07:53 am
ایک شکست کا معمہ!

ایک شکست کا معمہ!

07:53 am

 کیا وجوہات تھیں جن کی رو سے امریکہ نے ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل کیا ؟
 8 فروری 2019 ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر ذمہ دارانہ اور مضحکہ خیز اقدام میں ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب کو ایک بیرونی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ۔ یہ اقدام جو بین الاقوامی برادری کی طرف سے بے معنی اشتعال انگیز اور بلاجواز تھا ۔مشرقی وسطی کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا کر خطے میں نئے بحران پیدا کرنے کی راہ ہموار کی ہے ۔ ایرانی عوام جو امریکہ کے متکبرانہ پالیسی کے خلاف استقامت اور مزاحمت پر مبنی طویل تجربہ رکھتی ہے۔ امریکی صدر کے اس کارروائی کے رد عمل میں اپنا دکھ اور غصہ کو اظہار کیا ہے۔ 
 
   اب بین الاقوامی برادری کے اذہان میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب امریکہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے بہت محتاط انداز پالیسی اپنائی ہوئی تھی تو امریکی صدر نے یہ فیصلہ کیوں کیا ؟ حال آنکہ امریکہ کی دیگر انتظامی اور فیصلہ سازی کے اداروں نے سپاہ پاسداران کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے  میں اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا تھا ۔ بین الاقوامی اعتبار سے اس غیر قانونی فیصلے اور اقدام کے دلائل پر روشنی ڈالنے کے لئے کچھ وجوہات کا ذکر کرنا ناگزیر ہے۔
-1مداخلت پر مبنی امریکہ کی خارجہ پالیسی  1979 ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد خطے کیحالات کچھ تبدیل ہوگے۔ انقلاب اسلامی ایران سے متاثر ہوکر خطے میں کچھ تحریکیں منظر عام پر آگئیںجو نہ صرف امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف تھیں بلکہ خطے کے آمرانہ نظاموں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن رہی تھیں لہذا امریکہ کے جنگ طلب سیاستدانوں کے میز پر ایران میں اسلامی حکومت کو کمزور کرنے اور گرانے کا آپشن ہمیشہ برقرار رہا ۔گذشتہ 4 دہائیوں میں امریکی حکومت نے ہمہ وقت ایران کے مستقل اور غیر وابستہ اسلامی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ اس راہ میں امریکیوں نے متعدد ناپاک عزائم اور ہتھکنڈے اپنائے جس میں خلیج فارس سے منسلک ممالک میں کشیدگی اضافہ کرنا، ایران کے ساتھ تجارت اور مالی روابط روکنے کے لئے دوسرے ممالک پردباو بڑھانا اور ایران فوبیا کو ترویج دینا شامل تھا جبکہ یہ سب کچھ ناکام ہوتا نظر آتا ہے ۔
 امریکہ کو شام افغانستان اور یمن کے محاذوں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ لہٰذا ٹرمپ اور ان کے دیگر جنگ طلب مشیروں نے اس خفت  اور  ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو ان کی مسلسل شکستوں کی وجہ قرار دے کر اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا جو نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ حقیقت سے بہت دور بھی ہے ۔ ایران کے ایک قومی اہم عسکری اور دفاعی تنظیم پاسداران انقلاب کے چہرے کو مسخ کرنے کی امریکی کوششیں اسلامی جمہوریہ ایران کے خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت پر حملہ کرنے کے مترادف ہے ۔
-2 یکطرفہ پالیسی ۔ امریکی حکومت  گذشتہ سالوں میں ایران کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کے لئے کوشش کررہی ہے جس میں سپاہ پاسداران کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل اور انسانی حقوق کونسل کے ذریعے دہشت گرد قرار دینے میں متعدد ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں جس میں اس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب کو دوسرے ممالک کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل نہ کرنا عقل اور خرد کی علامت ہے کیوں کہ یہ ممالک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ ایک ملک کی دفاعی عسکری تنظیم کو دہشت گرد کہنا نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ یہ اقدام مستقبل کے لئے ایک غلط رویہ بن سکتا ہے جس کی وجہ سے کل دوسرے ممالک بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں، لہذا ایران کے خلاف دوسرے ممالک کو اپنے ساتھ کھڑا کرنے کی پالیسی میں ناکامی کی وجہ سے امریکی حکومت نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے خود تک وہ  تنہا اقدام کرنے پر گامزن رہا جو اپنے ملک میں بھی اس کی حمایت کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے ۔
