08:50 am
بریگیڈیئر اسد منیر اپنی کنپٹی پر پستول رکھی تو ان کی اہلیہ نے پکڑ لی ۔

بریگیڈیئر اسد منیر اپنی کنپٹی پر پستول رکھی تو ان کی اہلیہ نے پکڑ لی ۔

08:50 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) گذشتہ روز سابق ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے خود کشی کر لی تھی اور ان کی اس اچانک موت پر کئی لوگ ششدر رہ گئے۔ تجزیہ نگار نے اپنے کالم میں اسد منیر کی خود کُشی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسد منیر سخت پریشان تھے ، اور گھر میں اُس وقت ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ پریشانی میں مبتلا بے بس ہو کر اسد منیر نے اپنی کنپٹی پر پستول رکھی تو اسد منیر کی اہلیہ نے پستول پکڑ لیا۔اور انہیں سمجھا بجھا کر تسلی دی اور سلا دیا۔ اہلیہ کے سونے کے بعد اسد منیر تاحال کشمکش کا شکار تھے اور انہیں یہی ڈر تھا کہ نیب انہیں ہتھکڑی لگا کر لے جائے گی اور ان کی بدنامی ہو گی ، بدنامی کا یہی خوف انہیں کھائے جا رہا تھا۔اہلیہ کو سوتا دیکھ کر وہ خود اُٹھے اور باہر چلے گئے۔ صبح 4 بجے کے قریب اسد منیر کی اہلیہ نے انہیں کمرے میں نہ پایا تو دوسرے کمروں میں ڈھونڈنے لگیں۔
آواز دینے پر بھی جواب نہ آنے پر ان کا دل بیٹھا جا رہا تھا کہ ایک کمرے کا دروازہ کھولنے پر سامنے اسد منیر کی لاش پنکھے کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی۔ اسد منیر کے بھائی کرنل ریٹائرڈ خالد منیر کو ان کی موت کی اطلاع دی گئی۔ سب کو معلوم تھا کہ اسد منیر اپنی عزت کےکس قدر قائل تھے۔ وہ اپنی توہین برداشت کرتے تھے نہ کوئی ایسا کام کرتے تھے جس سے انہیں پشیمانی ہو۔انہوں نے 1971ء میں فوج میں کمیشن لیا تھا۔ 1998ء میں ملٹری انٹیلی جنس میں آئے اور سال 2002ء میں وہ خیبر پختونخوامیں آئی ایس آئی کے کمانڈر تھے۔ ان کا ایک نام تھا عہدے کا اثر ایسا تھا کہ بڑے بڑے لوگ ان کے نام سے ڈرتے تھے لیکن وہ ذاتی طورپر مختلف انسان، مختلف آدمی تھے۔ دوستوں کے دوست، قہقہوں کے شہزادہ۔ گپ شپ کے شیدائی اور گیان کے طالب۔انہیں ان کی خدمات کے عوض 2003ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔ ایجنسی سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سال 2006ء سے سال 2010ء تک سی ڈی اے شعبہ اسٹیٹ کے ممبر تھے۔ یہاں کرپشن تو عروج پر تھی لیکن اسد منیر کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اسد منیر کرپشن کے مخالف اور سیدھے سادھے انسان تھے۔لیکن وہ اپریل 2017ء سے پریشان تھے۔ کیونکہ نیب نے انہیں تنگ کرنا شروع کررکھا تھا۔ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے ایک شہری کا سی ڈی اے کی طرف سے منسوخ شدہ پلاٹ قائدے کے مطابق بحال کرنے کی تحریری سفارش کی تھی جسے اس وقت کے چیئرمین نے درست سمجھتے ہوئے بحال کردیا تھا۔ ان کا نام نیب کی سفارش پر نومبر 2017ء میں ای سی ایل پر ڈال دیا گیا۔ سال 2018ء میں ان کے خلاف کیسز بنائے جانے لگے اور نیب کی پریس ریلیز میں ان کا نام نمایاں کرکے شائع کیا گیا۔وہ ہر بار ٹی وی اور اخبارات میں اپنا نام کرپشن کے معاملے پر دیکھتے تو تڑپ اٹھتے۔ انہیں تکلیف اس بات کی تھی کہ نیب راولپنڈی کو انہوں نے جون 2018ء میں اپنے اثاثوں کی تفصیلات بھی دے رکھی تھیں لیکن نیب کے تفتیشی مطمئن نہیں تھے۔خود کُشی سے قبل بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام ایک خط بھی لکھا۔ انہوں نے اپنے اس خط میں کہا کہ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ وہ نیب حکام کی کارروائیوں کا نوٹس لیں تاکہ کسی سرکاری افسر کو اُن جرائم کی سزا نہ ملے جس کا وہ مرتکب ہی نہیں ہے۔اس خط میں بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے کہا کہ نیب نے میرے خلاف 2008ء میں پلاٹ بحال کرنے پر ایک ریفرنس دائر کر رکھا ہے جبکہ پلاٹ میں نے نہیں بلکہ چئیرمین نے بحال کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں 2010- 2006ء تک اسٹیٹ کا ممبر رہا لیکن اس عرصے میں میرے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا۔ لیکن اپریل 2017ء کے بعد سے نیب نے میرا جینا حرام کر دیا۔ وزارت داخلہ نے میرا نام نومبر 2017ء میں ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا۔جس کے بعد میں نے سیکرٹری ایم او آئی کےنام ایک نظر ثانی کی اپیل دائر کی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا اور ایک سال سے زائد عرصے تک میرا نام ای سی ایل میں ہی رہا۔ نیب نے گذشتہ ایک سال کے دوران میرے خلاف تین تفتیش اور دو انکوائریوں کا آغاز کیا۔ تین تحقیقات بورڈ ممبر اور دو انکوائریاں ممبر آف اسٹیٹ رہنے کی وجہ سے شروع کی گئیں۔ میری آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ اس خط کے ساتھ ہر کیس سے متعلق لگائی گئی میری دستاویزات کو ضرور پڑھیں۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں کرپشن کیسز میں ملوث رہا ہوں تو کیس بند ہو جائے گا اور اگر اس سب میں نیب کی غلطی ثابت ہو گئی تو میری آپ سے درخواست ہے کہ میرا نام کلئیر کر دیا جائے۔ میں نے جون 2018ء میں اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات نیب میں جمع کروائی تھیں۔ میں بے عزتی، ہتھکڑیوں میں گرفتاری اور میڈیا کے سامنے پریڈ کروائے جانے سے بچنے کے لیے خودکشی کررہا ہوں۔ بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام لکھے اس خط میں اپنی خود کُشی کی وجہ بھی بتائی اور کہا کہ میں اپنی جان اس اُمید پر دے رہا ہوں کہ آپ ایک ایسے نظام میں مثبت تبدیلی لائیں گے جہاں نا اہل لوگ احتساب کے نام پر شہریوں کی زندگیوں اور آبرو سے کھیل رہے ہیں