06:47 am
ریاض‘ استنبول‘ ابوظبی کی او آئی سی کانفرنسیں

ریاض‘ استنبول‘ ابوظبی کی او آئی سی کانفرنسیں

06:47 am

او آئی سی کے بارے میں تاثر یہ رہتا ہے کہ وہ مردہ گھوڑا ہے۔ اس کو ختم کر دینا چاہیے مگر ہماری نظر میں او آئی سی کچھ عمدہ کام بھی سرانجام دیتی ہے۔ ریاض میں حال ہی میں دہشتگردی کے خاتمے اور فروغ امن کے لئے او آئی سی کی ذیلی
او آئی سی کے بارے میں تاثر یہ رہتا ہے کہ وہ مردہ گھوڑا ہے۔ اس کو ختم کر دینا چاہیے مگر ہماری نظر میں او آئی سی کچھ عمدہ کام بھی سرانجام دیتی ہے۔ ریاض میں حال ہی میں دہشتگردی کے خاتمے اور فروغ امن کے لئے او آئی سی کی ذیلی فورم کے ہاں اتحاد بین المسلمین کیلئے بہت عمدہ اجتماع ہوا ہے۔ پاکستان سے ڈاکٹر طاہرالقادری کوان کے دہشت گردی کے خلاف فکری موقف اور فتوے کے سبب ریاض کے اجتماع میں معزز مہمان بنایا گیا ہے۔ امن  کو فروغ دیتے اس سعودی ماحول میں پاکستان سے بریلوی بالغ نظر موقف کی عمدہ پذیرائی پر اظہار اطمینان کرتا ہوں اگر ہوسکے تو ریاض کو بریلوی مسلک کے ساتھ ساتھ پاکستان سے کچھ  شیعہ علماء کو بھی حج اور عمرے کے لئے شاہی مہمان بنانا چاہیے یوں اتحاد  بین المسلمین کا سعودی مشن زیادہ بالغ نظر کہلائے گا۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد عبدالکریم العیسٰی کچھ عرصے پہلے اسلام آباد میں آئے اور پاک چائنہ سینٹر میں انہوں نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر143میں موجود تصور ’’امت وسط‘‘ کا نہایت عمدہ مفسرانہ اسلوب فکر پیش کیا تھا۔ میں سامعین میں موجود تھا۔ کاش ڈاکٹر محمد عبدالکریم العیسنی کے قرآنی اسلوب بیان کے فکر انگیز اس خطاب کا مکمل اردو ترجمہ اخبارات میں چھپ جاتا تو عوامی سطح پر رابطہ عالم اسلامی اور سعودی اہل فکر کے لئے زیادہ پذیرائی عملاً بھی طلوع ہوتی۔   جب بھی اہم حکمران سعودی شخصیت‘ وزیر یا امام کعبہ اسلام آباد میں موجود ہوتے ہیں  تو ’’مخصوص قسم‘‘ کے ابن الوقت‘ حریص‘ لالچی گروہ کے نرغے میں مقید و محبوس ہوتے  ہیں۔ یوں ان کی آمد کا اصل مقصد تو فوت ہو جاتا ہے۔ البتہ اسے مقید  و محبوس کرتے ’’گروہ‘‘ کے مادی و سیاسی اہداف پورے ہو جاتے ہیں۔
نیوزی لینڈ واقع کے سبب او آئی سی کی ایک کانفرنس ترکی میں صدر طیب اردوان کے ہاں استنبول میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میں ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی شریک ہوئے تھے۔ جبکہ اس سے پہلے ایک کانفرنس ابوظبی یعنی امارات کے دارالخلافہ میں منعقد ہوئی تھی۔ چونکہ ابوظبی میں منعقد ہوتی کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ سشماراج کو معزز مہمان کے طور پر مدعو کیاگیا تھا۔ لہٰذا ہمارے وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ کے مشورے اور مطالبے پر اس کانفرنس میں خود شرکت نہ کی۔ البتہ پاکستانی وفد ضرور ابوظبی میں موجود تھا۔ ان لمحوں مجھے اماراتی ذرائع نے بتایا تھا کہ شاہ محمود قریشی کی ذاتی  ملاقات اسلام آباد میں اماراتی سفیر حمد عبیدالزعابی کی وساطت سے صدر امارات اور ولی عہد سے طے تھی جبکہ ائیرپورٹ پر استقبال کے لئے اماراتی بھی موجود تھے مگر شاہ محمود نہ جاسکے جبکہ سشماسوراج کو بلانے پر شدید ردعمل پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ کی طرف سے اچانک سامنے آیا تھا۔ بالغ نظر نقطہ نظیر کی روشنی میں جن مقاصد کے لئے اماراتی حکومت نے سشماسوراج کو بطور مہمان اس کانفرنس میں بلایا تھا وہ مقاصد حسن نیت اور بھارتی مسلمانوں کے لئے خیر خواہی پر مبنی تھے اور بطور خاص کشمیریوں کی ہمدردی پر مبنی تھے۔