 -3قانون کے مطابق،سپاہ پاسداران انقلاب ، ایران کے دفاعی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی خودمختار ملک اپنی سالمیت کے تحفظ کے لئے دفاع پر مبنی پالیسی بنا سکتا ہے اور اسے تقویت پہنچانے کے لئے اقدامات کرسکتا ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے سپاہ پاسداران کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ جو ایران کی دفاعی قابلیت کو کمزور کرنے کے درپے ہے یقینا یہ اقدام اقوام متحدہ کے 51 چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔ اس بین الاقوامی قانون کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لئے دفاعی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔  
 -4  مشروعیت۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی 1979 ء میں انقلاب اسلامی کی دفاع اور ان کی کامیابیوں کی حفاظت کے لئے معرض وجود میں آئی ۔ جہاں تک انقلاب اسلامی ایک عوامی تحریک تھی عوام ہی کی خواہش تھی کہ انقلاب اسلامی کے اقدار کی حفاظت کے لئے سپاہ پاسداران میں شمولیت اختیار کی جائے تاکہ انقلاب کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالا جائے اس لئے عوامی رضاکار فورسز بسیج مستضعفین کی شکل میں قائم ہوا جس میں عوام رضاکارانہ طور پر اس میں شمولیت اختیار کرتے تھے اور یہ سپاہ پاسداران کہ ایک عوامی رضاکار فورسز ہے ۔ آج اس عوامی رضاکار فورسز میں ساڑھے تین کروڑافراد ( ایران کی آبادی کا ادھا حصہ) شامل ہے ۔ امریکہ کی جانب سے سپاہ پاسداران اور اس تنظیم کے ذیلی اداروں کو دہشت گردقرار دینا ایرانی عوام کی توہین ہے ۔
-5 ترقی کا حق۔ اقوام متحدہ کے بیانیہ میں جس میں ترقی کا حق ( قرارداد 41/128  جو  بتاریخ 4  دسمبر 1989 ء اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں منظورہوئی ) بین الاقوامی عہد برائے سوشل، اقتصادی اور ثقافتی حقوق، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے مقاصد ادارے اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے مطابق انسانی ترقی بین الاقوامی براداری کا لازمی حق شمار ہوتا ہے جس کے مطابق ملک کے اقتصادی معاشرتی ثقافتی اور سیاسی ترقی کے لئے عوام کا حصہ لینا لازمی ہوتا ہے تا کہ ملک کا دفاع بھی یقینی بنایا جاسکے ۔
   ایران کے خلاف صدام کی مسلط کردہ 8 سالہ جنگ نے ایران کی اقتصادی صورت حال کو کمزور کیا۔ اس گھمبیر صورت حال میں سپاہ پاسداران نے ملک کی ترقی کا علم اٹھاتے ہوئے ملک کی ہمہ گیر ترقی کے لئے انتھک محنت کی جس  سے جنگ کی تباہ کاریوں کی تعمیر کے لئے خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرکا بنیاد رکھا گیا جس کا مقصد ملکی وسائل سے بھرپور فائدہ لیتے ہوئے ملک کے دفاعی اقتصادی اور معیشتی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ سپاہ پاسداران نے اس  ہیڈکوارٹر کے ذریعے ملک کے دور و دراز علاقوں میں ہزاروں ہسپتال، سکولز،پل ،ڈیمز اور عوام کیلئے گھر بنادیا ۔  مقصد درحقیقت دور دراز علاقوں میں احساس محرومی کا خاتمہ تھا ۔
   ایران کے خلاف غیر منصفانہ اور امتیازی رویہ پر مبنی اقتصادی اور مالی امریکی پابندیاں لگنے کے بعد جب اس کے اثرات ایران کی معیشت پر پڑنے لگے تب عوام کے لئے خاتم الانبیا  ہیڈ کوارٹرز کی اہمیت دوچندان ہوگئی ۔ اب اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دینے اور ساتھ ہی ایران کے خلاف سخت پابندیاں مسلط کرنے سے ایران کے حق ترقی پر کیا  اثرات مرتب ہو گے۔  (مضمون نگار:سفیر اسلامی جمہوریہ ایران ،اسلام آباد )