07:58 am
نیب کو طرز عمل بدلنا ہو گا

نیب کو طرز عمل بدلنا ہو گا

07:58 am

٭نیب کی طرف سے شہباز شریف، بیگم نصرت شہباز کی طلبی۔ تینوں لندن چلے گئےO پاک فوج کا عظیم انسانی کارنامہ، سیلاب میں گھرے 150 ہندو یاتریوں کو بچا لیا O مجھے ایم کیو ایم میں لٹیروں اور جاگیرداروں سے لڑنا پڑ رہا ہے فاروق ستارO کراچی: میڈیا امتحانات کی کوریج نہیں کر سکے گا کراچی تعلیمی بورڈ کی پابندی O بی جے پی نے پاک فوج کا ترانہ چرالیا O ملک بھر میں طوفانی بارشیں O پنجاب میں وسیع پیمانہ پر افسروںکی تبدیلیاں، وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں؟ O معروف مزاحیہ شاعر امام دین کا 149 واں یوم پیدائش۔
 
٭نیب نے نوازشریف کے بعد شہباز شریف کے خاندان پر توجہ کر لی۔ یکے بعد دیگرے شہباز، حمزہ شہباز، بیگم نصرت شہباز، دونوںبیٹیوں رابعہ اور جویریہ کو تحقیقات کے لئے طلب کر لیا۔ ان پر اربوں کی منی لانڈرنگ اور ناجائز اثاثوں کا الزام ہے۔ تفصیل خبروں کے صفحات میں ہے۔ ایک اہم بات تو یہ ہے کہ شہباز شریف، بیگم نصرت اور ایک بیٹی اور حمزہ کی بیوی پہلے ہی لندن جا چکے ہیں۔ لاہور میں صرف حمزہ اور ایک بیٹی موجود ہے۔ مجھے نیب کے بیٹیوں کو بلانے کے طریقہ کار پر سخت اعتراض ہے۔
 میرے مذہب اسلام میں خواتین کو عزت اور احترام کا بلندمقام دیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ انہیں کسی معاملے میں اپنے درباروں میں بلا کر ان سے مجرموں کی طرح تفتیش اور سوال جواب کرنا نہائت ناواجب حرکت ہے۔ نیب کو کوئی معلومات چاہئے تھیں تو اس کا کوئی سینئر افسران خواتین کو پیشگی اطلاع دے کر ان کی رہائش گاہوں پرجا کر نہائت عزت و احترام کے ساتھ مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتا تھا، مگر یوں لگتا ہے کہ کسی خاص گوشے کی خواہش یا ہدایت پر اس کام کو تماشا بنا دیا گیا ہے۔ پہلے گرفتاری کا وارنٹ لے کر حمزہ شہباز کے گھر پہنچ گئے۔ وہاں مزاحمت بلکہ پٹائی ہو گئی تو واپس بھاگ آئے، اور اب نیب کا ڈائریکٹر جنرل کہہ رہا ہے کہ ’’حمزہ صاحب! ہم آپ کو گرفتار کرنے نہیںگئے تھے ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘ ارادہ نہیں تھا تو پھر کیا کرنے گئے؟ یہ معاملہ ابھی چل رہا ہے اور حمزہ کی والدہ اور دو بہنوںکو نیب کے دربار میں طلب کر لیا گیا ہے۔ میںشریف خاندان کے مبینہ مالیاتی لوٹ مار کی بالکل حمایت نہیں کر رہا، کر بھی نہیں سکتا۔ ان لوگوں کو اندرون و بیرون ملک وسیع جائیدادوں کا حساب دینا پڑے گا۔ الزام ثابت ہونے پر سزا بھگتنی پڑے گی۔ میں نے امریکہ اور یورپ، حتیٰ کہ بھارت میں خواتین کو بسوں اور ٹرینوںکے بے قابو ہجوم میں مردوں کے درمیان دھکے کھاتے دیکھا ہے مگر پاکستان میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نیب والے آج دوسروں کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں، کل کو یہی سلوک ان کے اپنے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ خواتین کے بارے میںطرز عمل بدلنا ہو گا۔
٭تین دن پہلے بلوچستان میں اچانک آنے والے طوفانی سیلاب میں 150 ہندو یاتری بہہ گئے جو ’شوران‘ کے علاقے میں اپنی عبادات کے سلسلے میں گئے تھے۔ یہ نہائت مشکل پہاڑی علاقہ ہے جہاں ویسے ہی کوئی گاڑی یا ایمبولینس نہیں جا سکتی جب کہ شدید سیلاب کا بھی سامنا تھا۔ ایسے میں ایک بار پھر وطن کی عظیم جانباز فوج آگے آئی۔ تین ہیلی کاپٹروں اور دوسرے ذرائع سے 36 گھنٹے مسلسل دن رات کارروائیوں سے تمام 150 افراد کو بچا کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔ زندہ باد! پاک فوج کا ایک اور عظیم کارنامہ! ان 150 افراد کا جو بھی مذہبی مسلک ہو، یہ سب پاکستان کے اہم شہری ہیں۔ میں ان سب کو بحفاظت بچ جانے پرمبارکباد دیتا ہوں۔
