بدھ‬‮   21   اگست‬‮   2019

وکلاء عدلیہ کا اثاثہ، باہمی تعاون سے فوری انصاف مل سکتا ہے، جسٹس لعل جان خٹک

نوجوان وکلاء سینئر وکلاء کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں، لیکچر دیے جائیں، غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہئے
پیشہ ورانہ اہلیت رکھنے والے وکلاء بار کے ساتھ عدلیہ کا اثاثہ ہیں ٹارگٹ مقدمات میں بھرپور تعاون کریں گے
ایبٹ آباد( ڈسٹرکٹ رپورٹر) آزاد عدلیہ کیلئے مضبوط بار کا ہونا انتہائی ضروری ہے بار اور بنچ کے تعاون سے شہریوں کو جلد اور فوری انصاف مل سکتا ہے،ان خیالات کا اظہار پشاور ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس لعل جان خٹک نے ڈسٹرکٹ بار روم کی عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صوفیہ وقار،کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ارشد اعوان ایڈووکیٹ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خان گل خان جدون ایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹری مصدق خان جدون ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا،تقریب میں ایڈیشنل سیشن ججز،سینئر سول جج، سول جج،سینئر وکلاء اور ممبران ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے شرکت کی اس موقع پہ خواتین وکلاء کی بھی بڑی تعداد موجود تھی،جسٹس لعل جان خٹک کا کہنا تھا ہزارہ بار کا ملک کے ساتھ بیرون ملک بڑا چرچا ہے بھارت اتر پردیش کے سینئر وکلاء نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پشاور میں عدلیہ کے اعلی سطحی اجلاس میں ہزارہ بار کا اچھے الفاظ میں تذکرہ کیا،انھوں نے کہا کہ سینئر وکلاء سے راہنمائی سے ججز نے اچھے فیصلے کئے،نوجوان وکلاء بھی سینیئر وکلاء کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور بار انکی تربیت کیلئے سال دو تین سیشن رکھے جس میں انکو لیکچر دیے جائیں،انھوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ اہلیت رکھنے والے وکلاء بار کے ساتھ عدلیہ کا بھی اثاثہ ہیں ٹارگٹ مقدمات میں عدلیہ وکلاء سے بھرپور تعاون کرے گی،انھوں نے کہا ہمیشہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہئے جسٹس لعل جان خٹک نے بار کا ممبر بننے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا میرے لئے ممکن نہیں رہا لیکن میرے صاحبزادے بار کا حصہ بنیں گے،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صوفیہ وقار کا کہنا تھا وکلاء کے تعاون سے زیر التواء فیملی مقدمات دو ماہ میں نمٹائے،اس سلسلہ میں بنچ بار کی مشاورت کے کئی اجلاس ہوئیجس میں مختلف تجاویز ائیں جس مقدمات نمٹانے میں آسانی پیدا ہوگی،اور عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر شیڈول بناکے فوجداری مقدمات کے فیصلے کئے ہیں اور سالوں کے مقدمات ایک دو پیشیوں میں ختم ہوئے جس سے بوجھ بھی کم ہوا ہے کمشنرہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے اپنے خطاب میں کہا 1992 میں اپنی سروس کے آغاز سے ہی وکلاء اور ججز سے بہت کچھ سیکھاوکلاء قوموں کی سمت طے کر کے انھیں منطقی انجام تک لے کر جاتے ہیں صدر ڈسٹرکٹ بار خان گل خان جدون نے کہا کہ بار نے مختلف مقدمات میں عدلیہ سے تعاون کیا۔آخر میں سینئرجج پشاور ہائیکورٹ جسٹس لعل خان خٹک جسٹس اعجاز انور کمشنر ہزارہ ڈویزن سید ظہیر السلام صدر ڈسٹرکٹ صدر بار ایسوسی ایشن خان گل خان نیتختی کی نقاب کشائی کی،اور ملکی سلامتی کے لییشیفیق اعوان ایڈوکیٹ نے خصوصی دعا کروائی۔
جسٹس لعل

© Copyright 2019. All right Reserved