بدھ‬‮   26   جون‬‮   2019

خیبر پختونخوا اسمبلی ، حکومت اور اپوزیشن میں لفظی گولہ باری، الزامات کی بارش

ااسوقت ملک ریاست مدینہ نہیں بلکہ ریاست عذاب کامنظرپیش کررہاہے،سات ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے تین ہزار ارب کے قرضے لئے، اپوزیشن
دوسابقہ حکمران ابوبچائومہم چلا رہے ہیں ک،بھی فالودہ اور کبھی سائیکل والے کے اکائونٹ سے اربوں روپے نکل رہے ہیں، حکومت کا جوابی وار
پشاور(بیورو رپورٹ)خیبرپختونخوااسمبلی میں اپوزیشن نے مہنگائی کی صورتحال پرپی ٹی آئی کی وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ اسوقت ملک ریاست مدینہ نہیں بلکہ ریاست عذاب کامنظرپیش کررہاہے گزشتہ سات ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے تین ہزار ارب کے قرضے لئے اورہرسال دس لاکھ افرادبیروزگارہورہے ہیں جواب میں صوبائی حکومت نے واضح کیاکہ 60سالوں میں سابق حکومتوں نے اتنے قرضے نہیں لئے جتنے گزشتہ دوسابقہ حکمران ابوبچائومہم چلا رہے ہیں کبھی فالودہ اور کبھی سائیکل والے کے اکائونٹ سے اربوں روپے نکل رہے ہیں جسکااحتساب ہوگاعوام جان لیں کہ بدعنوان لوگوں کااحتساب ہورہاہے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اے این پی کے خوشدل خان اور نگہت اورکزئی نے کہاکہ سابق صوبائی حکومت نے آخری دوسالوں کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک سے80ارب کاقرضہ لیا جس پر 84ارب روپے کاسوداداکرناہوگاصوبے کاہرباشندہ صوبائی اور وفاقی قرضوں کی ادائیگی کررہاہے ملک اسوقت ریاست مدینہ نہیں ریاست عذاب کامنظر پیش کررہاہے ڈالر104سے بڑھ 145تک پہنچ گیاہے چاول تین ہزار سے ساڑھے چارہزار ،سونا45ہزارسے78ہزارتک پہنچ گیاہے سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کیاگیاہے ایم ایم اے کے عنایت اللہ نے کہاکہ ہر سال دس لاکھ افرادبیروزگارہورہے ہیں سرکاری اعدادوشمارکے مطابق چالیس لاکھ لوگ ہرسال غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزارنے پرمجبورکئے جارہے ہیں سات ماہ کے دوران افراط زردس تک پہنچ گیاہے اورخدشہ ہے کہ14تک پہنچ جائے گا ملک کی مجموعی پیداوار 5.5فیصدگٹھ کر3.5فیصدہوگئی ہے خدشہ ہے کہ ڈالر180سے لیکر200تک تجاوزکرسکتاہے گردشی قرضوں میں240ارب روپے کااضافہ ہوا موجودہ وفاقی حکومت نے صرف سات ماہ کے دوران تین ہزار ارب کاقرضہ لیاہے ایف بی آرکو485ارب کے شارٹ فال کاسامناہے شرح سود کی شرح تاریخ کی بلندترین سطح پرہے تیل کی قیمتوں میں بے تحاشااضافہ ہواہے گیس کی قیمتوں میں142فیصد اوربجلی کی قیمت میں26فیصداضافہ کیاگیاجسکے باعث 300اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں براہ راست اضافہ ہواہے حکومت باورچی خانے میں استعمال ہونیوالی اشیاء کی قیمتوں کو استحکام دے اور ان چیزوں کو سبسڈی جاری کرے ،صوبائی وزیرعاطف خان نے کہاکہ اسوقت درآمدات 30ارب ڈالر جبکہ برآمدات20ارب ڈالر ہے سابق حکومتوں نے مصنوعی طریقوں سے ڈالر کو استحکام دیاتھا دس ارب ڈالر کے مالی خسارے کاسامناہے گردشی قرضے سابق دورمیں 600ارب روپے سے تجاوزکرگئے تھے 60سالوں میں حکمرانوں نے جتنے قرضے لئے تھے سابق دوروفاقی حکومتوں نے دس سالوں میں اس سے زائدقرضہ لیاموجودہ حکومت صرف روزانہ ساڑھے چھ ارب روپے سودکی مدمیں اداکررہی ہے اگریہ قرضہ نہ ہوتاتوروانہ650کلومیٹرسڑک یا650سکولزبنائے جاسکتے تھے غیرملکی کاروباروں کیلئے آسانیاں پیداکررہے ہیں چھ سے سات ماہ میں ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا لوگوں کو ٹیکس کاعادی بناناہوگا 22کروڑمیں سے صرف14لاکھ فائلرزہیں جن میں سے8لاکھ ٹیکس کی ادائیگی کررہے ہیں صوبائی وزیر نے اپنے ہی وفاقی وزیرکی نفی کرتے ہوئے کہاکہ لاکھوں لوگوں کے روزگارکی فراہمی کے حوالے سے فیصل واڈاکوبیان نہیں دیناچاہئے تھا اورمیں ان سے اتفاق بھی نہیں کرتا کیونکہ ایسے بیانات بعض میں ہزیمت کاسبب بنتے ہیں قرضے ضرورلینے چاہئے لیکن ایسے قرضے جس سے ملک کی معیشت کواستحکام ملے 38ارب کی لاگت سے سوات ایکسپریس وے سے ملاکنڈڈویژ ن کوفائدہ ہوگابی آرٹی سے لوگوں کو معیاری سفری سہولیا ت میسرہونگی جنرل سبسڈی کی بجائے ٹارگٹڈسبسڈی دینی چاہئے انہوں نے کہاکہ ابوبچائومہم چلائی جارہی ہے جب کسی کوپکڑتے ہیں تواپوزیشن کے مطابق جمہوریت کوخطرہ پیداہوجاتاہے فالودے اور سائیکل والے کے اکائونٹس سے اربوں روپے نکل رہے ہیں ہماری نیت ٹھیک ہے لیکن ہمیں وقت چاہئے تاکہ دورس معاشی اصلاحات نافذ کی جاسکیں۔
اسمبلی

© Copyright 2019. All right Reserved