٭میں ملک کے 94 سالہ معمر ترین اورنہائت واجب التعظیم بزرگ ادیب، محقق، نقاد، درجنوں اہم علمی و ادبی کتابوں کے خالق پروفیسر ڈاکٹر جمیل جالبی کو لائف اچیومنٹ کا ’’کمال فن ایوارڈ‘‘ دیئے جانے پر اظہار تحسین کرتا ہوں۔ ان کی اعلیٰ علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں یہ ایوارڈ انہیں 40,30 سال پہلے مل جانا چاہئے تھا۔ وہ ایک بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔ ایک عرصے سے ان کی تحریر کردہ تحقیقی و تاریخی کتابیں، پاکستان، بھارت، روس اور چین کی یونیورسٹیوں کی اعلیٰ کلاسوں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ انہیں یہ ایوارڈ دینے سے ان کی نہیں بلکہ اس ایوارڈ کی توقیر اوراہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس معاملہ کا ایک تلخ بلکہ تلخ ترین پہلو یہ بھی ہے کہ مشکوک تعلیمی ریکارڈ والے 1965ء میں بھارت سے پاکستان آنے والے ایک صاحب نے کسی اہم علمی ادبی شناخت کے بغیر آتے ہی پاکستان کے تین بڑے ایوارڈ اپنی جھولی میں ڈال لئے، اور عمر بھر ہر حکومت کے دوران پاکستان کے متعدد اداروں پر سوار یہ صاحب کمال فن ایوارڈ کے حصول کے لئے بھی ڈاکٹر جمیل جالبی کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے! 
اس ایوارڈ کے لئے کیا حربے اختیار کئے گئے اور ایوارڈ کمیٹی کے بیشتر ارکان کو کس طرح اپنے حق میں مائل کیا گیا، یہ الگ داستان ہے۔ مگر کمیٹی کے ایک رکن کے سخت سٹینڈ پر کمیٹی کو مجبوراً استادوں کے استاد 94 سال بزرگ ڈاکٹر جمیل جالبی کا نام منظور کرنا پڑا۔علمی ادبی و ثقافتی اور دوسرے شعبوں میں بڑے بڑے ایوارڈ کس طرح اندھے کی مثالی ریوڑیوں کی طرح اپنی جیب میں یا عزیز و اقارب میں تقسیم کئے جاتے ہیں، اس کی بے شمار مثالوں میں سے صرف ایک مثال کہ ملک کے عالمی شہرت یافتہ نہائت قابل تعظیم اساتذہ ڈاکٹر وحید قریشی و ڈاکٹر وزیر آغا اور معروف شعرا منیرنیازی اور قتیل شفائی کواس وقت ’تمغہ افتخار فن‘ کے ایوارڈ دیئے گئے جب ان کے شاگردوں کے بھی بہت جونیئر شاگرد اس ایوارڈ کے علاوہ اوپر کے مزید دودو تین اعلیٰ ایوارڈ بھی حاصل کر چکے تھے! کس کس بات کا نوحہ لکھا جائے!!
٭پاک فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے انکشاف کیا ہے کہ اس بار یوم پاکستان پر پاکستان کی افواج کے لئے جو ترانہ تیار کیا گیا تھا اسے بھارت میں ’چوری‘ کر لیا گیا ہے، بالکل وہی دُھن، وہی الفاظ، صرف پاکستان کی جگہ بھارت کا نام رکھ دیا گیا ہے۔ جنرل آصف غفور نے طنزاً کہا ہے کہ بھارت والوں کو پاکستان افواج کے سچ بولنے کی عادت بھی اپنا لینی چاہئے۔
 بھارت میں پاکستان کے ایک فوجی ترانے کی چوری نئی بات نہیں۔ پاکستان کے بہت سے فلمی گیت اسی موسیقی اور الفاظ کے ساتھ بھارتی فلموں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ انتہا یہ کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر گایا جانے والا صوفی تبسم کا ترانہ ’’وے میریا ڈھول سپاہیا، تینوں رب دیاں رکھاں‘‘ بالکل انہی الفاظ،  آواز اورموسیقی کے ساتھ بھارتی ریڈیو پر بھی پیش کر دیا گیا۔ اس ترانے میں پاکستان کا نام موجود نہیں اس لئے اس کے سرقہ میں آسانی ہو گئی۔ کچھ مختصر باتیں:۔
٭شیخ رشید: ’’ریلوے ٹریک کی حفاظت اللہ کرتاہے!‘‘ (میں تو صرف باتیں کرتاہوں)
٭فاروق ستار: ’’مجھے ایم کیو ایم سے کوئی نہیں نکال سکتا، میں پہلے ملک کے لٹیروں اور جاگیرداروں سے لڑتا تھا اب ایم کیو ایم کے لٹیروں، جاگیرداروں سے لڑ رہا ہوں!‘‘ (افسوس کہ بالکل اکیلا لڑ رہا ہوں)
٭15 اپریل2019، مزاحیہ شاعر استاد امام دین آف گجرات کا 149 واں یوم پیدائش:استاد کے چند دلچسپ اشعار ’’محبوب کے چہرے پہ زُلف یوں بَل کھا رہی ہے، جیسے مَجھ (بھینس) کُھرلی میں کَھل کھا رہی ہے …میری ماں نے پکائے مَٹَر امام دِینا! تُو کوٹھے تے چڑھ کے اکڑ امام دینا!…کھڑکی سے سر نکال کے بولا میرا محبوب!  بُھٹہ کھائو گے؟‘‘