جبکہ اسلام آباد اور دہلی میں کشیدگی کے خاتمے  کی بھی ایک کوشش تھی‘ مگر اس اماراتی حسن نیت کو سمجھنے سے ہم قاصر رہے اور یوں ہم نے اس اماراتی ولی عہد کو بھی ناراض کرلیا جس کے اسلام آباد ائیرپورٹ پر استقبال کے لئے وزیراعظم خود گئے تھے اور ان کی کار کو خود ڈرائیو کیا تھا۔ افسوس زمانے کی تیز رفتار تبدیلیوں کو بالغ نظری سے دیکھنے کی ہم صلاحیت  پیش کرنے میں اکثر قاصر رہتے ہیں۔ سوال ہے کہ پارلیمنٹ کی قراردادیں ہمارے تعلقات بہت اچھے دوستوں کے ساتھ کیوں اکثر خراب کر دیتی ہیں؟ پلوامہ واقعے کے بعد اسی اماراتی ولی عہد محمد بن زید النہیان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تیزی سے نہایت فعال کردار ادا کرکے پاک بھارت جنگ مسلط کرتی فضا کو اعتدال دیا تھا۔اگرچہ روسی اور امریکی کردار بھی موجود تھا مگر جس تیزی سے اماراتی اور سعودی ولی عہدوں نے برصغیر میں امن کو تلاش کیا تھا اس کی تحسین کھل کر ہونی چاہیے۔ حال ہی میں امارات نے وزیراعظم مودی کو زید الہنیان ایوارڈ دیا ہے۔ اس پر بھی ہم ناراض ہیں مگر کیوں؟ جبکہ روس نے بھی مودی کو سینٹ اینڈریو ایوارڈ دیا ہے ۔ حضور سمجھئے کہ  یہ سب کچھ معیشت ہے اور سفارت کاری ہے۔ لہٰذا اس پر ہمیں ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پاک بھارت کشیدہ تعلقات کا جو جنگ پر مبنی ہوسکتے ہیں کا نیا خوفناک مرحلہ بھارتی انتخابات کے بعد طلوع ہونے والا ہے اس نازک مرحلے میں ہمیں اپنے عرب مخلص ترین دوستوں کی زیادہ مدد درکار ہوگی۔ امریکہ اور روس کی بھی لہٰذا جذبات‘ غصہ‘ اشتعال کو تھوک دیں اور سفارت کاری میں معیشت کے اہم ترین کردار کو سامنے رکھیں۔  امارات و سعودیہ کی کیا اہمیت ہے؟ ذرا اس کو یورپی فضا میں محسوس کریں۔
مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کو ہتھیاروں کی برآمد پر باقاعدہ پابندی ہے مگر جرمنی کو دیکھیں کہ جنگ یمن کے اہم فریق سعودیہ  و امارات کو خاموشی سے جرمن اسلحہ پہنچ رہا ہے۔ اس کو کہتے ہیں ریاستی حکمت و دانائی جبکہ جرمنی و امریکہ عربوں کی معاشی حیثیت  کے سبب ان کے دل و دماغ جیتنے میں مصروف رہتے ہیں۔ بلوچستان میں سعودی و امارات کی سرمایہ کاری اور مالی مدد سے ہماری معیشت بہتر ہوگی۔
 مگر کچھ انگریزی اخبارات میں دفاعی تجزیہ کار اس اشتراک کے خلاف کالم لکھ رہے ہیں مگر کیوں؟
علامہ اقبال تہران کومشرق کا جینوا دیکھنے کے متمنی تھے۔ ایران کے پاس تہران کے ساتھ ساتھ اصفہان بھی ہے جسے نصف جہاں کہا جاتا ہے۔ مسلکی طور پر مشہد شریف اور تعلیمی طور پر  قم نادر مراکز کہلاتے ہیں۔ ہماری تمام  ہمدردیاں‘ دعائیں مظلوم و مصیبت زدہ ایرانی بھائیوں کے لئے وقف رہیں گی کہ وہ بہت مظلوم‘ کمزور اور معاشی طور پر تباہ حال ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی حالت زار پر رحم فرمائے۔