ہفتہ‬‮   25   مئی‬‮   2019

پاکستان اور بھارت میں کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات ، دوسرا دور 2 اپریل کو طے


ڈی جی ساؤتھ ایشیا،ترجمان دفتر خارجہ کی زیرقیادت پاکستانی وفدنے اٹاری میں بھارتی حکام سے مذاکرات کئے
بھارت بھی امن کی خاطر مثبت قدم آگے بڑھائے،پاکستانی صحافیوں کو ویزے نہ دیناافسوسناک ہے، ڈاکٹرفیصل

لا ہو ر (نیوزایجنسیاں) پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات ، دوسرا دور 2 اپریل کو واہگہ میں ہوگا۔ وزارت خارجہ میں ڈی جی ساؤتھ ایشیا اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اٹاری میں کرتار پور راہداری منصوبے سے متعلق بھارتی حکام سے مذاکرات کیے۔پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ و داخلہ، قانون و انصاف اور مذہبی امور کے حکام شامل تھے۔بھارتی حکام سے مذاکرات کے بعد واپسی پر پاکستان وفد کے سربراہ ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ 2 اپریل کو کرتارپور راہداری سے متعلق دوسری ملاقات واہگہ بارڈر پر ہوگی۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارتی حکام سے بہت مثبت بات چیت ہوئی تاہم بعض معاملات پر اب بھی اختلافات ہیں، جس کی تفصیلات نہیں بتا سکتا۔اس سے قبل بھارت روانگی کے موقع پرمیڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر میں بھی سایہ جائے، ہماری میٹنگ کرتار پور راہداری کھولنے سے متعلق ہے ، ہم مذاکرات کے لیے مثبت پیغام لے کر جارہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ مںصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا اور تکمیل نومبر 2019 میں ہوجائے گی۔راہداری منصوبے میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلو میٹر سڑک شامل ہے، ذرائع کے مطابق دریا پر پُل اور سڑک کی تعمیر کا کام 50 فیصد مکمل ہے اور منصوبہ نومبر میں ہونے والے بابا گورو نانک کی 551ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کرتارپورراہداری پراجلاس وزیراعظم کے وژن کاعکاس ہے ، خطے میں امن کی خاطرمذاکرات کیلئے بھا رت جا نے کا فیصلہ کیا ، مثبت پیغام لیکرجارہے ہیں ، امید ہے بھارت بھی مثبت قدم آگے بڑھائے گا ، ہمارے مذاکرات کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق ہے ، دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا پاک بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لیے ضروری ہے ۔ادھر بھارت نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہیں کیے ۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا ایک ٹوئٹر بیان میں کہنا تھا کہ 30 سے زائد بھارتی صحافیوں نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی جب کہ بھارتی صحافیوں کے لیے وزیر خارجہ نے عشائیہ کا اہتمام بھی کیا تھا تاہم بھارت نے پاکستانی صحافیوں کو ویزے نہیں دیئے جس پر افسوس ہے۔
کرتار پور راہداری ، مذاکرات

© Copyright 2019. All right Reserved