجائے وعدوں پر ٹرخایا جارہا ہے ۔
اکلاس ملازمین

© Copyright 2019. All right Reserved