10:03 am
پڑھیے کچھ ایتھنز کے بارے میں

پڑھیے کچھ ایتھنز کے بارے میں

10:03 am

 ایتھنز (athens) یونان کا دار الحکومت اور سب سےبڑا شہر اور جمہوریت کی جائےپیدائش ہے۔ شہر کا نام یونانی دیومالا میں ایتھنے(آتھینا) دیوی کےنام پر رکھا گیا ہے۔ 3.7ملین کی آبادی کا حامل یہ شہر شمال اور مشرق کی جانب مزید وسعت پارہا ہےاور یونان کا اقتصادی، تجارتی، صنعتی، ثقافتی اور سیاسی قلب سمجھا جاتاہے۔ یہ شہر یورپ کا ابھرتا ہوا کاروباری مرکز ہے۔ قدیم ایتھنز(آتھینا) 

ایک طاقتور ریاست اور افلاطون اور ارسطو کےتعلیمی اداروں کےباعث علم کا معروف مرکز تھا۔ اسے چوتھی اور پانچویں صدی قبل مسیح میں اس وقت تک دریافت شدہ یورپ پر چھوڑے گئے گہرے ثقافتی و سیاسی اثرات کےباعث مغربی تہذیب کی گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ شہر پارتھینون، ایکروپولس (بلند شہر)، کیلی کریٹس اور فیڈیاس جیسے معروف تعمیراتی شاہکاروں کےعلاوہ کئی قدیم یادگار اور فن تعمیر کےنادر نمونوں کا حامل ہے۔ ان میں سےکئی ثقافتی یادگاروں کی 2004ءاولمپک گیمز سےقبل تزئین و آرائش کی گئی۔ شہر کا نام یونانی دیومالائی داستانوں کی دیوی ایتھنا کےنام پر ایتھنز رکھا گیا ہے۔ 1970ءکی دہائی میں ایتھنا کو شہر کا قانونی نام قرار دیا گیا۔ ایتھنز کی بنیاد کب رکھی گئی؟ اس بارےمیں کچھ نہیں معلوم تاہم پہلے ہزاریہ قبل مسیح میں یونانی تہذیب کے زریں دور میں ایتھنز یونان کا ابھرتا ہوا شہر تھا۔ یونان کےسنہرےدور (500 قبل مسیح تا 323قبل مسیح) میں یہ دنیا کا ثقافتی و تعلیمی مرکز تھا۔ 431 قبل مسیح میں ایتھنز(آتھینا) ایک اور شہری ریاست اسپارٹا(سپارتا) سے جنگ میں شکست کھاگیا اور تباہی کا شکار ہوا۔ 529ءمیں عیسائی بازنطینی سلطنت نےفلسفےکی درس گاہوں کو بند کردیا اور ایتھنز اپنی(آتھینا) تعلیمی حیثیت کھوبیٹھا۔ 11 اور 12 صدی عیسوی کےدوران بازنطینی شہر کی حیثیت سےایتھنز(آتھینا) ایک مرتبہ پھر عالمی افق پر ابھرا اور ایتھنز(آتھینا) کےگرد قائم تمام اہم بازنطینی گرجےانہی دو صدیوں کےدوران تعمیر ہوئے۔ 13 اور 15 ویں صدی میں شہر کو اس وقت زبردست نقصان پہنچا جب یونانی بازنطینیوں اور فرانسیسی و اطالوی صلیبیوں کےدرمیان شہر میں جنگ لڑی گئی۔ 1458ءمیں عثمانی فرمانروا سلطان محمد فاتح نےشہر کو فتح کرلیا۔ شہر میں داخلےکےبعد سلطان اس کی خوبصورتی سےانتہائی متاثر ہوااور فرمان جاری کیا کہ شہر کی کسی تاریخی عمارت یا مقام کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ فتح ایتھنز(آتھینا) کےبعد پارتھینون کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ 1821ء سے 1831ء کے دوران یونانی جنگ آزادی میں عثمانیوں کا ایتھنز(آتھینا) پر اثر و رسوخ ختم ہونے لگا اور جب 29 ستمبر 1834ء کو ایتھنز(آتھینا) کو آزاد یونان کا دار الحکومت قرار دیا گیا تو اس کی آبادی صرف 5 ہزار تھی۔ اگلی چند دہائیوں میں شہر کی جدید بنیاد پر ازسر نو تعمیر کی گئی۔ 1896ءمیں اسی شہر نے پہلے گرمائی اولمپک گیمز کی میزبانی کی۔ شہر میں دوسری بڑی توسیع 1920ء کی دہائی میں اس وقت کی گئی جب ایشیائےکوچک کے یونانی مہاجرین کے لیے آبادیاں قائم کی گئیں۔ دوسری جنگ عظیم کےدوران جرمنی نےایتھنز(آتھینا) پر قبضہ کرلیا اور اسے جنگ کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1980ء تک شہر کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا جس سے بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے مسائل پیدا ہوئے۔ 1981ء میں یونان کی یورپی یونین میں شمولیت کے بعد گنجان صنعتی علاقوں اور فضائی آلودگی جیسےمسائل پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ شہر کےمنتظمین نےآلودگی اور ٹریفک کےمسائل پربڑی حد تک قابو پالیا ہےاور آج ایتھنز جدید ڈھانچے، یادگار قدیم تعمیرات اور عجائب گھروں، جیتی جاگتی زندگی اور عالمی معیارکےخریداری مراکز کا حامل ایک جدید شہر ہے۔ ایتھنز زمانہ قدیم سےسیاحوں کےلئےمعروف ترین مقام رہا ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں شہری ڈھانچےاور سماجی سہولیات کی بہتری کےباعث شہر 2004ء میں اولمپک گیمز کی میزبانی کےحصول میں کامیاب ہوا۔ یونان نے یورپی یونین کی مدد سے نئے جدید ہوائی اڈے، میٹرو نظام کی وسیع پیمانےپر توسیع اور نئی شاہراہوں کی تعمیر پر کثیر سرمایہ خرچ کیا۔ 5 اور 4 ستارہ ہوٹلوں کی کثیر تعداد کےساتھ ایتھنز یورپ میں سب سےزیادہ سیاحوں کی میزبانی کرنےوالےشہروں میں چھٹےنمبر پر ہے۔ ماسٹر پلان کےتحت شہر کےوسیع علاقےکی تزئین و آرائش کی گئی جس میں اولمپیئن زیوس کےمندر سے بذریعہ ایکروپولس، تھیسیم میں ہیفسٹس کےمندر تک ڈیونیسیو ایروپیگیٹو اسٹریٹ کی ازسر نو تعمیر بھی شامل تھی۔ سینٹاگما اسکوائر وسطی ایتھنز میں واقع ہےاور سابق شاہی محل اور موجودہ یونانی پارلیمنٹ اور 19 ویں صدی کی دیگر سرکاری عمارات یہیں واقع ہیں۔ نیشنل گارڈن پارلیمنٹ کےعقب میں قائم ہے۔ علاوہ ازیں علاقےمیں کئی بڑے ہوٹل بھی موجود ہیں اور بلاشبہ سینٹاگما کو شہر کا سیاحتی مرکز کہا جاسکتا ہےکیونکہ شہر کےتمام تاریخی مقامات اس مقام پر دو کلومیٹر کےاندر اندر واقع ہیں۔ سینٹاگما اسکوائر کےقریب کالیمارمارو اسٹیڈیم موجود ہےجو 1896ءمیں پہلے جدید اولمپک گیمز کا میزبان تھا۔ یہ واحد بڑا اسٹیڈیم ہےجس کو مکمل طور پر اسی سفید سنگ مرمر سےتعمیر کیا گیا جو پارتھینون کی تیاری میں استعمال ہوا۔ اسٹیڈیم میں 60 ہزار تماشائیوں کےبیٹھنےکی گنجائش ہے۔